السفير البريطاني في الخرطوم يقر بالتدخل في الشؤون الداخلية والترويج لمصالح بريطانيا
السفير البريطاني في الخرطوم يقر بالتدخل في الشؤون الداخلية والترويج لمصالح بريطانيا

الخبر:   سفير بريطانيا في الخرطوم عرفان صديق يغادر السودان بعد أن طلب من حكومته إنهاء مهمته قبل أوانها، فكتب رسالة يدافع فيها عن سياسته التي انتهجها خلال فترة عمله منذ نيسان 2018 وجلبت عليه كثيرا من الانتقادات لتدخله في الشؤون الداخلية بصورة علنية، ووصف بأنه الممثل السامي، قال في رسالته التي جرى تعميمها: "واجهت عددا من الانتقادات بأني صريح جدا، وبالتدخل في الشؤون الداخلية وحتى بالتصرف كإمبريالي. على الرغم من أن دوري كسفير لبريطانيا هو الترويج لمصالحها".

0:00 0:00
Speed:
January 30, 2021

السفير البريطاني في الخرطوم يقر بالتدخل في الشؤون الداخلية والترويج لمصالح بريطانيا

السفير البريطاني في الخرطوم يقر بالتدخل في الشؤون الداخلية والترويج لمصالح بريطانيا

الخبر:

سفير بريطانيا في الخرطوم عرفان صديق يغادر السودان بعد أن طلب من حكومته إنهاء مهمته قبل أوانها، فكتب رسالة يدافع فيها عن سياسته التي انتهجها خلال فترة عمله منذ نيسان 2018 وجلبت عليه كثيرا من الانتقادات لتدخله في الشؤون الداخلية بصورة علنية، ووصف بأنه الممثل السامي، قال في رسالته التي جرى تعميمها: "واجهت عددا من الانتقادات بأني صريح جدا، وبالتدخل في الشؤون الداخلية وحتى بالتصرف كإمبريالي. على الرغم من أن دوري كسفير لبريطانيا هو الترويج لمصالحها".

التعليق:

هذا السفير يكشف بصراحة ما هو دور السفراء البريطانيين في كل بلد، وكذلك سائر سفراء الدول الاستعمارية الطامعة التي تبحث عن نفوذ في البلاد الأخرى كأمريكا وفرنسا وروسيا. فهم يتدخلون في شؤون البلدان التي يوجدون فيها، فمهمتهم استعمارية أي تأمين الاستعمار لدولهم وبسط نفوذها في البلاد الأخرى والترويج لها. وهذا يقتضي كسب العملاء، ولهذا كان السفير البريطاني دائم الوجود بين قوى الحرية والتغيير أثناء الاحتجاجات التي أدت إلى إسقاط البشير، ويعمل على توجيه هذه القوى، وإذاعة بريطانيا تروج لهذه القوى العميلة. ولهذا تمكنت بريطانيا من جعل الحكومة تتشكل بأغلبيتها من عملائها برئاسة حمدوك.

وادّعى السفير البريطاني قائلا: "يؤثر الصراع وعدم الاستقرار في السودان على أمن المملكة المتحدة. يؤثر الفقر والمجاعة في السودان على المصالح الاقتصادية البريطانية". ومعنى ذلك أن هذه الأمور تؤثر على النفوذ البريطاني والمكاسب الاقتصادية في السودان وفي المنطقة، وإلا فما علاقة السودان ببريطانيا؟! فكل منهما في قارة مختلفة وتبعدان عن بعضهما آلاف الكيلومترات! فالسودان لحقه الفقر والمجاعة والتمرد المسلح والخلاف القبلي، فهل لحق بريطانيا مثل ذلك؟! وقد تدخلت بريطانيا في السودان لتسقط البشير، فهل تدخل السودان في بريطانيا لإسقاط جونسون؟ وهل عمل السودان على كسب عملاء في بريطانيا لتأمين المصالح السودانية فيها؟! وهل أوجد فيها تنظيمات متمردة مسلحة تعمل على تمزيق بريطانيا كما تعمل الأخيرة على تمزيق السودان بموازاة العمل الأمريكي؟! وبريطانيا من حيث المساحة هي زاوية في السودان، الذي معظم أهله هم من الشباب وسيتفوق بعد بضع سنين على سكان بريطانيا العجوز.

وقام السفير البريطاني وأظهر آخر تدخلاته في الشأن السوداني فطالب "الحكومة الانتقالية باستكمال عملية السلام والبدء في تنفيذ بنود الاتفاق المبرم بينها وبين تنظيمات الجبهة الثورية في 3 تشرين أول/أكتوبر 2020، مشيرا إلى الانتهاء من الإصلاحات الحيوية مثل تعويم العملة هو الطريق الوحيد لتحقيق الاستقرار في الاقتصاد.. وإنه يتطلع إلى تنفيذ إصلاحات مرتبطة بمجال الحكم مثل إنشاء أنظمة قوية للعدالة الانتقالية وإصلاح قطاع الأمن وضمان السيطرة المدنية الكاملة وتطوير الأحزاب السياسية والاستعداد للانتخابات. والأهم من ذلك بدء عملية الحوار الدستوري للمساعدة في تحديد نوع الدولة التي يراد أن تكون للسودان، هذه الإجراءات التي ستساعد في ضمان ألا يكون التغيير في السودان عابرا وألا تفشل هذه الثورة مثل ثورة 1964 أو ثورة 1985 بسبب عودة الاستبداد والحكم العسكري.. لكن النجاح لا يزال يواجه العديد من التحديات. إن نجاح الانتقال ليس مضمونا. إن ضمان تشكيل مؤسسات الحكم للمرحلة الانتقالية (المجلس التشريعي والمفوضيات الرئيسية) دون مزيد من التأخير هو أمر مهم جدا" (سودان تربيون 2021/1/26)

فهو خائف من سقوط الحكومة العميلة لبريطانيا كما سقطت حكومة الصادق المهدي العميلة لبريطانيا في فترة (1966- 1967) وفترة (1986-1989) بعد الثورات والانقلابات التي حصلت عام 1964 وعام 1985. وقد أتى بعد تلك الفترتين عملاء أمريكا بانقلابات عسكرية: جعفر النميري من عام 1969 حتى عام 1985، وعمر البشير من عام 1989 حتى 2019. فيعلن أن نجاح الانتقال ليس مضمونا إذ يهيمن العسكر في المجلس السيادي على الدولة، وفي أية لحظة هناك احتمال لأن تسقط الحكومة، وتُضرب الأحزاب والتنظيمات الثورية الموالية لبريطانيا، وهي حكومة فاشلة مفلسة لا تعرف إلا التسول والاستدانة وأحزابها فاشلة مفلسة، وكذلك المجلس السيادي فاشل، ولكن الفشل المباشر سيعلق في رقبة الحكومة باعتبارها السلطة التنفيذية المباشرة المسؤولة عن تقديم الخدمات للناس ومعالجة مشاكل الفقر والمجاعة والأمن وهي عاجزة عن ذلك، للعجز الفكري والخمول الذهني لديها ولانعدام الإخلاص والصدق والإرادة الصحيحة لديها ولدى القائمين على الحكم في البلد، وهم يتربصون ببعضهم بعضاً من سيتغلب على الآخر ومن سيسقط الثاني؟!

وهكذا يبقى السودان كسائر بلاد المسلمين ساحة للصراع الدولي، حيث تشتري الدول المتصارعة الذمم الرخيصة من أهل البلد وتوظفهم عملاء لديها، فتتمكن من بسط نفوذها في البلد، والعمل على تخريبه وتمزيقه مستخدمة هؤلاء العملاء الرخيصين أصحاب النفوس المريضة والعقول السقيمة، والذين لا يهمهم إلا مصالحهم الشخصية على حساب مصالح أمتهم وبلدهم. فوجب العمل على التخلص منهم ومن أسيادهم حتى تتحرر البلاد وتتقدم وتنهض بفكر مستنير بواسطة العاملين المخلصين الواعين فكريا وسياسيا. وهم يحثون الخطا لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فعندما تقام بإذن الله قريبا سوف لا تسمح للدول الاستعمارية بأن تكون لها سفارات على أراضيها، ولا يسمح لها أن تتصل بأصحاب الذمم الرخيصة من المنافقين والذين في قلوبهم مرض والمرجفين والمتذبذبين.

وصدق الله سبحانه حين قال: ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست