السعودية لم تكن إسلاميةً يوما فكيف لها أن تعود إلى "الإسلام المعتدل"! (مترجم)
السعودية لم تكن إسلاميةً يوما فكيف لها أن تعود إلى "الإسلام المعتدل"! (مترجم)

الخبر:   تعهد ولي العهد السعودي محمد بن سلمان بإعادة البلاد إلى "الإسلام المعتدل" وطلب دعماً عالمياً لتحويل المملكة المتشددة إلى مجتمع مفتوح يمكِّن المواطنين ويغري المستثمرين. في مقابلة مع صحيفة الغارديان، قال الوريث القوي للعرش السعودي إن الدولة المحافظة جداً "لم تكن طبيعية" على مدى السنوات الثلاثين الماضية، وألقى باللوم على المذاهب الصارمة التي حكمت المجتمع كرد فعل على الثورة الإيرانية، حيث إن القادة المتعاقبين "لم يعرفوا كيفية التعامل مع الأمر". (الغارديان)

0:00 0:00
Speed:
October 29, 2017

السعودية لم تكن إسلاميةً يوما فكيف لها أن تعود إلى "الإسلام المعتدل"! (مترجم)

السعودية لم تكن إسلاميةً يوما

فكيف لها أن تعود إلى "الإسلام المعتدل"!

(مترجم)

الخبر:

تعهد ولي العهد السعودي محمد بن سلمان بإعادة البلاد إلى "الإسلام المعتدل" وطلب دعماً عالمياً لتحويل المملكة المتشددة إلى مجتمع مفتوح يمكِّن المواطنين ويغري المستثمرين.

في مقابلة مع صحيفة الغارديان، قال الوريث القوي للعرش السعودي إن الدولة المحافظة جداً "لم تكن طبيعية" على مدى السنوات الثلاثين الماضية، وألقى باللوم على المذاهب الصارمة التي حكمت المجتمع كرد فعل على الثورة الإيرانية، حيث إن القادة المتعاقبين "لم يعرفوا كيفية التعامل مع الأمر". (الغارديان)

التعليق:

إن الدعوة إلى الإصلاح ليست جديدة في السعودية. وقد تم الترويج لها بشكل حثيث في السنوات الأخيرة من قبل بعض أفراد الأسرة الحاكمة في السعودية، ولا سيما الموالين لأمريكا ومصالحها.

لذلك لم يكن من قبيل المصادفة أنه على الرغم من كل الخلافات والنزاعات، وضع الملك سلمان الأمير محمد بن نايف جانباً وعين ابنه محمد وليا للعهد مكانه. كلاهما، الأب والابن معروفان بميلهم وولائهم لأمريكا.

خلال هذا العام فقط، أثبت الأب، الملك سلمان، ولاءه من خلال استقبال الرئيس ترامب في قصر المربع من أجل منحه وسام الملك عبد العزيز آل سعود و350 مليار دولار لصفقة سلاح مذهلة. ولا ننسى موقفه العدائي من قطر، نتيجة إشارة من ترامب.

بدأ الابن محمد بن سلمان، في عام 2015 بصفته وزيراً للدفاع هجوماً وحشياً ضد اليمن بناءً على تعليمات من واشنطن ونشر فوراً بدون أي تردد 100 طائرة حربية و150.000 جندي في العملية العسكرية. في حين وقف مكتوف اليدين أمام هجمات نظام الأسد على المسلمين في سوريا، وما يسميه العدو الرئيسي إيران الشيعية، وروسيا الكافرة، لأنه لم تكن هناك تعليمات من واشنطن للتحرك.

إلى جانب ذلك فقد كان رئيساً لمجلس الشؤون الاقتصادية والإنمائية وقاد "رؤية 2030" وهو مشروع عميق لخطة التحول الوطني لإصلاحات اقتصادية جذرية في أمريكا. وبالتوازي مع هذا الإصلاح الاقتصادي الرأسمالي المتصور، فإن الهدف هو خلق "نموذج دولة إسلامية حديثة" مع "الإسلام المفتوح المعتدل" وإنتاج "مسلم معتدل".

وقال في مؤتمر عالمي عقد في الرياض: "إن ما حدث في المنطقة خلال الثلاثين عاماً الماضية ليس الشرق الأوسط. فبعد الثورة الإيرانية في عام 1979، أراد الناس نسخ هذا النموذج في بلدان مختلفة، وكانت السعودية واحدة من هذه البلدان". وناشد أن يعود البلد إلى "ما كان عليه من قبل". وقال "نريد أن نعود إلى ما كنا عليه، وهو الإسلام المعتدل الذي يفتح أبوابه لجميع الأديان. نريد أن نعيش حياةً طبيعية... نتعايش ونساهم في العالم".

وسواء أكان هذا مؤشراً على أن أمريكا ستمنح إيران مزيداً من النفوذ في المنطقة بسبب شراكتها الاستراتيجية في أفغانستان والعراق وسوريا، أم لا، فإن الوقت سيكشف ذلك. ولكن هناك شيئا واضحا. فعلى الرغم من أن السعودية تقدم وتعرض ما يسمى بالتغيير على أنه من أجل تلبية النداءات المتزايدة وعدم الرضا من شعبها، إلا أنه في الواقع، قد تم تصميمه في واشنطن وتعزيزه من قبل وكلائها مثل محمد بن سلمان، لتلبية مطالب ومصالح أمريكا في المنطقة، وليس الشعب.

كما أن تصريحاته مشكوك فيها ومتضاربة. كما أنها ستكون مضحكة لو أنها ليست بالأمر الخطير.

فأولاً: وقبل كل شيء، إن ما يذكره من أحداث إيران عام 1979، ما هي إلا حجة مضللة وزائفة كما لو كانت السعودية مختلفةً تماماً قبل وبعد الثورة الإيرانية.

وثانياً: عن أي "إسلام معتدل" يفتح أبوابه لجميع الأديان يتحدث؟ لا يذكر أن حصل أي نزاع خطير في السعودية مع ديانات أخرى، هذا في المقام الأول، حتى مع الذين أعلنوا العداوة ضد الإسلام. ومع ذلك، فما يمكن تذكره هو أنه منذ إنشاء السعودية الحديثة، كان المسلمون هم الهدف الوحيد والرئيسي. وذلك عن طريق الإجابة عن هذه التساؤلات.

ألم تكن الدولة السعودية هي التي قاتلت دولة الخلافة العثمانية وتمردت عليها؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي أظهرت المسلمين على أنهم كفار وقتلتهم؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي تعاونت مع السلطة الاستعمارية بريطانيا وطعنت الأمة الإسلامية في ظهرها؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي فضلت الحكم الملكي على الحكم تحت نظام الخلافة؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي اغتصبت النفط، وهو ملكية عامة ومشتركة لجميع الأمة؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي رحبت بأمريكا والدول الغربية الأخرى لاحتلال العراق والبلاد الإسلامية الأخرى؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي أعطت جوائز وأوسمة للأمريكان الذين ذبحوا المسلمين؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي أزالت حضارة الأمة الإسلامية، وبنت الفنادق والبنوك العالية؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي ضللت الأمة لسنوات بتقديم نفسها كدولة إسلامية؟

ألم تكن الدولة السعودية هي التي أعطت الفتوى الكاذبة بالصمت على قمع الحكام الفاسدين وأنظمة الكفر، حتى إنها أوصت المسلمين بطاعتهم؟

إذا قام أحد بوضع كل هذا في طرف الميزان ووضع النقاش الذي يقول بأن الدولة السعودية استضافت الطلاب وقامت بتعليم بعض المعارف الإسلامية على الطرف الآخر من الميزان لتعويض فظائعها، فلن يعوض هذا أي شيء وسيكون أمراً سطحياً، مثل الذي يظن أن النساء قد حصلن على بعض الحقوق في الدولة السعودية لأنه سمح لهن بقيادة السيارة.

لم تكن السعودية "إسلاميةً" أبداً، فكيف لها أن تعود إلى "الإسلام المعتدل"؟! وفقط مع عودة نظام الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة ستعود شبه الجزيرة العربية إسلاميةً مرةً أخرى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست