الرئيس الأمريكي بين القوة والضعف في ظل الانقسام وحالة الاتحاد
الرئيس الأمريكي بين القوة والضعف في ظل الانقسام وحالة الاتحاد

الخبر:   تشير نتائج معظم استطلاعات الرأي في الولايات المتحدة إلى تراجُع كبير في شعبية الرئيس الأمريكي، وقد تزايد هذا التدهور في شعبية بايدن بشكل خاص عقب الانسحاب الأمريكي الفوضوي من أفغانستان، وتزايد الانتقادات لإدارة بايدن في الداخل الأمريكي، ووفقاً لاستطلاع رأي أجراه المعهد الأمريكي للرأي العام "جالوب" في 23 تشرين الأول/أكتوبر الماضي؛ فقد انخفضت شعبية الرئيس بايدن في الأشهر التسعة الأولى لولايته بنسبة 11.3% لتصل إلى 44.7%، الأمر الذي يُشكل أكبر تدهور لشعبية رئيس أمريكي منذ الحرب العالمية الثانية.

0:00 0:00
Speed:
November 16, 2021

الرئيس الأمريكي بين القوة والضعف في ظل الانقسام وحالة الاتحاد

الرئيس الأمريكي بين القوة والضعف في ظل الانقسام وحالة الاتحاد

الخبر:

تشير نتائج معظم استطلاعات الرأي في الولايات المتحدة إلى تراجُع كبير في شعبية الرئيس الأمريكي، وقد تزايد هذا التدهور في شعبية بايدن بشكل خاص عقب الانسحاب الأمريكي الفوضوي من أفغانستان، وتزايد الانتقادات لإدارة بايدن في الداخل الأمريكي، ووفقاً لاستطلاع رأي أجراه المعهد الأمريكي للرأي العام "جالوب" في 23 تشرين الأول/أكتوبر الماضي؛ فقد انخفضت شعبية الرئيس بايدن في الأشهر التسعة الأولى لولايته بنسبة 11.3% لتصل إلى 44.7%، الأمر الذي يُشكل أكبر تدهور لشعبية رئيس أمريكي منذ الحرب العالمية الثانية.

التعليق:

الدستور الأمريكي الصادر عام 1787م أعطى رئيس الولايات المتحدة الأمريكية صلاحيات محددة وكبيرة على المستويين الداخلي والخارجي، وتكون له الكلمة الحاسمة في القرارات الكبرى التي تمر عبر عدد من الوزارات والأجهزة، رغم أن الكونغرس يعترض بعضها؛ فمثلا الرئيس الأمريكي هو المسؤول الأول عن السلطة التنفيذية للحكومة الاتحادية، والقائد الأعلى للقوات المسلحة، وهو من يفرض حالة الطوارئ في البلاد، ويعلن التعبئة في حالات الضرورة، وله حق استخدام سلطته لحفظ النظام بناءً على طلب إحدى الولايات، وبإمكانه أيضاً استدعاء الحرس الوطني للولايات الأمريكية، والكثير من الصلاحيات الخارجية. وهذه الصلاحيات ضخمة وكبيرة ضمن مفهوم تقاسم السلطات الأمريكي، ولأن أمريكا دولة مؤسسات فقد بنت سياستها على تقاسم تلك السلطة بين المؤسسات حتى لا تكون عرضة بيد نزوات رئيس كترامب، فكان في مفهوم النظام الأمريكي أن تقاسم تلك السلطة ضمانة للولايات المتحدة من الدكتاتورية أو النزعات الفردية أو القرارات الخاطئة أو التسرع في أخذها. فكان دور المؤسسات ضمانة قوية لعدم الانحراف. وهذا الكلام مقبول لحد معين إذا كانت هذه المؤسسات تعمل كما تم الدسترة لها وفاعلة ضمن التصور الدستوري، وإذا وجد في هذه المؤسسات وحدة القرار من خلال نخبة سياسية (دولة عميقة) متجانسة وموحدة وتضع مصلحة الكيان في سلّم الأولويات لها، في مثل هذه الحالة نقول إن صلاحيات الرئيس محاطة بضمانات كبرى مهما كانت صلاحياته وتكون الدولة دولة مؤسسات هكذا بني التصور للدستور الأمريكي، ولكن هل الحالة السياسية التي عليها الولايات المتحدة الآن هي كذلك؟

يقول فرانسيس فوكوياما: "التحدى الأعظم لمكانة الولايات المتحدة العالمية ينبع من الداخل؛ فالاستقطاب في المجتمع الأمريكي عميق، وأصبح تقريباً من المستحيل الوصول إلى إجماع على أي شيء، هذا الاستقطاب بدأ حول قضايا تقليدية مثل الضرائب والإجهاض، ومنذ ذلك تفاقم إلى صراع حول الهوية الثقافية. مطالبة الجماعات التي تشعر بأنها مهمشة من النخبة بالاعتراف بها هو أمر حددته قبل 30 عاماً بأنه كعب أخيل للديمقراطية الحديثة. كان من الطبيعى أن يدفع وجود تهديد خارجي للناس للتعاضد من أجل الوصول إلى استجابة مشتركة؛ ولكن أزمة كوفيد-19 على العكس أدت إلى تعميق الانقسامات بين أفراد المجتمع في أمريكا، مع قواعد التباعد الجسدي وارتداء الأقنعة، والآن التطعيمات التي ينظر إليها كأداة تخدم أجندات سياسية بدلاً من كونها وسيلة للحفاظ على الصحة العامة".

أظهر استطلاع رأي أجراه مركز السياسة في جامعة فيرجينيا الأمريكية، خلال شهر أيلول/سبتمبر المنصرم، نتائج مفاجئة، إذ وافق نحو نصف ناخبي دونالد ترامب و40% من ناخبي جو بايدن في الرئاسيّات الأمريكية لعام 2020، على الاقتراح القائل بأنّ الولايات المتحدة ينبغي لها أن تتفكّك. وفي مقال لكاتب أمريكي بعنوان "الانفصال القومي باهظ الثمن، لكنّه يستحق كل بنس"، حثّ المتخصّص في دراسات الأمن القومي، ديفيد ريبوي "أمريكا الحمراء (الجمهوريين) على التفكير في الاستقلال الاقتصادي والثقافي لنفسها، وما يتطلّبه الأمر للوصول إلى ذلك الهدف".

وفي هذا الصدد يقول الكاتب الصحفي ريتش لووري في مقاله المنشور بصحيفة بوليتيكو الأمريكية: "ستكون الآثار الضارة الناتجة عن الانفصال هائلة؛ ستتحطّم بذلك قوة الولايات المتحدة على الفور" وكان النائب عن ولاية تكساس كايل بيدرمان يحرّض على ما يُسمَّى "تيكسيت"، ساعياً لاستقلال ولايته على نحو كامل عن الحكومة المركزية، فيما تَطرَّق ألين ويست الرئيس السابق للحزب الجمهوري في تكساس والمرشَّح الحالي لمنصب حاكم الولاية، في عديد المحافل عن الانفصال. هذه بعض النقولات عن الواقع الأمريكي.

وهنا سؤال كبير ويحتاج وقفات معه من خلال سير واقع الولايات المتحدة الأمريكية فمثلاً:

  • هل المؤسسات الآن على قلب رجل واحد؟
  • هل هذه المؤسسات تضع في سلم الأولويات مصلحة الكيان لا الحزب ولا العرق ولا المصالح الشخصية لفرد أو مجموعة أفراد أو شركات؟
  • هل هذه النخبة سياسية ورجال دولة بمعنى الكلمة؟
  • هل لشخصية الرئيس الأمريكي وقوة رأيه إن كان سياسياً بحق أو يقوم بدور مرسوم له في الحكم في ظل قوة المؤسسات أو ضعفها، دور وعليه تبعات في لجم هذه القوى أو تعديل مسارها أو تشتتها أو تناقضها؟ فمثلاً هناك فارق كبير بين بوش الأب وبين بيل كلينتون وبين ترامب، ولن أقارن هنا ببعض الشخصيات التي كانت تعد من العقليات البارزة والسياسية التي تركت أثراً كبيراً.
  • هل الرئيس الأمريكي يمثل أحد أطراف الانقسام أو مندوب إحدى مؤسسات الحكم في ظل صراع محتدم؟ أم هو فوق الصراع بوعيه وقوة شخصيته؟

لا شك أن شخصية الرئيس وقوتها واحترام النظرة له مع طبيعة الصلاحيات المنوطة به لها الأثر الكبير في الحكم وفي توازن الحكم، فما بالنا إن كانت بوادر الانقسامات قد لاحت وزادت حدة الانقسام الداخلي مع مخاطر خارجية بوجود شخصية ضعيفة هل ستكون أمريكا بخير؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست