السلطات الأوزبيكية تواصل تحريف الإسلام بواسطة الأئمة الفاسدين
السلطات الأوزبيكية تواصل تحريف الإسلام بواسطة الأئمة الفاسدين

الخبر:   في 7 كانون الثاني/يناير، بثت شركة البث التليفزيوني الأوزبيكي على قناة "أوزبيكستان" برنامجا بعنوان "الإسلام - الجوهر والتفسيرات"، وكان مخصصا لدحض المحاضرة المصورة للأخ محمود عبد المؤمن، والتي شرح فيها قضية الجهاد. نفى مقدم البرنامج إلهوم ماروبوف، رئيس الشؤون الدينية، ومدير المدرسة العليا مير عرب - يولدوشجاييف خ.، ادعاءات الأخ محمود عبد المؤمن بأن المعنى الشرعي للجهاد هو القتال في سبيل الله، أو تقديم المساعدة بالممتلكات أو الكلمات أو أي عمل له علاقة مباشرة بالحرب. عميد المدرسة مير عرب يولدوشجاييف خ. نص على أن مصطلح الجهاد يجب أن يؤخذ بالمعنى اللغوي لهذه الكلمة، أي بذل جهد كبير في فعل شيء، مثل الدراسة، ومساعدة الوالدين، وما إلى ذلك، ووصف هذه الأعمال بالجهاد. وذكر أيضاً أن الجهاد اليوم يقتصر فقط على حماية الدولة ولا يرتبط بأي شكل من الأشكال بأعمال عسكرية ضد الكفار أو نشر الإسلام في جميع أنحاء العالم.

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2021

السلطات الأوزبيكية تواصل تحريف الإسلام بواسطة الأئمة الفاسدين

السلطات الأوزبيكية تواصل تحريف الإسلام بواسطة الأئمة الفاسدين

(مترجم)

الخبر:

في 7 كانون الثاني/يناير، بثت شركة البث التليفزيوني الأوزبيكي على قناة "أوزبيكستان" برنامجا بعنوان "الإسلام - الجوهر والتفسيرات"، وكان مخصصا لدحض المحاضرة المصورة للأخ محمود عبد المؤمن، والتي شرح فيها قضية الجهاد.

نفى مقدم البرنامج إلهوم ماروبوف، رئيس الشؤون الدينية، ومدير المدرسة العليا مير عرب - يولدوشجاييف خ.، ادعاءات الأخ محمود عبد المؤمن بأن المعنى الشرعي للجهاد هو القتال في سبيل الله، أو تقديم المساعدة بالممتلكات أو الكلمات أو أي عمل له علاقة مباشرة بالحرب.

عميد المدرسة مير عرب يولدوشجاييف خ. نص على أن مصطلح الجهاد يجب أن يؤخذ بالمعنى اللغوي لهذه الكلمة، أي بذل جهد كبير في فعل شيء، مثل الدراسة، ومساعدة الوالدين، وما إلى ذلك، ووصف هذه الأعمال بالجهاد. وذكر أيضاً أن الجهاد اليوم يقتصر فقط على حماية الدولة ولا يرتبط بأي شكل من الأشكال بأعمال عسكرية ضد الكفار أو نشر الإسلام في جميع أنحاء العالم.

التعليق:

إن العمل الدؤوب لشباب حزب التحرير لاستئناف الحياة الإسلامية، لا يقتصر على الأرض، ولكن أيضاً على الإنترنت، حيث يتصدون لنظام المجرم ميرزياييف. في الآونة الأخيرة، صعد نظام الطاغية هجومه المبدئي ضد الإسلام والمسلمين. في هذا الصراع، يستخدم النظام الإجرامي الأئمة الفاسدين لتحريف أحكام الإسلام وإبعاد المسلمين عن دينهم.

إن الأئمة الفاسدين لا يخافون الله، وهم في سبيل خدمة أسيادهم يتهمون شباب الحزب بأنهم خونة لوطنهم، وجاهلون لا يعرفون الإسلام، وبأنهم منظمو الحركات الدينية المتطرفة والإرهابية. لكن كل جهود هؤلاء الأئمة تذهب سدى، لأن كذبهم لا يصمد أمام الحقيقة.

لست بحاجة لأن تكون عالماً لكي تقرأ تاريخ وصول الإسلام إلى آسيا الوسطى. في الواقع، لن تجد مؤرخاً واحداً يدحض حقيقة أن الإسلام جاء إلى آسيا الوسطى خلال عهد الأمويين بطريقة الجهاد، وكان قتيبة بن مسلم من قادة الجيوش. لم يقاتل الصحابة فقط للدفاع عن المدينة في يوم معركة الخندق، ولكن أيضاً غزوا الشام والعراق وشمال أفريقيا، ...إلخ، وذلك بطريقة الجهاد. الرسول ﷺ بنفسه شارك في الكثير من الغزوات. ومنذ إقامة الدولة الإسلامية في المدينة المنورة، وحتى هدمها عام 1924م، كان الجهاد ولا يزال طريقة لنشر الإسلام.

إن النظام الإجرامي ممثلا بميرزياييف والعلماء الفاسدين يصورون أنفسهم بأنهم خبراء ومدافعون عن الإسلام، ويفسرون الشريعة بما فيه مصلحتهم الخاصة. وفي الوقت نفسه، لا يطبق نظام الطاغية هذا أي حكم شرعي في الحياة. نرى كيف أن هؤلاء "المدافعين عن الإسلام الحقيقي" يمنعون تدخل الدين في الحياة، وينص دستور البلاد على أن جمهورية أوزبيكستان دولة علمانية وأن الدين منفصل عن الحياة، بينما يقول الله سبحانه في القرآن الكريم: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ﴾، ويقول: ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ﴾، ويقول: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾.

لن نجد قانوناً واحداً للشريعة في النظام الاجتماعي أو النظام الاقتصادي أو نظام التعليم أو النظام السياسي لجمهورية أوزبيكستان. لماذا؟ ربما لأن هذا هو نظام الطاغية ميرزياييف يتخيل نفسه فرعوناً جديدا وقد أعلن الحرب على الإسلام والمسلمين.

لن يجرؤ أحد من هؤلاء الأئمة الفاسدين، والذين يتظاهرون بأنهم يمثلون الإسلام، بإخبار الطاغية بأن عليه أن يحكم وفق أحكام الله. لن يقول أي من هؤلاء الأئمة الفاسدين للطاغية إن تعذيب وقتل المسلمين لإبعادهم عن دينهم جريمة كبرى... وهناك العديد من الأمثلة على ذلك.

أيها المسلمون: ألا تكفينا معية الله تعالى للتخلص من هذا النظام الإجرامي وأئمته الفاسدين؟! انضموا إلى حزب التحرير واعملوا معه لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. يقول الله تعالى في كتابه الكريم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست