دوشنبے میں پوتن کے دورے کی وجہ سے نماز معطل!
(مترجم)
خبر:
7 سے 12 اکتوبر تک دوشنبے کی کئی مساجد میں عارضی طور پر نمازِ جماعت معطل رہے گی۔ شہر کے محکمۂ داخلی امور کے مطابق، یہ پابندیاں "شہر میں ہونے والے اہم واقعات کے سلسلے میں" نافذ کی جا رہی ہیں، جس سے مراد روسی صدر ولادیمیر پوتن کا سرکاری دورہ ہے۔
8 سے 12 اکتوبر تک مافلونو یعقوب شرخی، ساری آسیو، ابو حنیفہ، خوجی عصمت اللہ اور مسجد امام بخاری میں عارضی طور پر نمازِ جماعت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلووسوف 7 اکتوبر کو تاجکستان میں روسی وزارت دفاع کی فوجی تنصیبات کا دورہ کرنے کے لیے دوشنبے پہنچے۔ دوشنبے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال تاجک وزیر دفاع امام علی صوبرزودہ اور چیف آف جنرل اسٹاف بوبوجون سعیدزودہ نے کیا۔
تبصرہ:
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تاجکستان میں قائم فوجی اڈہ نمبر 201 اس کی سرحدوں سے باہر روس کی سب سے بڑی فوجی تنصیب ہے، جو دوشنبے اور بوختار شہروں میں واقع ہے۔ اس اڈے میں موٹرائزڈ رائفل، ٹینک، توپ خانہ، انٹیلی جنس، فضائی دفاع، کیمیائی، حیاتیاتی، تابکاری اور مواصلاتی یونٹ شامل ہیں۔ تاجکستان میں روسی فوجیوں کی کل تعداد تقریباً 10,000 ہے، جبکہ تاجک قومی فوج کی تعداد تقریباً 9,000 فوجیوں سے زیادہ نہیں ہے!
اس سب کے پیش نظر، پوتن کا دورہ کسی غیر ملکی رہنما کے سفارتی ریاستی دورے سے زیادہ وسطی ایشیا میں اپنی نوآبادی کا دورہ کرنے والے روسی آقا کے معائنے کے دورے سے مشابہ لگتا ہے۔ رحمانوف روس کے سامنے اپنی اطاعت کو نہیں چھپاتے، اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ ماسکو ہی ان کے نظام کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رحمانوف کے نظام میں اس طرح کے مواقع پر مساجد میں نمازِ جماعت کو معطل کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جولائی 2024 میں، چینی صدر شی جن پنگ کے سرکاری دورے کی وجہ سے دوشنبے میں نمازِ جمعہ منسوخ کر دی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ رحمانوف تاجکستان کو اپنے غیر ملکی سرپرستوں کے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسلام سے خالی ہے، یعنی جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا دفتر کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
محمد منصور