الرأسمالية لعبت دورا كارثيا في تفاقم وباء كورونا
الرأسمالية لعبت دورا كارثيا في تفاقم وباء كورونا

الخبر:   كشفت عناوين الأخبار أن "دونالد ترامب تلقّى تحذيراً في نهاية كانون الثاني/يناير من أحد كبار مستشاريه بالبيت الأبيض بأن فيروس كورونا لديه القدرة على قتل مئات الآلاف من الأمريكيين وإفشال الاقتصاد الأمريكي، ما لم يتم اتخاذ إجراءات صارمة على الفور". (الجارديان)

0:00 0:00
Speed:
April 14, 2020

الرأسمالية لعبت دورا كارثيا في تفاقم وباء كورونا

الرأسمالية لعبت دورا كارثيا في تفاقم وباء كورونا

(مترجم)

الخبر:

كشفت عناوين الأخبار أن "دونالد ترامب تلقّى تحذيراً في نهاية كانون الثاني/يناير من أحد كبار مستشاريه بالبيت الأبيض بأن فيروس كورونا لديه القدرة على قتل مئات الآلاف من الأمريكيين وإفشال الاقتصاد الأمريكي، ما لم يتم اتخاذ إجراءات صارمة على الفور". (الجارديان)

التعليق:

بعد يومين من كشف الإصابة الأولى في ولاية واشنطن، ظهر دونالد ترامب على الهواء على قناة سي إن بي سي وتفاخر قائلا: "إن الوضع تحت السيطرة تماماً. إنه شخص واحد قادم من الصين. وسيكون كل شيء على ما يرام". وما إن جاء الـ29 من شباط/فبراير، وبعد ما يقرب من ستة أسابيع من تأكيد أول حالة فيروس كورونا في البلاد، وضعت إدارة ترامب هذه النصيحة موضع التنفيذ، وسمحت للمختبرات والمستشفيات أخيراً بإجراء اختبارات خاصة بها لتسريع العملية. إن الأربعة إلى الستة أسابيع الضائعة في مواجهة المرض ستكون لها عواقب مدمرة تدل على السياسة الفاشلة، حيث إنه مؤخرا تم تأكيد أكثر من 400 ألف حالة عبر الولايات المتحدة.

وقال رون كلاين، الذي قاد معركة مكافحة إيبولا في عام 2014، أمام لجنة في جامعة جورج تاون مؤخراً: "ستدرس استجابة الولايات المتحدة لوباء كورونا لأجيال كمثال على جهود فاشلة وفاسدة"، وأضاف "ما حدث في واشنطن كان فشلا ذريعا بأبعاد لا تصدق". جيريمي كونيندسيك، الذي قاد استجابة الحكومة الأمريكية للكوارث الدولية في الوكالة الأمريكية للتنمية الدولية في الفترة من 2013 إلى 2017، يحدد الأسابيع الستة الماضية بعبارات مماثلة بشكل لافت للنظر. وقال لصحيفة الغارديان: "نشهد في الولايات المتحدة واحدة من أكبر إخفاقات الحوكمة والقيادة الأساسية في العصر الحديث". وقد تحدث الرئيس، الذي كان لديه أكثر من نصف العين على بورصة نيويورك، تحدث باستمرار عن حجم الأزمة. وفي 30 كانون الثاني/يناير، وبينما كانت منظمة الصحة العالمية تعلن حالة طوارئ عالمية، قال ترامب: "ليس لدينا سوى خمسة أشخاص. نأمل أن يكون كل شيء رائعاً".

على مدى فترة أسبوعين عاديين، كنا نتوقع تقديم حوالي نصف مليون عامل أمريكي مطالبات للتأمين ضد البطالة. ولكن على مدى الأسبوعين الماضيين، رأينا ما يقرب من 10 مليون ملف. إن الولايات المتحدة تواجه كارثة اقتصادية لا تصدق كما هو الحال في بقية العالم. والسؤال هو ما إذا كانوا مستعدين للتعامل مع هذه الكارثة؟ تشير الدلائل إلى أن العالم الرأسمالي بأسره قد يتعامل مع كارثة اقتصادية سريعة الحدوث بنفس السوء الذي تعامل به مع الوباء السريع الانتشار الذي سببها. الأخبار هي أن قانون كيرس بـ2 تريليون دولار (قانون فيروس كورونا، والمعونة والإغاثة والأمن الاقتصادي) الذي مرره الكونغرس الأسبوع الماضي، يوفر، على الورق، الكثير من دعم الحياة الاقتصادية. والأخبار السيئة هي أنه يبدو كما لو أنه قد يستغرق أسابيع، وربما حتى شهور، قبل تدفق مبالغ كبيرة من الأموال لأولئك الذين يحتاجون إلى المساعدة في الوقت الحالي.

كزعيم لأمة ديمقراطية، فإن دونالد ترامب قد فشل. فالنظام الرأسمالي الذي يركز على الفرد ويدير ظهره للمحتاجين سبّب هذا الفشل. وكان نواب الكونجرس الأمريكي يدركون أن الخطر قادم ولكنهم باعوا ملايين الدولارات من أسهمهم وأسهمهم المحتملة قبل أن تهبط سوق الأسهم الأمريكية إلى أدنى مستوى تاريخي لها. حيث إنهم تلقوا إحاطات لجنة مجلس الشيوخ حول خطر كوفيد-19، بيد أنهم أبلغوا البلاد أن كل شيء تحت السيطرة عندما لم يكن الأمر كذلك. وقالت صحيفة نيويورك تايمز عن النواب الجبناء: "كان بإمكانهم أن يحدثوا فرقا، ولكنهم حققوا أرباحا!". هذه هي قصة كل بلد يدير شؤونه النظام الرأسمالي الذي من صنع الإنسان، فالرأسماليون يستغلون الناس والديمقراطية لنزواتهم بغض النظر عن التكلفة، وفي سياق الجائحة الحالية فإنه كالعادة لم يتم فعل سوى القليل جدا للناس باستثناء تحقيق الربح لنخبة قوية من 2-3٪ من العالم.

لقد تعامل الرأسماليون مع هذه القضية على ثلاث مراحل؛ الأولى هي إخفاء الموضوع، والثانية هي الحجر الصحي والإغلاق الجزئي، والثالثة هي العزلة الكاملة تقريباً في المنازل. من خلال تنظيم هذه العلاجات الثلاثة، اتضح أنها لا تحل المشكلة، بل تزيد من فشل الاقتصاد أكثر، ثم تزيد من هذا المرض والملل ونفاد الصبر الذي يصيب الناس، كما سمعنا عن حالات في جميع المجتمعات الرأسمالية.

لذلك فإن العلاج الصحيح لهذا المرض هو كما جاء في شريعة الله؛ أن تتابع الدولة المرض من بدايته وتبذل قصارى جهدها وتقدم كل مواردها لحصر المرض في أصله، ويستمر الأصحاء في المناطق والمدن الأخرى بالعمل والإنتاج.

جاء في الحديث الذي رواه البخاري عن أسامة بن زيد أن النبي r قال: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا». فعلى الدولة في الإسلام أن تحصر المرض في مكانه ويجب على سكان المنطقة البقاء فيها، ويمنع دخول الآخرين عليهم، وأن تقوم بواجباتها الشرعية لأنها دولة رعاية وإخلاص.

وهكذا، فإن الإجراء الصحيح هو عزل المرض المعدي في مكانه وحجر المرضى وتوفير المتابعة مع الرعاية والعلاج مجانا، بينما الأصحاء يستمرون في العمل وتستمر الحياة الاجتماعية والاقتصادية على عكس الحياة المشلولة اليوم. لا أن يبقى الناس معزولين في منازلهم مما يتسبب في شل الحياة الاقتصادية، مما يزيد من حدة الأزمة وتنشأ مشاكل أخرى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عادل

#كورونا          |        #Covid19     |         #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست