الرئيس الجديد: الوضع الراهن باقٍ في الصومال
الرئيس الجديد: الوضع الراهن باقٍ في الصومال

الخبر: تولى الرئيس الصومالي حسن شيخ محمود، الخميس، زمام السلطة للمرة الثانية، متعهداً بالتوفيق بين الجماعات السياسية المنقسمة في بلاده، وكذلك العلاقات مع الجيران بعد سنوات من المشاحنات. وقال شيخ محمود، الذي تولّى المنصب من محمد فرماجو، إن بلاده ستظلّ محايدة في الفضاء الدولي، وستكون صداقة مع البلدان التي ستحترم سيادتها وتسعى إلى معالجة المشاكل المشتركة مثل حركة الشباب والفقر. وقال: "إن الحدث الذي نشهده اليوم هو نموذج لإعادة الديمقراطية إلى الصومال"، مشدداً على أنه باستثناء ما كانت عليه البلاد، لمدة 21 عاماً، تحت الحكم العسكري 1969-1991، فإن الصوماليين كانوا دائماً مؤيدون للديمقراطية. (The EastAfrican، الجمعة 10 حزيران/يونيو 2022).

0:00 0:00
Speed:
June 15, 2022

الرئيس الجديد: الوضع الراهن باقٍ في الصومال

الرئيس الجديد: الوضع الراهن باقٍ في الصومال

(مترجم)

الخبر:

تولى الرئيس الصومالي حسن شيخ محمود، الخميس، زمام السلطة للمرة الثانية، متعهداً بالتوفيق بين الجماعات السياسية المنقسمة في بلاده، وكذلك العلاقات مع الجيران بعد سنوات من المشاحنات. وقال شيخ محمود، الذي تولّى المنصب من محمد فرماجو، إن بلاده ستظلّ محايدة في الفضاء الدولي، وستكون صداقة مع البلدان التي ستحترم سيادتها وتسعى إلى معالجة المشاكل المشتركة مثل حركة الشباب والفقر. وقال: "إن الحدث الذي نشهده اليوم هو نموذج لإعادة الديمقراطية إلى الصومال"، مشدداً على أنه باستثناء ما كانت عليه البلاد، لمدة 21 عاماً، تحت الحكم العسكري 1969-1991، فإن الصوماليين كانوا دائماً مؤيدون للديمقراطية. (The EastAfrican، الجمعة 10 حزيران/يونيو 2022).

التعليق:

أشادت وسائل الإعلام محلياً وإقليمياً ودولياً بالانتقال السلمي للسلطة من النظام السابق إلى النظام الجديد. وبمكر، فشلوا في الإشارة إلى أن الرئيس الجديد لا يقدم شيئاً فيما يتعلق بالسياسات والقوانين سوى ترسيخ الوضع الراهن السائد الذي يربك الصومال. في البداية، كان في السلطة من 2012-2017، وهي الفترة التي شهدت الصومال فيها اضطرابات سياسية وشعبية واقتصادية خطيرة لا تزال مستمرة حتى الآن. إنّ الرئيس الجديد يصعد إلى السلطة للمرة الثانية، مليئا بالوعود ولكن لا شيء ملموس لتقديمه.

يواجه الصومال مشاكل عديدة تتطلب حلولاً حقيقية وعاجلة، تشمل بعض المشاكل مثل المجاعة الدائمة التي تستمر في إفقار الجماهير، ونهب مذهل للموارد العامة من خلال الشركات الأجنبية متعددة الجنسيات التي تنخرط في تعاملات سرية مع من هم في قمة السلطة. إنّ التمويل والتحريض المتعمد للمليشيات المحلية والصراعات القبلية هو من قبل أيادي أجنبية تستفيد من استمرار انعدام الأمن في الصومال.

إنّ النظام الجديد لن يحلّ التحديات المذكورة أعلاه، لأن أساس النظام في حدّ ذاته يحتاج إلى التغيير. في الواقع، لا يزال الوضع الراهن في الصومال مع الإدارة الجديدة هو استمراراً للنظام الديمقراطي السام القائم على المبدأ الرأسمالي العلماني. نظام حكم جعل الدين هامشياً فيما يتعلق بأمور التشريع! ومن ثم، إعطاء الأولوية لعقل الإنسان المحدود في إدارة شؤون الناس على أساس القوانين المستوردة من أسيادهم الغربيين المستعمرين.

وبالتالي، قفز الناس في الصومال من مقلاة إلى أخرى! لأن القضية الأكثر إلحاحاً التي تجب معالجتها هي استبدال نظام الحكم الديمقراطي العلماني الذي يزدهر في الفوضى والقذارة. علاوة على ذلك، تطبيق نظام الحكم الإسلامي (الخلافة)، النظام الذي أنزله خالق الكون والإنسان والحياة، الله سبحانه وتعالى. الخلافة ليست مرتبطة بالمستعمرين الغربيين الذين يؤثرون في سياساتها الداخلية والخارجية على حد سواء، كما يحدث في الصومال وبقية العالم. على سبيل المثال، أجريت هذه الانتخابات الرئاسية الأخيرة في أيار/مايو 2022 نتيجة الضغط للوفاء بالشروط الأجنبية التي أقرها صندوق النقد الدولي حتى تتلقى الصومال برنامج مساعدات بقيمة 400 مليون دولار من بين التعهدات الأجنبية الأخرى! (رويترز، 16 أيار/مايو 2022).

حاليا الصومال تعاني من غياب قيادة إسلامية حقيقية. أولئك الذين في مناصب السلطة ليسوا سوى حكام عملاء للغرب المستعمر. إن بقاءهم في السلطة هو لحماية مصالح أسيادهم وتنفيذ السياسات المرسومة لهم من العواصم الغربية وخاصة واشنطن ولندن. إن مظهرهم الخارجي ومظاهر نظرائهم في الشرق الأوسط والبلاد الإسلامية بأسرها يخدع الجماهير بأنهم حماة وأوصياء حقيقيون للإسلام والمسلمين. للأسف هم ليسوا كذلك، لأنهم لا يملكون الشخصية الإسلامية، أي أن عقليتهم وموقفهم مخالف لما يمليه الإسلام كما جاء به الرسول ﷺ.

على العكس من ذلك، سيقود الخلافة رجل مسلم؛ خليفة يجتهد ليل نهار لتطبيق نظام الإسلام المنبثق عن العقيدة الإسلامية التي تضمن الطمأنينة والازدهار للجميع بغض النظر عن لونهم أو عرقهم أو خلفيتهم الدينية. كما أنه سيكون وصياً وحامياً ودرعاً لمن هم تحت رعايته وخاصة حرمات الرسول ﷺ التي تُنتهك حتى الآن من أعداء الإسلام والمسلمين. وستبقى حالة الصومال المؤسفة هكذا، ما لم يدرك المسلمون المخلصون من الداخل ومن دون أن يدركوا الخطأ الجوهري المتمثل في تبني الفكر الرأسمالي العلماني، والبدء في العمل مع حزب التحرير لاستئناف الحياة الإسلامية من خلال إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. حان الوقت الآن، فاغتنموها ولن تندموا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست