الساحتان السورية والليبية
الساحتان السورية والليبية

الخبر   نشر حزب التحرير تحليلا سياسيا يوم 2016/3/12م كجواب على سؤال يتعلق بمجريات الأمور في الساحة السورية بعد الهدنة المعلنة وكذلك ما يجري في الساحة الليبية والتلويح بالتدخل العسكري.

0:00 0:00
Speed:
March 13, 2016

الساحتان السورية والليبية

الساحتان السورية والليبية

الخبر:

نشر حزب التحرير تحليلا سياسيا يوم 2016/3/12م كجواب على سؤال يتعلق بمجريات الأمور في الساحة السورية بعد الهدنة المعلنة وكذلك ما يجري في الساحة الليبية والتلويح بالتدخل العسكري.

التعليق:

تمتاز تحليلات حزب التحرير السياسية بنكهة متميزة في التعاطي مع الأحداث التي تجري في العالم، خاصة تلك الأحداث الجسام التي تعصف بالأمة الإسلامية صباح مساء.

ويرى المراقبون والمهتمون أن هذه التحليلات تنظر بعين ثاقبة للأحداث وتبصر ما وراء التصريحات والمواقف السياسية المعلنة لتعطي الرأي من زاوية خاصة، لا تكتفي بسبر غور الوقائع فقط بل وتقدم نموذجا عمليا للسياسيين والمفكرين في كيفية التعاطي مع الأخبار المتضاربة أحيانا في ظاهرها.

وعلى الرغم من أن التعتيم الإعلامي الممنهج ضد الحزب وضد ما يقدمه من طرح سياسي راق، ومن تحليلات وقراءات للتطورات وللأحداث الجارية في المنطقة قد أصبح من نافلة القول، والسبب معلوم بالضرورة. فأنْ تفضح ألاعيب الدول الكبرى وتكشف خبايا مواقفها وتزيل اللثام عن مواقف عملائها من شأنه أن يضرب مصالح هذه الدول ومخططاتها في الصميم.

بالرغم من ذلك كله فإن الشمس لا يمكن أن تغطى بغربال، فصدق الحزب وصدق رأيه وثباته وظهور ما قرأه الحزب في حينه من أحداث ماثلا أمام أعين المتشككين بعد حين جعل ثقتهم تزداد برأي الحزب وتحليلاته السياسية الفذة.

ولذلك لا غرابة أن ترى بعض السياسيين والإعلاميين يتلقفون نشرات الحزب وتحليلاته، وينتظرونها بفارغ الصبر، بل إن بعض الساسة المتنفذين يفعلون ذلك أيضا وبوسائل شتى.

وبالعودة إلى التحليل الأخير للتطورات على الساحتين السورية والليبية فإن المراقب يتلقى أمثلة عملية عن طبيعة الصراع الدولي وأشكاله، فهو في ليبيا يختلف عنه في سوريا، وفي ذلك ورد في جواب السؤال ما نصه: "إن موضوع ليبيا يختلف عن موضوع سوريا، لأن الصراع في سوريا هو بين أمريكا وأحلافها وأشياعها وبين أهل سوريا، وليس بين أمريكا ودولة كبرى أخرى، وذلك لأن روسيا تنفذ مخطط أمريكا بصفقة قذرة ظناً من بوتين أنه بخدمة أمريكا في سوريا ستُهدِّئ عنه مشاكل الحدود الجنوبية لروسيا حول أوكرانيا... وأما أوروبا، فتدور حول أمريكا تعيد ما تقول لتنال منها شيئاً أو بعض شيء! فروسيا وأوروبا يدركان أن النفوذ لأمريكا ولا يطمعان بمزاحمتها النفوذ في سوريا... أي أن الصراع هو بين أمريكا وبين أهل سوريا وكل مسلم صادق من ورائهم.

وأما في ليبيا فالصراع هو على النفوذ بين أمريكا وبين أوروبا، وبخاصة بريطانيا وفرنسا إلى حدٍ ما، ثم شيء من إيطاليا... ولذلك فإن أمريكا مأخوذة إلى حد الذهول مما تراه من صمود أهل سوريا في وجه مخططات أمريكا خلال السنوات الخمس من ثورة سوريا، ولكنها في ليبيا مطمئنة بقوتها في مقابل أوروبا، فتصارعها بشيء من الاطمئنان بهذه القوة تجاه أوروبا..."

ثم يسوق الأدلة ويتابع التصريحات ويقرأ ما بين السطور، وهو ـ أي حزب التحرير ـ يستطيع ذلك ليس لأنه مطلع على الغيب أو يقرأ الطالع، بل لأنه متابع لكل شاردة وواردة، يقوم بذلك على أساس أنه فرض شرعي يؤديه كما يجب أن يؤدى، يدرك عظم الأخطار المحدقة بالأمة، ومدرك لحجم الأعمال السياسية والمكائد التي تحوكها الدول الكبرى وتعمل على تنفيذها، وهو مع عظم الخطر وضخامة الهجمة على الأمة تراه رائدا لها، راسما للخط الصحيح بجانب معوج الخطوط، يخاطب المسلمين في سوريا بعد كشف المؤامرات والمتآمرين والمنافقين قائلا: "هذه هي حسابات أمريكا وروسيا والأتباع والأشياع... أما حسابات أهل سوريا المخلصين فهي أمر آخر سيصعق مشاريع الكفار والمستعمرين وعملائهم ومن دار في فلكهم، ويرد كيدهم في نحرهم بإذن الله ﴿وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾..."، ثم يقول: "فإن رجال الشام ليس هم الذين تحلقوا في "إنتركونتيننتال" بالرياض حول المال والضلال ثم شكلوا هيئة المفاوضات... إنهم ليسوا أولئك...، بل هم أسود الشام الذين تعرفهم الأمة بصدقهم وإخلاصهم ويعرفونها بأنها لا تعدم الخير إلى يوم القيامة... هم الذين صدعوا ويصدعون بقلوبهم وأفواههم "هي لله هي لله"..".

وهو ييمم شطر ليبيبا وأهلها مخاطبا "وإننا لا نعدم الخير في أهل ليبيا، بلد حفظة القرآن الكريم، فإن فيها من الرجال الصادقين المخلصين من يستطيعون بإذن الله إحباط مشاريع أولئك الحاقدين على الإسلام وأهله".

هذا نموذج راق ـ يتكرر باستمرار ـ يقدمه حزب التحرير بقيادة أميره العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة للساسة والسياسيين وللأمة بمجموعها، ويتوجب أن يكون مثالا يحتذى في حسن الرعاية وحسن النصح للأمة، فلسان حاله يقول: "لسنا بالخِبّ، ولا الخِبُّ يخدعنا".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسام الدين مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست