السلطات القرغيزية ضد النساء المسلمات في قضية الزي الشرعي (مترجم)
السلطات القرغيزية ضد النساء المسلمات في قضية الزي الشرعي (مترجم)

الخبر:   في 19 تموز/يوليو، نشرت وكالة المعلومات "K-news" مقال "أنار باكيتبيكوف" بعنوان "لافتات فاضحة: استفزاز أم دعوة للهوية الوطنية؟". أثار المؤلّف مسألة الحدث الأخير الذي أثار المسلمين في قرغيزستان. لمدة أسبوع تقريباً، كانت هناك محادثات مستمرة في المجتمع حول اللافتات المعلقة في عاصمة قرغيزستان مع صور لفتيات يلبسن الزي الشرعي والنقاب الوطني، ومع عبارة "أين نحن ذاهبون، شعبي البائس".

0:00 0:00
Speed:
July 26, 2016

السلطات القرغيزية ضد النساء المسلمات في قضية الزي الشرعي (مترجم)

السلطات القرغيزية ضد النساء المسلمات في قضية الزي الشرعي

(مترجم)

الخبر:

في 19 تموز/يوليو، نشرت وكالة المعلومات "K-news" مقال "أنار باكيتبيكوف" بعنوان "لافتات فاضحة: استفزاز أم دعوة للهوية الوطنية؟". أثار المؤلّف مسألة الحدث الأخير الذي أثار المسلمين في قرغيزستان. لمدة أسبوع تقريباً، كانت هناك محادثات مستمرة في المجتمع حول اللافتات المعلقة في عاصمة قرغيزستان مع صور لفتيات يلبسن الزي الشرعي والنقاب الوطني، ومع عبارة "أين نحن ذاهبون، شعبي البائس".

في 14 تموز/يوليو، عقد مؤتمر صحفي في بيشكيك تكريماً لزيارة المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل، تحدث فيه أتامباييف عن مبادرته لتخصيص الموارد المالية لوضع لافتات في جميع أنحاء البلاد. وقد علقت هذه اللافتات الكبيرة في أماكن مختلفة من بيشكيك، كما وقال ألمازبيك أتامباييف: "لا يوجد في هذه اللافتات شيء مشترك إطلاقاً مع القيم الإسلامية. يرجع هذا إلى الحفاظ على القيم الوطنية والتقاليد واللباس الوطني ولغتنا وثقافتنا. نحن لسنا بحاجة إلى العربية أو الباكستانية أو البنغالية أو الثقافات الأخرى".

التعليق:

جرى نقاش وجدال بين مسلمي قرغيزستان الشهر الماضي حول قضية اللباس الشرعي. بعض المسلمين الذين تسمموا بالتعليم الغربي بشكل عام، يتحدثون عن اللباس الشرعي على أنه شيء غريب عن ثقافتهم، بدون تقديم أي دليل على كلامهم. والجزء الآخر من المسلمين يتحدثون عنه بأنه يذكّرهم بماضيهم، ويقولون إنّ اللباس الشرعي جزءٌ لا يتجزأ من ثقافة الشعب القرغيزي. ولإثبات ذلك يستشهدون بعبارات شيوخهم وبالصور القديمة التي تظهر فيها المرأة المسلمة في اللباس الشرعي مع صور لأغطية الرأس التقليدية للشعب القرغيزي.

في وقت سابق، بدأت في المجتمع مناقشات لموضوع المؤتمر النسائي "مكان المرأة في تاريخ الإسلام"، والذي عقد في 27 أيار/مايو في مدينة أوش. ولقد ضم المؤتمر مئات من الشابات المسلمات في البلاد. وكان المؤتمر قد خصص لذكرى كورمانجان داتكا (حاكم قرغيزستان في أواخر القرن الـ19). وقد انتشرت بسرعة المعلومات والصور من المؤتمر على شبكات التواصل الإلكتروني. حيث تمت مناقشة وانتقاد أن جميع المشاركات في المؤتمر كن يرتدين اللباس الشرعي والنقاب.

إن الزيادة السريعة لمشاركة وأنشطة المسلمين والمسلمات المرتديات للباس الشرعي في البلاد هي مصدر قلق كبير للقوة الوحشية التي تحاول عزل مسلمي البلاد عن الإسلام. حيث تستخدم في صراعها ضد الإسلام والمسلمين، قوة الأئمة الفاسدين الذين يسيّرون فتاواهم بما يرضي السلطات الحاكمة. كما وتستخدم قوة وسائل الإعلام والمثقفين العلمانيين في مواجهة الصحفيين والكتاب. وخير مثال على ذلك هو الصحفي نارين إياب، الذي نشر صوراً من المؤتمر وتعليقاً على صفحته في الفيسبوك: "لقد فوجئت، لقد فكرت ما إذا كان هذا من قرغيزستان أم لا، لماذا نحتاج لكل هذا في القرن الـ21؟ هل من الضروري أن نتغطى ونلتف لإظهار أن الشخص تقي، إن الأخذ فقط بالشكل الخارجي دون فهم المعنى الحقيقي للدين هو ظاهرة سيئة. هل هذا هو الإسلام أم لا، هل هم مؤمنون أم غير مؤمنين، لا يهم، لكن الأمر السيئ أن المجتمع يسير إلى الوراء. جميع البشر يتحركون إلى الأمام، ولكن قرغيزستان اقتباساً عن ساليزان زيغيتوف فإن "أعينهم في الجزء الخلفي من رؤوسهم"، نحن ننظر للخلف، فليس لدينا النّخبة التي ستقودنا إلى الأمام".

مثل هذا الموقف تجاه المرأة المسلمة التقيّة، المطيعة لأوامر ربها، لا يأتي إلاّ من الفكرة العلمانية للمستعمرين الغربيين. فبعد كل شيء، كان الغرب من خلال تعليمهم الخبيث والفاسد ومن خلال المثقفين والسياسيين الفاسدين هو الذي جلب فكرة أن الإسلام لم يكن قادراً على حل المشاكل الملحّة للإنسان، مشيراً إلى أنه من عصور التدهور وقوانين القرون الوسطى.

ولكن الواقع يدل على أن فكرة العلمانية في الغرب ما هي إلا كذبة يستخدمها الغرب للاستعمار المادي والأخلاقي لبلادنا. ولجلب الأفكار العلمانية لمسلمي قرغيزستان، وليس فقط لهم، بل ضمن الغرب أن المسلمين أصبحوا متأخرين من الناحية الثقافية والمادية. وإننا نرى كيف يعيش الناس اليوم في الفقر بدون تقدم مادي لا على الصعيد العلمي ولا التكنولوجي، وفوق ذلك لا يوجد رقي من الناحية الأخلاقية.

وفوق هذا فإن السلطة تفسد الشباب بكل أنواع البرامج الترفيهية، وترسم وتخطط لهم كل أنواع الحلقات الضارة المفسدة من إدمان على الكحول أو إدمان على المخدرات. وبالتالي تضمن السلطات بأن الشباب غير قادرين على الاستقلال أو على حل مشاكلهم.

ولذلك، فإن السلطة لا تريد من مسلمي البلاد أن يمارسوا أنشطتهم وشعائرهم الدينية، وبالذّات عندما يتعلق الأمر بالشباب. فكلنا نعلم أن طبقة الشباب هي الطبقة الأكثر نشاطاً في المجتمع، وهي الطبقة التي يمكن أن تحرك الجبال التي تسد طريقها. وهنالك من الأمثلة ما هو كاف على ذلك من تاريخ المسلمين، سواء أكان في زمن الصحابة أو التابعين أو في وقت لاحق من شباب الأمة الصالحين.

إن الهجمات الشرسة على الإسلام والمسلمين في البلاد، سواء أكانت على لباس المرأة الشرعي أو على اللّحية أو على حملة الدعوة بالإضافة إلى أمور أخرى، كل هذا يبين صحوة مسلمي قرغيزستان ويظهر سعيهم لتنفيذ أوامر ربهم. ولكن كلما زادت قوة الحملة الشرسة على الإسلام والمسلمين، ازدادت سرعة إعادة إحياء دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. حيث قال النبي محمد e: «...، ثم تكون ملكًا جبرية فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست