الربيع العربي بعد 6 سنوات
الربيع العربي بعد 6 سنوات

كانون الثاني/يناير 2017 هو الذكرى السادسة للربيع العربي الذي أطاح بعدد من الحكام الذين كانوا في السلطة لعقود. لقد كان هناك الكثير من التفاؤل في تلك الأيام عندما هرب بن علي بالطائرة وأطيح بحسني مبارك رئيس جمهورية مصر...

0:00 0:00
Speed:
January 20, 2017

الربيع العربي بعد 6 سنوات

الربيع العربي بعد 6 سنوات

(مترجم)

الخبر:

كانون الثاني/يناير 2017 هو الذكرى السادسة للربيع العربي الذي أطاح بعدد من الحكام الذين كانوا في السلطة لعقود. لقد كان هناك الكثير من التفاؤل في تلك الأيام عندما هرب بن علي بالطائرة وأطيح بحسني مبارك رئيس جمهورية مصر، بعد أسابيع من الاحتجاجات. ولكن في الذكرى السادسة لم تعط وسائل الإعلام في العالم سوى تغطية محدودة للأحداث غير المسبوقة التي وقعت في المنطقة. لقد كانت السنوات الست الماضية طويلة ومؤلمة وقد غلّفت مجزرة حلب، في كانون الأول/ديسمبر عام 2016، حالة الغضب التي تعاني منها شعوب المنطقة. لقد تم استبدال التشاؤم بالتفاؤل.

التعليق:

لم يحدث تغيير حقيقي في أي من البلدان التي حدثت فيها الثورات. فعدم وجود رؤية وجدول أعمال على المدى الطويل كان يعني عدم وجود خطة للجماهير لاتباعها. ويمكن فهم الأسباب التي أدت إلى ذلك، حيث إن بلداناً مثل سوريا وليبيا لم تكن لديها معارضة حقيقية، في حين إن المعارضة في كل من مصر وتونس كانت مجرد واجهة. ونتيجة لذلك انصبّت الانتفاضات الجماهيرية نحو إزالة الحكام واقتصر تركيزها على ذلك. ثم نشأت بعد ذلك مشكلة حول ما يجب القيام به بعد أن تمت الإطاحة بالحكام، مما أدى إلى لجوء بلدان مثل مصر وتونس وليبيا إلى الأنظمة القائمة نفسها للمضي للأمام، والتي كانت هي المشكلة في المقام الأول. قاد الحكام في الشرق الأوسط اقتصادات المنطقة إلى الإفلاس، واستخدموا الطائفية للإبقاء على قبضتهم، وأوجدوا آفاقاً ضيقة للمجتمع على المديين المتوسط والطويل الأجل. لقد فشل الشعب في اقتلاع الأنظمة من جذورها، وكان هذا هو السبب في تغيير الوجوه فقط.

في كثير من البلدان التي أطيح فيها بالحكام تحولت المجموعات المختلفة ضد بعضها الآخر، ممّا أدى إلى اشتعال حروب أهلية في بعض الحالات. في ليبيا، تجتاح الفوضى وعنف المليشيات البلاد، وتهدد الإضرابات باضطراب اقتصاد النفط، والعنف آخذ في الارتفاع، والركود الاقتصادي منتشر في كل مكان. اليوم ثلاث حكومات متنافسة موجودة هناك تتطلع لفرض إرادتها على الأمة. وفي سوريا، أدى دعم الغرب للفصائل المسلحة المعتدلة ضد الفصائل المسلحة الأخرى إلى قتال الفصائل المسلحة بعضها بعضاً. ولم يؤدِّ دخول تنظيم الدولة سوى إلى التعقيد في الساحة السورية. وفي اليمن، خرج الحوثيون، الذين تم تهميشهم لفترة طويلة من قبل حكومة صالح، إلى الشوارع للإطاحة به. ولكن عندما تم استبدال أحد رجالاته به ومن ثم تهميشهم من قبل حكومة هادي، خرج الحوثيون إلى شوارع العاصمة - صنعاء وأسقطوا الحكومة. وحاليا يتم تمزيق البلاد، حيث تدعم الأغلبية في الجنوب الحكومة القديمة بينما يسيطر الحوثيون على الشمال. لقد تم الآن استبدال التفاؤل نحو التغيير الحقيقي بالتشاؤم والعنف وعدم الاستقرار - بعيدة كل البعد عن التطلعات الإيجابية التي كانت قبل 6 سنوات.

كونها المنطقة الأكثر أهمية في العالم، فإن القوى العالمية لم تكن لتسمح للمنطقة أن تفلت من قبضتها، الأمر الذي جعل الولايات المتحدة وبريطانيا وفرنسا تتدخل في الثورات لضمان بقاء الأنظمة قائمة في مكانها حتى وإن تغيرت الشخصيات. كثير من الحركات في منطقة الشرق الأوسط اعتقدت خطأً بأن الدعوة إلى القيم الغربية مثل الديمقراطية، والقيم الليبرالية والعلمانية من شأنها أن تجلب لها الدعم الغربي وتساند محاولاتها للإطاحة بأمثال مبارك وصالح وزين العابدين بن علي والقذافي. لقد سمح هذا التدخل الأجنبي للولايات المتحدة بالحفاظ على دورها في مصر، مع حماية الجيش لمصالح الولايات المتحدة في المنطقة من خلال الحفاظ على معاهدتها مع كيان يهود. عندما فشل محمد مرسي في الحفاظ على الاستقرار الداخلي تخلت عنه الولايات المتحدة وبرّرت انقلاب السيسي بأنه "استعادة للديمقراطية". وفي ليبيا، عملت كل من بريطانيا وفرنسا مع الحكومة الانتقالية والدائمة، والتي تتكون إلى حد كبير من مسؤولين من عهد القذافي. مع امتلاك الولايات المتحدة وفرنسا وبريطانيا لروابط تاريخية مع الفئة السياسية في الشرق الأوسط، فإنهم لا يؤثرون على السياسات الخارجية للمنطقة فحسب، بل أيضا يحافظون على نفوذهم على كثير من المؤسسات الداخلية، والأحزاب السياسية، والأجهزة الأمنية وشخصيات الأفراد. عندما أصبح عبد الفتاح السيسي قائدا للجيش، وصفه المسؤولون الأمريكيون بأنه كائن معروف، أي أنه شخص كانت الولايات المتحدة تعرفه جيدا.

اليوم، اتجه الربيع العربي في الاتجاه الذي يحافظ على أنظمة ما قبل الثورة. هذه نتيجة مهمة بالنسبة للغرب الذي أوجد الدول المصطنعة في الشرق الأوسط قبل 100 سنة. الآمال الكبيرة من الجماهير أصبحت في ورطة حقيقية ويبقى أن نرى ما إذا كان الربيع العربي يمكن إنقاذه...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست