الرأسمالية ترهق المرأة اليابانية بالعمل حتى الموت (مترجم)
الرأسمالية ترهق المرأة اليابانية بالعمل حتى الموت (مترجم)

الخبر: نشرت جابان تايمز والعديد من وسائل الإعلام الدولية تكرارا قضية انتحار ماتسوري تاكاهاشي (24)، التي كانت تعمل موظفة لوكالة إعلانات يابانية كبرى، شركة دنتسو، في كانون الأول/ديسمبر 2015. ووصفت هذه القضية بأنها "الموت بسبب الإفراط في العمل"، أو ما يسمى "كاروشي"، بعد أن تبين أن ظروف العمل القاسية قد سببت لها الاكتئاب. وجاء التوصيف في 30 أيلول/سبتمبر 2016 من قبل مكتب تفتيش معايير العمل في ميناتو وارد في طوكيو.

0:00 0:00
Speed:
October 24, 2016

الرأسمالية ترهق المرأة اليابانية بالعمل حتى الموت (مترجم)

الرأسمالية ترهق المرأة اليابانية بالعمل حتى الموت

(مترجم)

الخبر:

نشرت جابان تايمز والعديد من وسائل الإعلام الدولية تكرارا قضية انتحار ماتسوري تاكاهاشي (24)، التي كانت تعمل موظفة لوكالة إعلانات يابانية كبرى، شركة دنتسو، في كانون الأول/ديسمبر 2015. ووصفت هذه القضية بأنها "الموت بسبب الإفراط في العمل"، أو ما يسمى "كاروشي"، بعد أن تبين أن ظروف العمل القاسية قد سببت لها الاكتئاب. وجاء التوصيف في 30 أيلول/سبتمبر 2016 من قبل مكتب تفتيش معايير العمل في ميناتو وارد في طوكيو.

ووفقا لعائلتها وأحد المحامين، فإن تاكاهاشي بدأت العمل في دنتسو في نيسان/أبريل 2015، وأسندت إليها مهمة تتعلق بالإعلان على شبكة الإنترنت في حزيران/يونيو. وقد تضاعف عبء عملها بشكل حاد في شهر تشرين الأول/أكتوبر بعد أن أنهت فترة الاختبار، مما أدى بها للعمل حوالي  105 ساعة إضافية في الشهر، وهو وقت أطول بكثير من الحد المقرر بموجب اتفاق بين العمال والإدارة.

حالات الانتحار بسبب الإفراط في العمل هي في دائرة الضوء في اليابان. ووفقا للبيانات الصادرة عن مكتب تفتيش العمل، كانت هناك خلال السنة المالية 2015 محاكمة واحدة و93 حالة انتحار بسبب ضغط العمل هذا، كما جاء في تقرير صحيفة أساهي شيمبون.

التعليق:

في الواقع تحتقر الرأسمالية منذ نشأتها النساء وتعاملهمن معاملة العمالة الرخيصة أو كعوامل إنتاج. وتترجم قمة دور المرأة فقط إلى لغة الاقتصاد أي كيفية إنتاج المواد وتوليد الأرباح للشركات الرأسمالية، بما في ذلك هذه الحالة التي تتعلق بشركة الإعلانات العملاقة دنتسو في اليابان.

من ناحية أخرى فإن الطموح في النمو الاقتصادي - يجعل السلطات اليابانية تضحي بنسائها ببساطة لأنهم ينظرون إليهن باعتبارهن مجرد عمال ومحركاً للنمو الاقتصادي، وليس كأمهات لأجيال المستقبل وعرض يجب أن يصان. ونتيجة لذلك أصبحت المرأة في اليابان معرضة جدا لأن تكون ضحية للظروف الثلاثة التالية دفعة واحدة، وهي: التدفق السريع لنمط الحياة المادية الرأسمالية، وسياسة العمل الرأسمالية المجحفة، وغياب دور الدولة في حماية حقوقهن كعمال فضلا عن كونهن رعايا.

مشاكل العمال في معظم البلدان الرأسمالية لها نمط معين من الاستغلال الذي لا يبعد كثيرا عن ثلاثة أشكال: (1) ساعات العمل الطويلة، وتقريبا دون فترات راحة كافية، و(2) تدني الرواتب، والتي غالبا لا تدفع في الوقت المحدد، و(3) الإجراءات التعسفية من أرباب العمل الذين يقومون بالاعتداء عليهم جسديا وجنسيا. كل هذه القضايا تنبع فعلا من مشكلة العمل التي واجهتها دائما البلدان التي تطبق الرأسمالية.

إن النموذج الإسلامي يتناقض تناقضا صارخا مع الرأسمالية، فالإسلام يحافظ فعلا على هذه العلاقة الإنسانية السامية بين دور المرأة في الأمومة ونوعية جيل المستقبل، من خلال ضمان بقاء طبيعة الأمومة فعالة في المجتمع وضمان استدامة ولادة أفضل نوعية لجيل المستقبل من خلال دعم التعليم والنظام الاجتماعي والاقتصادي للحضارة الإسلامية، وفي الوقت نفسه الحفاظ على ضمان حقوق المرأة في التعليم وحقوقها الاجتماعية والسياسية والاقتصادية. إن التمكين الأساسي للنساء في الإسلام هو تحقيق دورهن الأمثل كحارسات للحضارة ومربيات للأجيال المقبلة، وليس بوصفهن قوى عاملة. ورد في كتاب مقدمة الدستور تحت "النظام الاجتماعي" النص التالي: "الأصل في المرأة أنها أم وربة بيت وهي عرض يجب أن يصان".

ويأمر الإسلام بأن تكون نفقة المرأة دائما مضمونة من قبل أقاربها الذكور، وإذا لم يكن لديها أي قريب من الذكور، فإن الدولة ستضمن احتياجاتها المالية، كما جاء في قول الله سبحانه وتعالى، ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ﴾.

إن الخلافة على منهاج النبوة سوف تحمي المرأة من الاستغلال وفي الوقت نفسه ستكون قادرة على إيجاد نظام اقتصادي ينمو بشكل سليم ويكون منتجا وقادرا على التغلب على البطالة الجماعية، وضمان تلبية الاحتياجات الأساسية للرعايا، وتمكين الأفراد من الحصول على الرفاهية. ويكون أساس سياسته موجهاً نحو السعي للحصول على التوزيع الفعال للثروة لضمان توفير الاحتياجات الأساسية لجميع الرعايا، وهذا بالتالي يمنع التجريد الشامل للمرأة من الإنسانية. كما أنه سيمكن الرجال من الوفاء بالتزاماتهم في توفير النفقة لأسرهم، وفي الوقت نفسه تكون الدولة ملزمة بالنفقة على النساء اليتيمات اللواتي ليس لديهن أقارب من الذكور ينفقون عليهن.

قريبا - بإذن الله - سيضيء نور الإسلام في اليابان ، محررا نساءها من التجريد من الإنسانية والإذلال الناتج من الأيديولوجية الرأسمالية الخاطئة والقيم العلمانية الفاسدة. دعونا نكافح ونناضل من أجل إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بقيادة خليفة؛ قائد مخلص، الذي من شأنه أن يرفع العبء الاقتصادي الثقيل جدا من على ظهور المسلمين وغير المسلمين، ويضعها على كتفيه القويتين ويطبق نظام الإسلام، إن شاء الله!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست