الشعب الكردي المسلم بين خندقين (مترجم)
الشعب الكردي المسلم بين خندقين (مترجم)

 وقعت اشتباكات بعد أن رفضت الشرطة منح ترخيص لمسيرة احتجاجية لحزب الشعوب الديمقراطي كان قد خطط لها للتظاهر ضد تدابير أمنية مكثفة في بلدة سور في مدينة ديار بكر.

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2015

الشعب الكردي المسلم بين خندقين (مترجم)

الشعب الكردي المسلم بين خندقين

(مترجم)

الخبر:

وقعت اشتباكات بعد أن رفضت الشرطة منح ترخيص لمسيرة احتجاجية لحزب الشعوب الديمقراطي كان قد خطط لها للتظاهر ضد تدابير أمنية مكثفة في بلدة سور في مدينة ديار بكر. وقد قتل شخصان بالرصاص خلال هذه الحوادث. (وكالات).

التعليق:

تستمر الاشتباكات بعد الانتخابات على نحو متزايد بين حزب العمال الكردستاني والسلطات الحكومية في المنطقة الشرقية والجنوبية الشرقية والتي بدأت بالفعل قبل انتخابات 1 تشرين الثاني/نوفمبر وتزايدت بعد إعلان نتائج الانتخابات. ويسود حظر التجول والمواجهات خصوصا في بلدتي سيلفان وسور في ديار بكر، وبلدة سيزر في سيرناك، وبلدة نصيبين في منطقة ماردين ويوكسيكوفا في هكاري. وبينما يهاجر عشرات الآلاف من الناس من هذه المناطق إلى المناطق المجاورة، فإن حظر التجول وتهديد حزب العمال الكردستاني يمنع باقي الأفراد من تلبية احتياجاتهم الأساسية. وعلى الرغم من أن الشرطة توفر للناس في المناطق الآمنة جزئيا الخبز والماء والغذاء، فإن المشاكل في المناطق غير الآمنة لا تزال مستمرة. وبينما تستمر العمليات لعدة أيام، فإن المدارس، والشركات التجارية، والمكاتب العامة أصبحت غير قادرة على تقديم الخدمات.

تصريحات الرئيس أردوغان بشأن اتفاق دولمبهس بعد فشل حزب العدالة والتنمية في الوصول  إلى السلطة  منفردا في انتخابات 7 حزيران/يونيو،  فضلا عن إعلان حزب العمال الكردستاني عدم إلقاء السلاح؛ الذي وضع "عملية الحل" القائمة منذ سنتين "مجمدة"، قد أدى إلى اندلاع الاحتجاجات في العديد من المدن. في أعقاب ذلك بدأت الدولة في شن عمليات داخل البلاد وفي منطقة قنديل، واستمر هذا الصراع على نحو متزايد.

وقد أدلى رئيس الوزراء أحمد داود أوغلو بالتصريحات التالية فيما يتعلق بالعمليات الأخيرة: "سيتم تطهير كل المناطق من العناصر الإرهابية، من شارع لشارع ومن بيت لبيت إذا لزم الأمر". وقال: "قلت إن هذه الجبال سيتم تطهيرها عندما حدث داليجا. ويتم مسح تلك الجبال. ولن يبقى هناك شارع واحد في سيزر وسيلوبي وسور غير مطهر. لن نترك بيتا واحدا"، و"لن نعطي فرصة لأولئك الذين يسعون لتحويل سيزر إلى كوباني". وتظهر هذه التعليقات أن الدولة ستستمر في سياستها الأمنية لحين آخر.

تركيا هي الدولة التي تعيش فيها غالبية الأكراد. ورأى حزب العدالة والتنمية أن حزب العمال الكردستاني قد عزز فعاليته على الصعيدين العسكري وفي المناطق الحضرية أثناء "عملية الحل". ويشكل هذا الوضع عائقا لحزب العدالة والتنمية في كسب تأييد الشعب الكردي، وكذلك في اتخاذ الخطوات المتعلقة بتركيا. ويسعى حزب العدالة والتنمية إلى تدمير حزب العمال الكردستاني وامتداداته في المنطقة من خلال التفويض الذي تلقاه في الانتخابات العامة ودعم الجمهور. وبالتالي فإنه يواصل حظر التجول والعمليات.

حزب العمال الكردستاني يريد الحفاظ على ما حققه من إنجازات من "عملية الحل". لقد أراحت "عملية الحل" شعوب المنطقة، ولكنها خفّضت أسباب محاربة الدولة. بالنسبة للسكان المحليين، فإن كسب الأعضاء من خلال الاستراتيجية القديمة والإجراءات المخططة لم يعد مناسبا كما كان من قبل. هذا هو السبب في تغيير حزب العمال الكردستاني استراتيجيته ونقل الصراع بعيدا أكثر فأكثر عن المناطق الريفية إلى المدن. لقد علّمت أحداث كوباني ودعم الشعب، وكذلك الخبرات بجانب صفوف حزب الاتحاد الديمقراطي في سوريا، علمت حزب العمال الكردستاني حرب المدن. وفي الواقع، لقد أصبحت كوباني مقرا لكبار قادة حزب العمال الكردستاني بصدارة كل من باهوز آردال، ومصطفى كاراسو ونورالدين صوفي.

وتسعى الدولة لعرقلة تعزيز حزب العمال الكردستاني في المدن واسترداد إنجازات حزب العمال الكردستاني في السنتين الماضيتين. وهكذا، بقولها بأنه "ليست هناك مشكلة كردية وإنما هناك مشكلة حزب العمال الكردستاني"، فإنها تخطط لكسب تأييد الشعب للسياسة الديمقراطية وإبعادها من حزب العمال الكردستاني وامتداداته. وسوف يتيح تحقيق هذا اتخاذ تدابير فعالة ضد الاحتمالات في العراق وسوريا. وستتخذ الدولة خطوات سياسية جديدة باسم قرار بعد هذه الاشتباكات.

إن نقل المعارك إلى المدن، وحفر الخنادق والأنفاق في الشوارع هو نضال حزب العمال الكردستاني للتمكين، من خلال  كسب دعم الشعب وتركيع الدولة. حتى وإن أخفق في تحقيق ذلك، فإنه لا يزال خطوة تهدف إلى تعزيز يده في المفاوضات مع الدولة. وإذا تمكن من تحقيق ذلك، فإنه يهدف إلى الحصول على مطالبها في مفاوضات محتملة مع الدولة، ولو تحت اسم مختلف.

وقد أجبرت هذه التجارب شعوب المنطقة على ما يشبه اختيار حالة من حالات الوفاة. لقد اضطرت لاتخاذ خيار بين أن تكون مع الدولة الديمقراطية العلمانية، أو أن تكون بجانب المنظمة التي تضطهد شعبها. وهكذا، فقد كان الشعب الكردي المحلي دائما هم المظلومين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست