الشباب، السياسة والإسلام (مترجم)
الشباب، السياسة والإسلام (مترجم)

الخبر:   عقدت مؤخرا، مناقشة بشأن مشاركة الشباب الماليزيين في السياسة. وكانت هناك تقارير إعلامية تفيد بأن شباب البلد أصبحوا أقل اهتماما بالسياسة. ويستدل على ذلك بعدم مشاركة الشباب في المحادثات السياسية أو الأنشطة التي تقوم بها الأحزاب السياسية، فضلا عن انخفاض النسبة المئوية للناخبين الشباب في ماليزيا. وتفيد التقارير بأن نحو 14 مليون ناخب بلغوا سن 21 عاما قد سجلوا بالفعل، غير أن ما يزيد على 3.8 مليون ناخب شاب لم يسجلوا بعد للتصويت. وقد أظهرت بعض الدراسات الاستقصائية أيضا أن الكثير من الشباب، لسبب ما، لا يهتمون بالسياسة إلا قليلا. ويعتقد أن من بين العوامل الرئيسية التصور السلبي بين الشباب تجاه السياسيين والأحزاب السياسية. وهذا ما دفعهم إلى التوقف عن وضع أي أمل، مما جعلهم يقررون عدم الاهتمام بالسياسة.

0:00 0:00
Speed:
October 30, 2017

الشباب، السياسة والإسلام (مترجم)

الشباب، السياسة والإسلام

(مترجم)

الخبر:

عقدت مؤخرا، مناقشة بشأن مشاركة الشباب الماليزيين في السياسة. وكانت هناك تقارير إعلامية تفيد بأن شباب البلد أصبحوا أقل اهتماما بالسياسة. ويستدل على ذلك بعدم مشاركة الشباب في المحادثات السياسية أو الأنشطة التي تقوم بها الأحزاب السياسية، فضلا عن انخفاض النسبة المئوية للناخبين الشباب في ماليزيا. وتفيد التقارير بأن نحو 14 مليون ناخب بلغوا سن 21 عاما قد سجلوا بالفعل، غير أن ما يزيد على 3.8 مليون ناخب شاب لم يسجلوا بعد للتصويت. وقد أظهرت بعض الدراسات الاستقصائية أيضا أن الكثير من الشباب، لسبب ما، لا يهتمون بالسياسة إلا قليلا. ويعتقد أن من بين العوامل الرئيسية التصور السلبي بين الشباب تجاه السياسيين والأحزاب السياسية. وهذا ما دفعهم إلى التوقف عن وضع أي أمل، مما جعلهم يقررون عدم الاهتمام بالسياسة.

التعليق:

بنظرة سريعة، نعترف بأن الشباب الماليزي ربما فقدوا اهتمامهم بالسياسة على أساس تسجيل الناخبين وحضورهم المحادثات السياسية. ومع ذلك، إذا نظرنا في المسألة بعمق، هناك العديد من العوامل الأخرى التي أثرت على الشباب في عدم الاهتمام بالسياسة. وإنه ليس من الدقيق حقا قياس هذه الظواهر على أساس النسبة المئوية فقط لتسجيل الناخبين أو حضورهم في المحادثات السياسية. وإذا نظر المرء بعمق وإمعان إلى تطور الشباب، سيجد أن فقدان الاهتمام أو الجهل في السياسة له تاريخ طويل وينطوي على عوامل مختلفة. بالإضافة إلى الإحباط من السياسيين والأحزاب السياسية، فإن معظم الشباب يكافحون من أجل العثور على وسيلة للخروج من الحياة التي جعلتهم يركزون فقط على المسائل الشخصية. وهناك أيضا بعض الشباب غير المبالين بالسياسة ولا يهتمون إلا بالترفيه والمرح. فبعضهم يهتم بالشؤون العائلية، مع إعطاء الأولوية لمسؤولية خدمة والديهم على المسائل الأخرى. ولا يقل عن أولئك الذين يخافون من الانخراط في السياسة، ولا سيما عند الانحياز مع المعارضة خشية أن يتم رصدهم أو فصلهم أو اعتقالهم.. وعلاوة على ذلك، فإن العوائق السياسية التي تعترض المساجد والحرم الجامعي، بأفعال مثل قانون التحريض على الفتنة، وقانون المطبوعات، والصحافة، وقوانين منع الجريمة (بوكا وسوسما) والأعمال الوحشية الأخرى تخلق الخوف بين الشباب وبالتالي تجعلهم يفقدون اهتمامهم بالسياسة. بالإضافة إلى ذلك، فإن الضغوط الموجودة في ظل النظام العلماني-الديمقراطي تقضي على حياة الشباب إلى حد أن بعضهم لا يتجاهل السياسة فحسب، بل يحدث الأسوأ من ذلك، حيث ينتهي به الأمر كقمامة المجتمع!

هذه الأسباب تساهم في فقدان الاهتمام بالسياسة بين الشباب، غير أن السبب الحقيقي وهو الأهم والأكثر جوهرية: هو الفهم الخاطئ لمعنى السياسة وبالتالي يخلق تصورات سلبية بين الشباب. السياسة مفهومة بمعنى ضيق جدا. وبالنسبة للكثيرين، فإن السياسة تعني الانتخابات أو البرلمان، ولا تهتم إلا بالقوة والكفاح من أجل السلطة. ونتيجة لهذه المفاهيم الخاطئة، وفشل الحكومة والفوارق السياسية المروعة في البلاد، ينظر إلى السياسة على أنها شيء قذر ومثير للاشمئزاز، مزدحم بالاحتيال والجهل والفساد وإساءة استعمال السلطة والاضطهاد والفضائح والاستبداد.

ومن أجل فهم السياسة بشكل صحيح وواضح، فإنه يجب على المرء أن يعود إلى القرآن والسنة. لغويا، السياسة تشير إلى الحفاظ على المصالح وإدارتها. ووفقا للشريعة، تعرف السياسة بأنها إدارة شؤون الناس داخل الدولة وخارجها، ورعايتهم. وبالتالي، ففي الإسلام، يشكل البحث عن شؤون الناس في جميع مناحي الحياة، بما في ذلك الحكم والاقتصاد والتعليم وغيرها، سياسة. في الإسلام، السياسة بمعناها العام موجودة في جميع مجالات الحياة، وما أكثر التعامل مع شؤون رعايا الدولة! فكل مسلم لا خيار له سوى أن يكون مسيسا، بالمعنى الحقيقي. وذلك لأن السياسة هي جزء من الإسلام، ولا يمكن فصلها عنه. وبالتالي، فإن ما يجب على الشباب القيام به الآن هو ألا يبتعدوا عن السياسة أو يتجاهلوها، ولكن عليهم فهم السياسة بمعناها الصحيح وبالطريقة الصحيحة.

وينبغي أن يتبنى جيل الشباب سياسة حقيقية من أجل فهم الطبيعة الشيطانية للسياسة العلمانية المعاصرة والتحريض على التغيير. وينطوي هذا التغيير على تركيز قلوب وعقول الشباب على الطموح والتطلع إلى دولة تضطلع وتتولى مسؤولية تنفيذ وتطبيق الإسلام في الاعتناء ورعاية شؤون رعايا الدولة، الدولة التي من خلال السياسة، تحقق الرخاء والتوازن في السلطة من خلال تطبيق شريعة الله ونوال رضوان الله سبحانه وتعالى، إن شاء الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست