الرأسمالية هي سبب الفقر في الأردن والقضاء عليه لا يكون إلا بالإسلام
الرأسمالية هي سبب الفقر في الأردن والقضاء عليه لا يكون إلا بالإسلام

الغد: عمان - اتفق خبراء اقتصاديون ضمنيا مع تقييم البنك الدولي حول فشل سياسات مكافحة الفقر في المملكة.

0:00 0:00
Speed:
April 13, 2016

الرأسمالية هي سبب الفقر في الأردن والقضاء عليه لا يكون إلا بالإسلام

الرأسمالية هي سبب الفقر في الأردن

والقضاء عليه لا يكون إلا بالإسلام

الخبر:

الغد: عمان - اتفق خبراء اقتصاديون ضمنيا مع تقييم البنك الدولي حول فشل سياسات مكافحة الفقر في المملكة.

ويرى هؤلاء بأنّ عدم وجود جهة واحدة مسؤولة عن وضع السياسات، إضافة إلى عدم الاعتماد على فرق مختصة ساهم في عدم وضع الحلول المناسبة لهذه المشكلة.

وذهب آخرون إلى أنّ الوضع الإقليمي الذي تعيشه المنطقة قلل من نمو الاقتصاد الأردني وتراجع الاستثمار الأجنبي، ما أدى إلى عدم خلق فرص عمل وزيادة البطالة وبالتالي الفقر.

وكانت مصادر موثوقة أكدت ارتفاع نسبة الفقر التي أظهرها المسح الميداني لدخل ونفقات الأسر للعام 2013 في المملكة لتصل إلى 20%، مقارنة مع 14.4% العام 2010 (وهو آخر رقم معلن رسميا من قبل الجهات الحكومية)، ما يعني أن معدل الفقر ارتفع محليا بنسبة تصل 5.5%.

كما كشف مسح الأمن الغذائي في الأردن للعام 2014/2013 أشار إلى أنّ هناك 6.2 ألف أسرة في المملكة غير آمنة غذائيا، مقارنة بـ 3.88 ألف أسرة في العام 2010 غير آمنة غذائيا.

 وقال المسح أنّ هناك 71.3 ألف أسرة تعتبر هشة نحو انعدام الأمن الغذائي، فيما هناك 1.1 مليون أسرة آمنة غذائيا.

التعليق:

يكثر المحللون من ذكر أسباب الفقر والعلاج ولكنهم يدورون في حلقة مفرغة، فما يظهر للعيان أن هناك أثراً إيجابياً لأسلوب أو خطة لمحاربة الفقر سرعان ما يفقد أثره ويعود الفقر إلى أسوأ مما كان وتزداد المديونية ويضعف النمو الاقتصادي، فقد أظهرت البيانات التي وزعتها الحكومة على أعضاء مجلس النواب تطورات الدين العام لنهاية عام 2015، أظهرت أن إجمالي الدين بلغ 24 ملياراً و677 مليوناً، وبلغت نسبة نموه مقارنة بنمو الناتج المحلي الإجمالي 90.9%.

أما السبب الحقيقي للفقر فهو تطبيق النظام الرأسمالي في الاقتصاد خاصة وفي مجالات الحياة عامة، فالنظام الاقتصادي قائم على الربا الذي جعل من الأردن دولة مدينة للبنك الدولي مدى الحياة، لا تستطيع سداد الفوائد الربوية فضلا عن رأس المال، وصار 90.9% من الناتج المحلي مرهونا للبنك الدولي، فالضرائب والرسوم بكافة أنواعها التي تسدد من جيوب أهل الأردن تصب في البنك الدولي، ولا تجد الدولة ما تنفقه على رعاياها إلا مزيدا من الديون ومزيدا من الربا الذي يمحق البركة ويستنزل غضب الله المنتقم الجبار، قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ * فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ﴾ [البقرة: 278-279]

والنظام الرأسمالي يؤدي إلى تهالك الطبقة المتوسطة في المجتمع حتى يقضي عليها فيصير المجتمع طبقتين؛ أقلية غنية تملك الثروة والسلطة، وأغلبية فقيرة خاضعة للأقلية الغنية، مما يعني مزيدا من الفقر والجوع.

والنظام الاقتصادي الرأسمالي يبيح خصخصة الأموال العامة واحتكارها مما يحرم معظم الناس منها ويؤدي إلى زيادة غنى مالكيها وتحكّمهم بعصب الحياة وفرض مفاهيمهم وقيمهم على المجتمع... وهذا بدوره يؤدي إلى عجز الدولة عن إدارة شؤون رعاياها، كما هو الحاصل في الأردن من بيع الدولة للأموال العامة من فوسفات وبوتاسيوم وغيرها من المعادن والثروات والماء والكهرباء والاتصالات وغيرها مما أدى إلى فقر الدولة وأضعف قدرتها على الإنفاق على شعبها واللجوء إلى مؤسسات النهب الدولية الممثلة في صندوق النقد والبنك الدوليين، مما زاد الفقر.

إضافة إلى الفساد المستشري في كافة المؤسسات من رأس الهرم حتى القاعدة في غياب المحاسبة، ونظرة إلى الأموال التي يملكها المتنفذون في الدولة توضح حجم الفساد.

وإذا ما أراد القائمون على الاقتصاد معالجة الفقر فلا يرون الحل إلا بمزيدٍ في الاقتراض الربوي، وإنفاق الأموال على مشاريع وهمية، أو إنفاقها على مشاريع غير منتجة، أو إنفاقها على البنية التحتية التي يستفيد منها المستثمر الأجنبي.

أما المشاريع المنتجة التي تتمثل في بناء الصناعة الثقيلة وصناعة الآلات فهذه لا يملك أصحاب القرار إقرارها أو الأمر بها، لأنهم لا يملكون إرادتهم السياسية المستقلة فهم مجرد موظفين لدى الغرب يعملون على فتح البلاد لتكون سوقا استهلاكية للمنتجات الغربية.

وإذا ما أنشأوا صناعات إنتاجية تكون صناعات خفيفة أو تحويلية يكون أصحابها أجانب يستفيدون من رخص الأيدي العاملة والمناطق الخاصة والإعفاء الضريبي فلا تجني الدولة وشعبها منهم غير شوك القتاد.

إن القضاء على الفقر لا يكون إلا بتطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي مدعوما بتطبيق الأنظمة الإسلامية الأخرى المتعلقة بالحكم والاجتماع والتعليم والخارجية، فأحكام الإسلام مرتبطة ببعضها كل حكم معلق بالآخر، ولا يمكن لحكم أن ينتج إلا بتطبيق الأحكام كلها معا فلا مجال للانتقائية ﴿أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [البقرة: 85]

أما كيف يقضي الإسلام على الفقر فذلك يكون بتطبيق أحكام الإسلام المتعلقة بأنواع الملكية كالملكية الخاصة ونظام النفقات والميراث والزكاة والطرق المشروعة وغير المشروعة للتملك والملكية العامة بإشراف الدولة عليها استخراجا وتصنيعا وتوزيع عوائدها على الرعية على شكل خدمات أو سلع. واهتمام الدولة بالصناعة خاصة صناعة الآلات والصناعة الثقيلة واهتمام الدولة بالزراعة واستغلال كل الأراضي ومنع ترك الأرض بدون استغلال أكثر من ثلاث سنوات..

اقتصاد الإسلام هو اقتصاد حقيقي بينما اقتصاد الرأسمالية اقتصاد وهمي طفيلي، فقد طبق الاقتصاد الإسلامي على مدى 13 قرنا لم تعرف البشرية خلالها الأزمات الاقتصادية من مديونية وفقر وتضخم، لكن البشرية عرفت كل الأزمات الاقتصادية على مدى 300 عام من عمر الرأسمالية.

ولا يمكن للأردن أن يقضي على الفقر إلا بالعودة إلى تطبيق شريعة الله التي أنزلها الله لتنظم حياة البشر وتعالج مشاكلهم، وشتان بين مناهج الأرض ومنهج الله الذي خلق الإنسان وهو أدرى بما يصلح له، قال تعالى: ﴿أَلا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾.

إن الفقر آفة من آفات المجتمع وجندي من جنود الله يرسله على الأمة التي تخرج عن طاعة الله والتزام أمره، والغنى نعمة من نعم الله يرسلها الله للأمة التي تؤمن بالله وتعمل صالحا، قال تعالى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ﴾ [الأعراف: 96]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست