السعودية سوف تسدد مستحقات القطاع الخاص
السعودية سوف تسدد مستحقات القطاع الخاص

الخبر: الحكومة السعودية تخصص 26.7 مليار دولار لدفع الديون المستحقة لشركات القطاع الخاص قبل نهاية العام، بعد تأخر المدفوعات لأشهر. وفي خطوة تهدف للحد من عجز الموازنة الضخم الناجم عن تدني أسعار النفط قلصت حكومة المملكة أكبر مصدر للنفط في العالم الإنفاق وخفضت أو علقت المدفوعات المستحقة عليها لشركات المقاولات وقطاع الرعاية الصحية بل ولبعض المستشارين الأجانب الذين ساهموا في رسم ملامح إصلاحاتها الاقتصادية. وإذا صرفت الحكومة 100 مليار ريال بحلول نهاية هذا العام فإن عجز الموازنة قد يتجاوز توقعات الكثير من المحللين وربما يقارب 250 مليار ريال (حوالي 67 مليار دولار) أو يزيد. (الشرق الأوسط)

0:00 0:00
Speed:
November 13, 2016

السعودية سوف تسدد مستحقات القطاع الخاص

السعودية سوف تسدد مستحقات القطاع الخاص

الخبر:

الحكومة السعودية تخصص 26.7 مليار دولار لدفع الديون المستحقة لشركات القطاع الخاص قبل نهاية العام، بعد تأخر المدفوعات لأشهر. وفي خطوة تهدف للحد من عجز الموازنة الضخم الناجم عن تدني أسعار النفط قلصت حكومة المملكة أكبر مصدر للنفط في العالم الإنفاق وخفضت أو علقت المدفوعات المستحقة عليها لشركات المقاولات وقطاع الرعاية الصحية بل ولبعض المستشارين الأجانب الذين ساهموا في رسم ملامح إصلاحاتها الاقتصادية. وإذا صرفت الحكومة 100 مليار ريال بحلول نهاية هذا العام فإن عجز الموازنة قد يتجاوز توقعات الكثير من المحللين وربما يقارب 250 مليار ريال (حوالي 67 مليار دولار) أو يزيد. (الشرق الأوسط)

التعليق:

أولا: العجز في الميزانية السعودية:

تتراوح التقديرات بخصوص العجز في ميزانية السعودية للعام الحالي ما بين 67 مليار دولار و87 مليار دولار، وكان العجز في ميزانيتها للعام 2014 قد بلغ ما قيمته 17.6 مليار دولار، وبلغ العجز في ميزانيتها للعام 2015 مبلغا يتراوح بين 106 و130 مليار دولار، بحسب أرقام صندوق النقد الدولي وتقرير شركة "جدوى للاستثمار" المصرفية السعودية، وبلغ الدين العام نهاية 2015 بحسب الأرقام الرسمية حوالي 38 مليار دولار، وتوقع تقرير شركة جدوى للاستثمار العجز في العام 2017 ما مقداره 41 مليار دولار تقريبا.

ثانيا: إهدار الأموال:

وخلال مقابلة مع مجلة "بلومبيرغ" في نيسان/أبريل، تحدث كبير المستشارين الماليين للأمير محمد بن سلمان عن واقع قاتم يتمثل في أن الدولة تهدر 100 مليار دولار سنويا في شكل نفقات سنوية غير فعالة وصفقات تجارية غير واضحة المعالم، مضيفا أن الوضع سيتدهور "بحلول 2017" ما لم تتخذ خطوة كبيرة لتغيير مجرى الأحداث.

ثالثا: إجراءات على حساب الطبقة الفقيرة والمتوسطة التي ستصبح فقيرة:

للوفاء بالتزاماتها المالية، يتعين على السعودية اتخاذ بعض الإجراءات المالية المؤلمة. ويشمل ذلك إجراءات تتعلق بالاقتصاد وتطال العاملين في القطاعات الحكومية.

إلا أنها بدلا من أن توقف الحرب في اليمن التي تبلغ فاتورتها: حوالي 175 مليون دولار شهريا، وبدلا من إيقاف هدر الأموال التي تنفق على العائلة المالكة، فعلى سبيل المثال تخصص مبيعات مليون برميل نفط يوميا (عُشر ما تنتجه المملكة) لصالح خمسة أو ستة أمراء بحسب ويكيليكس، وشراء محمد بن سلمان ليخت بقيمة 550 مليون دولار بحسب النيويورك تايمز، بينما هو يروج للتقشف ولرؤية 2030 فإن الحكومة السعودية تقوم بخفض الإنفاق الحكومي، عبر رفع الدعم المفروض على البضائع والخدمات اليومية مثل الطاقة والمياه والوقود، وعبر خفض الإنفاق على الرواتب، وهو ما يعني أن الناس إما أن يفقدوا وظائفهم أو حوافزهم المالية. وحددت الحكومة السعودية في حزيران/يونيو هدفا يقضي بخفض النفقات على الرواتب بواقع 24 مليار ريال (6.4 مليار دولار) سنويا بحلول عام 2020. وقد تم إصدار مجموعة من القرارات الملكية تقضي بخفض الرواتب بواقع 20 في المئة، وتقليص الإجازات مدفوعة الأجر والبدلات وأيضا خفض المكافآت.

فمع تطبيق المزيد من تدابير التقشف، يبدو أن الطبقة المتوسطة السعودية ستنضم إلى الطبقة "المتوسطة المضغوطة".

ومن المؤكد أن أصحاب الدخل المتوسط في السعودية هم من سيعانون خلال الأشهر بل الأعوام المقبلة، علما بأن تقارير صحفية تداولتها صحيفتا "واشنطن بوست" الأمريكية و"الغارديان" البريطانية أفادت أن هناك ما بين 2 إلى 4 ملايين سعودي يعيشون تحت خط الفقر، مما يعني انضمام شريحة واسعة من المجتمع لهذه الطبقة الفقيرة.

وسيؤثر خفض الدعم والرواتب على هذه الشريحة المتوسطة أكثر من غيرها، بعبارة أخرى سيؤثر على أولئك الناس الذين لا يملكون سوى ما يكفي لنفقات المنزل وتعليم الأبناء.

ولذا، فإن ارتفاع الفواتير وتراجع الدخل في نهاية الشهر سيضغط بشدة على هذا القطاع المهم في الاقتصاد السعودي.

رابعا: مؤشرات إفلاس:

قال ولي ولي العهد السعودي محمد بن سلمان في لقاء مع وكالة "بلومبرغ" الاقتصادية إن السعودية كانت لتعلن إفلاسها التام مطلع 2017. واعتبر الكاتب "دافيد أوالالو" في تقرير بعنوان (بيع أرامكو والتعديل الوزاري... هل هما بداية النهاية للسعودية؟) في موقع هافنغتون بوست الأمريكي أن السعودية قد تتعرض إلى الإفلاس عام 2018م، إذا ما بقيت منغمسة في الاحتياطات المالية، وذلك لدعم نمط الحياة الفخمة للعائلة المالكة في ظل تراجع أسعار النفط.

وكشف نائب وزير الاقتصاد والتخطيط محمد التويجري، لبرنامج الثامنة على قناة MBC، أن بلاده كانت ستواجه إفلاسا حتميا بعد 3 سنوات في ظل الظروف الحالية وانخفاض أسعار النفط،

كما حذر اقتصاديون من أن انهيار شركة «سعودي أوجيه» يضع عدداً من الشركات الكبيرة والصغيرة في دائرة الخطر، مبينين أن عشرات الشركات والمؤسسات بمختلف تنوعاتها تخرج من السوق أو تعلن إفلاسها سنوياً بسبب أوضاع مالية، وقالوا إن حجم الديون على الشركات يتجاوز 300 بليون ريال.

هذا وينبغي لفت الانتباه إلى أن الرسائل الرسمية تحاول رسم صورة أن الإنسان العادي هو السبب في هذه الأزمة، وأن عليه أن يدفع فاتورة الرخاء وإن لم يفعل فالإفلاس هو ما يتهدد اقتصاد دولة تنتج عشرة ملايين برميل من النفط يوميا!

وصدق رسول الله rحين أجاب من سأله عن الساعة: «إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» (رواه البخاري).

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثائر سلامة – أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست