الرأسماليون يشعرون بالغيرة من الجهود الصينية المبذولة للتعامل مع تفشي فيروس كورونا
الرأسماليون يشعرون بالغيرة من الجهود الصينية المبذولة للتعامل مع تفشي فيروس كورونا

الخبر: ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية أن مدينة ووهان الصينية من المقرر أن تبني مستشفى في غضون ستة أيام لعلاج المرضى الذين يشتبه في إصابتهم بفيروس كورونا. بدأ تفشي المرض في ووهان، وهي مدينة يقطنها حوالي 11 مليون شخص. وقد امتلأت المستشفيات في هذه المدينة بالسكان القلقين حيث إنّ الصيدليات خلت من الأدوية.

0:00 0:00
Speed:
January 30, 2020

الرأسماليون يشعرون بالغيرة من الجهود الصينية المبذولة للتعامل مع تفشي فيروس كورونا

الرأسماليون يشعرون بالغيرة من الجهود الصينية المبذولة
للتعامل مع تفشي فيروس كورونا
(مترجم)


الخبر:


ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية أن مدينة ووهان الصينية من المقرر أن تبني مستشفى في غضون ستة أيام لعلاج المرضى الذين يشتبه في إصابتهم بفيروس كورونا.


بدأ تفشي المرض في ووهان، وهي مدينة يقطنها حوالي 11 مليون شخص. وقد امتلأت المستشفيات في هذه المدينة بالسكان القلقين حيث إنّ الصيدليات خلت من الأدوية.


وفقاً لوسائل الإعلام الحكومية، سيتّسع المستشفى الجديد لحوالي 1000 سرير. وتُظهر لقطات من الفيديو الذي نشرته وسائل الإعلام الحكومية الصينية على الإنترنت الحفارين في موقع البناء بالفعل، وتبلغ مساحة هذا الموقع حوالي 25000 متر مربع (269000 قدم مربع). وهو يستند إلى مستشفى مشابه أقيم في بكين للمساعدة في التصدي لفيروس سارس في عام 2003.


يقول يانزونغ هوانغ، وهو عضو قديم للصحة العالمية في مجلس العلاقات الخارجية: "الصين لديها تاريخ في إنجاز الأمور بسرعة حتى بالنسبة للمشاريع الضخمة مثل هذه".


وهو يشير إلى أن المستشفى في بكين في عام 2003 تم بناؤه في سبعة أيام، لذلك ربما يحاول فريق البناء التغلب على هذا السجل. تماماً مثل المستشفى في بكين، سيتم إنشاء مركز ووهان من المباني الجاهزة.


"يعتمد هذا البلد الاستبدادي على نهج التعبئة من أعلى إلى أسفل. ويمكنه التغلب على الطبيعة البيروقراطية والقيود المالية، ويمكنه تعبئة جميع الموارد... العمل الهندسي هو ما تجيده الصين. لديهم سبق في بناء ناطحات السحاب سريعاً. هذا من الصعب للغاية بالنسبة للغرب أن يتخيله، بل يمكن القيام بذلك".

التعليق:


إنه لأمر مثير للصدمة فعلا أن تسمع شعوب الدول الرأسمالية عن أي مشروع بناء أو تطوير كبير يتم إنجازه في شهور بدلاً من سنوات، ناهيك عن أسبوع. لقد اعتاد الناس على رؤية التنافس والتسابق بين مصالح الرأسماليين الذين يعيقون التقدم، إلى درجة أنهم لا يستطيعون تخيل أنه من الممكن أن تعمل الإنسانية معاً من أجل هدف مشترك.


في بريطانيا، والتي هي في حال لا تحسد عليه الآن، تعتمد الرعاية الصحية الوطنية على مباني المستشفيات المتداعية ولا يأمل الناس أبداً بأن الحكومة ستهتم بهم على الإطلاق، أو أنها حتى ستكون قادرة على تنظيم بناء مستشفيات بديلة حتى في أي سرعة. وهم يشهدون حالياً المشاحنات وسوء إدارة خط السكة الحديدية السريع الذي يربط شمال البلاد، والذي من غير المتوقع أن يتم الانتهاء منه في غضون عقدين، إن تمّ الانتهاء منه فعلا.


تعد بريطانيا خامس أكبر اقتصاد في العالم، في حين إنّ الحصول على الثروة ليس هو العقبة الرئيسية التي تقف في طريق هذا التقدم؛ بل هي الرأسمالية. إذا كانت هناك إرادة سياسية لتنفيذ مشروع لصالح الشعب، وهو أمر كبير إذا كان في الغرب، فإن الشجار والتنافس بين الرأسماليين، بدافع الجشع والتصميم على استغلال الوضع حتى آخر قرش، إلى جانب الفساد الواقع، يعني أن المشروعات تتأخر إلى ما لا نهاية، حيث يتم السعي للحصول على مزيد من التمويل لدفع التكاليف المتزايدة التي لم تؤخذ في الحسبان في العقد الأصلي. هذه هي قصة البناء في المجتمع الرأسمالي، تنهار بسبب الغيرة والتنافس بين النخبة الرأسمالية.


لم يستطع مقال بي بي سي إخفاء حسده، لأنه حاول أن يوضح أن الطبيعة الاستبدادية للحكومة الصينية وحدها هي التي تجعل مثل هذه المشاريع ممكنة. ومن المفارقات أن جورج سوروس استخدم خطاب دافوس هذا الأسبوع لاتهام كل من الصين وأمريكا بأنهما حكومات استبدادية.


يجب ألا يشعر المسلمون بالقلق من فشل الغرب ومحاولاته الإساءة إلى خصومه. إن المشاحنات البسيطة للرأسماليين، أينما كانوا، تكشف تماما نظامهم العاجز عن مراعاته للطبيعة البشرية. حيث إنه متى أتيح للإرادة السياسية بتحقيق هدف وتغييب الرأسماليين الغيورين الذين يعملون بقوة ضد الصالح العام، يمكن تحقيق تنمية كبيرة بسرعة، في أسابيع وشهور، وليس في سنوات وعقود.


من المتوقع أن تتوافق الخلافة القادمة مع وتيرة التنمية الصينية، بل إن الخليفة هو في المقام الأول خادم عند الرعايا، وليس للحزب الذي ينتمي إليه، ولا للشركات الرأسمالية. على عكس ما يقال عن الخليفة المسلم بأنه ديكتاتور ديني يترأس نظاماً سلطوياً، حيث يتم انتخاب رئيس الدولة في انتخابات مفتوحة شفافة ويكون مسؤولاً بشكل مباشر عن جميع أفعاله تجاه الرعايا. وتتمّ المحاسبة من خلال وجود مجتمع واع وأحزاب سياسية فاعلة، ووجود مؤسسات قوية، بما في ذلك المحاكم المستقلة، وكذلك وجود قيم قوية لرعاية جميع الناس، وليس فقط من أجل النخبة الثرية، كما هو الحال في كل من الشرق والغرب الرأسمالي اليوم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
يحيى نسبت
الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

#كورونا

#Corona

#Covid19

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست