الرأسمالية وأزمة المخدرات الدائمة (مترجم)
الرأسمالية وأزمة المخدرات الدائمة (مترجم)

الخبر: اكتسبت الحرب الشاملة على المخدرات التي يشنها الرئيس الفلبيني رودريغو دوتيرتي اهتمامًا وانتقادًا دوليين. كما ذكر مراسل آسيوي، أنه قد قتل نحو 1466 شخصًا في عمليات الشرطة الوطنية الفلبينية. وفي هذه الأثناء، قتل 1490 شخصًا آخرين على يد مجموعة سمح لها قانونيًا أن تنفذ القانون بيديها. وكلهم قد ماتوا خلال الشهرين الماضيين بعد أن أُعلنت الحرب الشاملة على المخدرات.

0:00 0:00
Speed:
September 25, 2016

الرأسمالية وأزمة المخدرات الدائمة (مترجم)

الرأسمالية وأزمة المخدرات الدائمة

(مترجم)

الخبر:

اكتسبت الحرب الشاملة على المخدرات التي يشنها الرئيس الفلبيني رودريغو دوتيرتي اهتمامًا وانتقادًا دوليين. كما ذكر مراسل آسيوي، أنه قد قتل نحو 1466 شخصًا في عمليات الشرطة الوطنية الفلبينية. وفي هذه الأثناء، قتل 1490 شخصًا آخرين على يد مجموعة سمح لها قانونيًا أن تنفذ القانون بيديها. وكلهم قد ماتوا خلال الشهرين الماضيين بعد أن أُعلنت الحرب الشاملة على المخدرات.

إن هذه الحرب المستعرة في الفلبين في الحقيقة ليست شيئًا جديدًا في دول رابطة أمم جنوب شرق آسيا. فقد أفادت التقارير بأن إندونيسيا وسنغافورة وماليزيا وفيتنام قامت بتنفيذ عقوبة الإعدام بشكل روتيني على المجرمين المرتبطين بالمخدرات خلال السنوات الخمس الماضية. وتعاني دول جنوب شرق آسيا من نسب مرتفعة في معدل تهريب المخدرات. وتُعرف منطقة ميانمار وتايلاند ولاوس باسم "المثلث الذهبي" فهي تزود جميع أنحاء العالم بنحو 30٪ من مواد الأفيون الخام.

وقد اتفقت جميع دول رابطة أمم جنوب شرق آسيا في عام 1998 على إعلان المنطقة منطقة خالية من جرائم المخدرات بحلول عام 2015. ومع ذلك، فقد أظهرت بيانات مكتب الأمم المتحدة لمكافحة المخدرات والجريمة اتجاهًا مغايرًا: فقد تضاعف تهريب المخدرات أضعافًا كثيرة. في الواقع تضاعف إنتاج الأفيون والهيروين في منطقة المثلث الذهبي ثلاثة أضعاف في العام الماضي مقارنة بعام 2008. أما بخصوص إندونيسيا، فقد أظهرت بيانات الشرطة الوطنية الإندونيسية أن حالات جرائم المخدرات ترتفع سنويًا بنسبة 13.6 في المئة.

التعليق:

أصبحت المخدرات في هذا العصر الحديث أزمة دائمة، لأن هناك طلبًا مستمرًا عليها، أي من أجل إشباع متع الناس اليائسين في ظل حضارة اليوم العلمانية. فالمخدرات، بالإضافة إلى أن ديمومتها تعود إلى النظام الاقتصاد الرأسمالي، فإن هذه التجارة التي تقدر بالملايين تنمو وتتوسع بسبب القيم العلمانية التي تشجع على نحو دائم الحرية المطلقة داخل المجتمعات، وفي الوقت نفسه تنشر اليأس والبؤس بوصفها مفاهيم تنزع الصفات الإنسانية في كل مكان. نعم، لقد حافظت المجتمعات المتسامحة والمكتئبة والتي تقوم على أساس إشباع المتع والرغبات بالإضافة إلى الجرائم والبيروقراطية الفاسدة على توفر الطلب الدائم على المخدرات.

ولهذا السبب فقد قام دوتيرتي باتخاذ خطوات متطرفة وشرع في خوض حرب عمياء لمكافحة المخدرات في بلاده في الوقت الذي بلغ فيه يأسه مبلغه من حجم المشكلة وتأثيرها على المجتمع في بلاده. ومع ذلك، فإن دوتيرتي وجوكوي وغيرهم من قادة دول جنوب شرق آسيا يتعاملون، في الواقع، مع حلقة خبيثة يصعب كسرها والتخلص منها وخصوصًا من القيم الأساسية ونظام الحضارة. وتعود جذور المشكلة كلها لطبيعة المبدأ الرأسمالي المتطرف. وتتميز الحضارة الغربية بثلاثة أمور: العلمانية، والواقعية، وإشباع الرغبات – كما شرح ذلك العلامة تقي الدين النبهاني رحمه الله – والتي نقلت نفس الخصائص لواقع الحياة في مجتمعات دول جنوب شرق آسيا، بالإضافة إلى نتائجها المدمرة المباشرة.

والنزعة الفردية المتطرفة، وهي ثمرة العلمانية الخبيثة، قد أنتجت جيلًا متصدعًا فكريًا، فارغًا روحيًا، جيلًا فشل في فهم واقع الحياة وكذلك لا يملك تصورًا حقيقيًا صادقًا عنها. وهذا الجيل عرضة للافتتان بأسلوب الحياة الغربية التي تقوم على المتع والمصالح الذاتية، وبالتالي هو أيضًا قد أصبح فريسة سهلة للوقوع في بؤر الإجرام المتعددة. وقد سمى ذلك الأستاذ الماليزي، الأستاذ الدكتور محمد كمال حسن، باسم "متلازمة شيكاغو"؛ متلازمة الحضارة الغربية وأعراضها "وجود تقدم اقتصادي ولكن المعاناة من دمار حضاري".

ولذلك، فإنه يجب على شعوب جنوب شرق آسيا أن تتخلص من تطرف القيم الليبرالية والتعصب العلماني، و(الإرهاب) الرأسمالي. فقد أصبح المبدأ الرأسمالي "حزامًا ناقلًا" لكبار زعماء العصابات وتجار المخدرات. ولا يبلغ عدد ضحايا هذا المبدأ العفن المئات أو الآلاف، بل الملايين - وهذا هو بالضبط التهديد الحقيقي لمجتمعنا ولأجيال شبابنا القادمة.

ويجب ألا يصاب بالذعر قادة البلاد الإسلامية في جنوب شرق آسيا، ويقوموا باتخاذ خطوات متطرفة كما فعل دوتيرتي، وعليهم ألا يتبنوا "سياسة اجتثاث التطرف" بشكل أهوج أعمى ومن ثم يوجهونها ضد الإسلام، ولكن على العكس من ذلك، فإنه يجب عليهم أن يقوموا بشكل جدي باجتثاث التطرف من مجتمعهم من خلال اجتثاث القيم الرأسمالية العلمانية الخطيرة.

وهذه الجهود لا يمكن أن تتكلل بالنجاح إلا من خلال الإسلام، وعندها لن تكون هناك حاجة لإنفاق ملايين الأموال على أبحاث علمية حول كيفية التخلص من المخدرات، فالإسلام كاف بل وأكثر من ذلك. فقد قال سيد قطب رحمه الله: "الإسلام يقضي على العادات المتأصلة في المجتمعات الجاهلية ببضع صفحات من القرآن الكريم".

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست