الشعب الفرنسي يخوض معركة العودة
الشعب الفرنسي يخوض معركة العودة

خلال الأسابيع الأربعة الماضية، احتشد آلاف المتظاهرين في فرنسا ضد الحكومة في قضية أصبحت تعرف باسم حركة "السترات الصفراء"، في إشارة إلى سترات السلامة التي يحتفظ بها السائقون الفرنسيون في سياراتهم. الاحتجاجات شائعة الحدوث في فرنسا، فالبلاد لديها تاريخ طويل من الاحتجاجات والثورة. لكن احتجاجات السترات الصفراء أدت إلى بعض أسوأ أعمال الشغب في باريس وأجبرت السلطات على إغلاق أجزاء من المدينة. وبعد أربعة أسابيع من الاحتجاجات، اضطر إيمانويل ماكرون في خطاب متلفز وجهه للأمة إلى إلغاء عدد من السياسات والتعهد بزيادة في الحد الأدنى للأجور. كانت هذه المرة الأولى التي يتراجع فيها الرئيس الفرنسي عن قرار سياسي. وتأتي الاحتجاجات في الوقت الذي انخفضت فيه شعبية ماكرون إلى مستوى متدنٍ، ولكنها أيضا تمثل أول ظهور للناس الذين يخرجون إلى الشوارع بعد عقد من التقشف، حيث عوقبت الجماهير بسبب تجاوزات النخبة.

0:00 0:00
Speed:
December 20, 2018

الشعب الفرنسي يخوض معركة العودة

الشعب الفرنسي يخوض معركة العودة

(مترجم)

الخبر:

خلال الأسابيع الأربعة الماضية، احتشد آلاف المتظاهرين في فرنسا ضد الحكومة في قضية أصبحت تعرف باسم حركة "السترات الصفراء"، في إشارة إلى سترات السلامة التي يحتفظ بها السائقون الفرنسيون في سياراتهم. الاحتجاجات شائعة الحدوث في فرنسا، فالبلاد لديها تاريخ طويل من الاحتجاجات والثورة. لكن احتجاجات السترات الصفراء أدت إلى بعض أسوأ أعمال الشغب في باريس وأجبرت السلطات على إغلاق أجزاء من المدينة. وبعد أربعة أسابيع من الاحتجاجات، اضطر إيمانويل ماكرون في خطاب متلفز وجهه للأمة إلى إلغاء عدد من السياسات والتعهد بزيادة في الحد الأدنى للأجور. كانت هذه المرة الأولى التي يتراجع فيها الرئيس الفرنسي عن قرار سياسي. وتأتي الاحتجاجات في الوقت الذي انخفضت فيه شعبية ماكرون إلى مستوى متدنٍ، ولكنها أيضا تمثل أول ظهور للناس الذين يخرجون إلى الشوارع بعد عقد من التقشف، حيث عوقبت الجماهير بسبب تجاوزات النخبة.

التعليق:

منذ أن أصبح رئيساً في أيار/مايو 2017، قام ماكرون بخفض الضرائب على الشركات، وخفض الإنفاق العام وخفف العبء الضريبي على الأغنياء. وهذا أضر بصورة ماكرون الأمر الذي جعله يظهر بمظهر رئيس الأثرياء. كانت الزيادة المخططة على ضريبة الوقود التي ستبدأ في عام 2019 هي القشة الأخيرة بالنسبة للكثيرين. فقد بدأت المظاهرات في فرنسا في 17 تشرين الثاني/نوفمبر 2018 وانتشرت بسرعة. فارتفاع أسعار الوقود وارتفاع تكاليف المعيشة وادعاءات بأن إصلاحات الضرائب الحكومية كانت تشكل عبئا غير متناسب يلقي بثقله على الطبقات العاملة والمتوسطة. ومنذ الأزمة الاقتصادية العالمية في عام 2008، عملت الحكومات في الغرب على إنقاذ الصناعة المصرفية، فيما خفضت الإنفاق على البرامج الإنسانية تحت ستار التقشف.

تتركز الثروة في فرنسا بدرجة عالية في صفوف الأغنياء، حيث يملك 1٪ من السكان 23٪ من الثروة الفرنسية، و10٪ فقط من أغنى أغنياء فرنسا يمتلكون 54٪ من ثروة البلاد. ويشارك نصف سكان فرنسا البالغ عددهم 67 مليون نسمة في 6.3 في المائة فقط من ثروة البلاد. وعلى الرغم من نظام الضمان الاجتماعي في فرنسا، يتم فرض ضرائب على الدخل بنسبة 48٪ ما لا يبقي إلا القليل من الدخل الذي يجنيه العمال. إن فرنسا مثل الكثير من العالم الرأسمالي فيها تفاوت عميق في الثروة، وقد حافظ الرؤساء المتعاقبون على حماية ثروات الأغنياء على حساب الغالبية العظمى من الناس في البلاد. ارتفعت مستويات المعيشة والأجور في فرنسا بعد الحرب العالمية الثانية خلال 30 عاماً من النمو. واستمرت المكاسب في الأجور تتنامى لذوي الدخل المنخفض والمتوسط ​​خلال أوائل الثمانينات. لكن تلك الديناميكيات التي تم تفكيكها مع قيام الحكومات الفرنسية المتعاقبة والتي قامت بالحد من المكاسب في الأجور، ولكنها في الوقت ذاته خفضت الضرائب على دافعي الضرائب الأكثر ثراء في فرنسا. وقد تخلصت شركة ماكرون من ضريبة الثروة التي طبقت على كثير من أصول أغنى الأسر الفرنسية، واستبدلت بها واحدة لا تنطبق إلا على ممتلكاتها العقارية.

 هذه الحقائق هي التي قدمت الكثير من الدعم لحركة السترات الصفراء. وابتداءً من تشرين الأول/أكتوبر 2018، اجتذبت الحركة مئات الآلاف من المؤيدين عبر الإنترنت في المدن الريفية الصغيرة والبلدات التي تكافح في شمال فرنسا، وتشمل نشطاء من حركة السترات الصفراء والعاطلين عن العمل والمتقاعدين ذوي الدخل المنخفض والوالدين الوحيدين الذين يكافحون من أجل الرفاهية أو الحد الأدنى للأجور. كما أنها تشمل أيضا عمال الياقات الزرقاء والبيضاء وأصحاب المشاريع الصغيرة الذين يعتبرون أفضل حالا ولكنهم يشعرون بالإنهاك أو يتعرضون للغش عبر الضرائب والأسعار المرتفعة. ومثل العديد من الناخبين في استفتاء خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، فإن السترات الصفراء تعتقد بأنهم تعرضوا للخيانة بسبب عقود من الإهمال والاستغلال من السياسيين المهووسين الساعين لإرضاء الأغنياء. ووصف صحفي فرنسي الوضع على النحو التالي: "لقد تحمل الشعب الفرنسي التخفيضات الثابتة والمتراكمة لمستويات المعيشة على مدى السنوات العشرين الماضية. الفرنسيون أناس عمليون وشدوا أحزمتهم بقدر ما استطاعوا حتى جاءت النهاية، ووجدوا أنه لم يعد بإمكانهم البقاء على قيد الحياة".

كانت فرنسا تُقدَّم دوماً كبلد عظيم لقضاء العطلات والاستمتاع بالثقافة والطعام والمناظر الطبيعية، ولكن يبدو أنها مكان مختلف إذا ما تعين عليك العيش والعمل فيها. فبعد عقد من التقشف وعقود من السياسات التي أعطت الأفضلية لنخبة صغيرة غنية، طفح الكيل عند الفرنسيين ونزلوا إلى الشوارع. في جميع أنحاء العالم الغربي، لجأ الكثيرون إلى الأحزاب اليمينية وغير التقليدية حيث لم تعد الأحزاب السائدة تمثلهم. في الانتخابات التي جرت منذ أكثر من 15 شهراً، حصلت مارين لوبان من أقصى اليمين على أصوات مهمة لسياساتها، ورأى العديد أنها ستكون بديلا عن السياسيين الأساسيين. وعلى الرغم من خسارتها، ودعمها العظيم كما يظهر لكثير من الفرنسيين، فإن هذا النظام لم يعد صالحا للخدمة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست