الشعب التركي محصور بين عدو يدعو للتصويت بـ"نعم" وإرهابي يدعو للتصويت بـ"لا"
الشعب التركي محصور بين عدو يدعو للتصويت بـ"نعم" وإرهابي يدعو للتصويت بـ"لا"

الخبر: أعرب دنيز بايكال نائب حزب الشعب الجمهوري عن أنطاليا أنه في حال كانت نتيجة استفتاء الشعب هي "لا" فإنهم سيحتفلون بذلك اليوم وبـ29 تشرين الأول/أكتوبر، حيث قال "سيكون وكأننا قمنا بالإعلان عن قيام جمهوريتنا في ذلك اليوم، حتى إننا سنعيش الفرحة نفسها وكأننا حررنا الوطن في ذلك اليوم كما عشناها بشوق وشغف في 9 أيلول 1922 عندما أسقطنا العدو في البحر في إزمير، ونصب جنودنا رايتنا العزيزة على سطح قصر الولاية تلك الراية التي رسمت فيها النساء الهلال والنجمة على الأقمشة الحمراء وخاطتها". (ملييت 2017/04/03)

0:00 0:00
Speed:
April 05, 2017

الشعب التركي محصور بين عدو يدعو للتصويت بـ"نعم" وإرهابي يدعو للتصويت بـ"لا"

الشعب التركي محصور

بين عدو يدعو للتصويت بـ"نعم" وإرهابي يدعو للتصويت بـ"لا"

الخبر:

أعرب دنيز بايكال نائب حزب الشعب الجمهوري عن أنطاليا أنه في حال كانت نتيجة استفتاء الشعب هي "لا" فإنهم سيحتفلون بذلك اليوم وبـ29 تشرين الأول/أكتوبر، حيث قال "سيكون وكأننا قمنا بالإعلان عن قيام جمهوريتنا في ذلك اليوم، حتى إننا سنعيش الفرحة نفسها وكأننا حررنا الوطن في ذلك اليوم كما عشناها بشوق وشغف في 9 أيلول 1922 عندما أسقطنا العدو في البحر في إزمير، ونصب جنودنا رايتنا العزيزة على سطح قصر الولاية تلك الراية التي رسمت فيها النساء الهلال والنجمة على الأقمشة الحمراء وخاطتها". (ملييت 2017/04/03)

التعليق:

الأحزاب السياسية والنواب يقومون بتشبيهات غريبة بشأن استفتاء الشعب الذي سيتم إجراؤه في 16 نيسان. فمنهم من يطلق على الشعب أنه إرهابي وغيرهم أنه عدو! كذلك فقد قال رئيس الوزراء بن علي يلدريم سابقا عن الاستفتاء "لماذا نقول "نعم"؟ نقول نعم لأن حزب العمال الكردستاني يقول "لا"، ونقول نعم لأن جماعة غولن تقول "لا"، ونقول نعم لأن حزب الشعوب الديمقراطي يقول "لا"، فانظروا إلى القائلين بـ"لا" واتخذو قراركم بناء على ذلك". رئيس الوزراء بكلماته هذه يلحق القائلين بـ"لا" بحزب العمال الكردستاني ويعلن عنهم إرهابيين!

والآن دنيز بايكال الرئيس العام السابق لحزب الشعب الجمهوري يشبه القائلين بـ"نعم" باليونانيين الذين تم رميهم في البحر في إزمير عام 1922. كذلك فإن حسني بوزكورت نائب حزب الشعب الجمهوري عن قونيا قال في برنامج تلفزيوني "في 16 نيسان ستكون النتيجة "لا" بنسبة 60-65%. لكن إن كانت النتيجة "نعم"، فسننطلق من سامسونج ونلقي بكم وبكل سلالتكم في بحر إزمير، ونثير الفوضى لكي لا نسمح لكم باستلام الحكم في دولتنا". ففي كلماته هذه يعلن أن الشعب عدو! كما أن الاستفتاء الذي سيقام في 16 نيسان قد أظهر لون الأحزاب السياسية التركية بكل وضوح. فبينما جناح "نعم" من حزب العدالة والتنمية وحزب العمل القومي المواليان لأمريكا يدعمان النظام الرئاسي، إلا أن جناح "لا" من حزب الشعب الجمهوري وحزب الشعوب الديمقراطي المواليين للإنجليز يدعمان النظام البرلماني. وكلاهما يستغلان الشعب لأغراضهما السياسية القذرة ويشبهان الشعب التركي المسلم باليونانيين الكفار أو بالجماعات الإرهابية ويستخدمان ذلك من أجل ترسيخ دعاياتهم والضغط على الشعب من أجل الإدلاء بـ"نعم" أو "لا"!

إن الشعب منحصر بين "نعم" و"لا" التي تصب في مصلحة الأعمال السياسية للأحزاب أو بالأحرى للقوى العالمية التي وراء تلك الأحزاب. إما أن يصوت بـ"نعم" فيلقى إلى البحر، أو يصوت بـ"لا" فيعلن أنه إرهابي!!

لذلك فإننا نقول للشعب التركي: خلصوا أنفسكم من هذا الحصار بقولكم "لا" لكلا النظامين الرئاسي والبرلماني؛ فكلاهما نتاج الرأسمالية. بذلك لن تكونوا "أعداء" ويلقى بكم في البحر، ولا واقعين تحت اسم "الإرهاب". قولوا "نعم" للخلافة فتنالوا السعادة في الدنيا والآخرة. وتتحرروا من استعباد المستعمر لتصبحوا أسياد الأرض. وبدل أن تكونوا "العدو" وتلقوا في البحر أو تكونوا "إرهابيين" وتطردوا، تقومون أنتم بإلقاء العقليات العدوة والإرهابية في البحر.

غير أن القول بـ"نعم" أو "لا" للنظام الرئاسي أو البرلماني هو في الحقيقة يخدم نفس الغاية. وهو سعي الكفار لاستمرارية النظام العلماني الذي ألبسوه لتركيا بعد إلغاء الخلافة عام 1924. فإن كانت النتيجة "نعم" أو "لا" فلن يطرأ أي تغيير على الحياة السياسية التركية أبدا. التغيير الوحيد سيكون على اسم النظام فقط، من النظام البرلماني إلى النظام الرئاسي. غير ذلك فلن يطرأ أي تغيير أو حل لأي من المشاكل مثل الفساد، و(الإرهاب)، والأزمات الاقتصادية والسياسية، والتضخم، والبطالة، وغيرها الكثير... لأن هذه المشاكل ليست من النظام البرلماني أو النظام الرئاسي بل جميعها أوساخ النظام الرأسمالي.

طالما لم يتم اقتلاع النظام الرأسمالي من جذوره فإن هذه المشاكل المتفشية ستستمر دائما. حتى إنه عند النظر إلى تصريح نائب حزب الشعب الجمهوري أعلاه، فسيتم إطلاق حملة ضد الأعداء بنظره وإشعال حرب "التحرير" للإلقاء بالمصوتين بـ"نعم" في بحر إزمير. كذلك فإن كانت نتيجة الاستفتاء "نعم" فإن حزب الشعب الجمهوري، وإن كانت "لا" فإن حزب العدالة والتنمية والحركة القومية، كلهم سيحولون البلد إلى ميدان حرب. وبينما يظن الجميع خيرا من الاستفتاء سيتحول الوضع إلى كابوس. لذلك فإن الحملات الدعائية المزخرفة التي تبثها الأحزاب السياسية على شاشات التلفزيون ليست إلا مغالطة وخداعاً.

فإن كانت هذه الحملات الدعائية التي تبثها الأحزاب السياسية عبر التلفزيون مغالطة وخداعاً فكيف يكون التخلص من هذه المشاكل؟ بتغيير النظام؟ أم بتغيير أسلوب النظام؟ أم بتحويل لفظ النظام البرلماني إلى لفظ النظام الرئاسي؟ أم بتغيير النظام كليا؟

طبعا ليس بتغيير أسلوب النظام بل بتغيير النظام كليا من جذوره؛ تغييرا جذريا للمبدأ كما رأينا في الماضي عبر العصور سواء من جاهلية العرب، أو ظلام الأوروبيين، أو انحطاط الروس. فللمسلمين مبدأ عقلي وهو الإسلام، لذلك فعلى المسلمين القول بـ"نعم" لمبدأ الإسلام وليس للمبدأ الرأسمالي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكنباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست