الصراع بين روسيا وأمريكا على آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان
الصراع بين روسيا وأمريكا على آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان

الخبر:   في 28 شباط/فبراير شارك وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن في قمة C5 + 1 لقادة آسيا الوسطى وأمريكا في أستانة عاصمة كازاخستان ووصل إلى طشقند في اليوم نفسه. وكان في استقباله وزير خارجية أوزبيكستان بالإنابة بختيار سعيدوف والسفير الأمريكي جوناثان هينيك ومسؤولون آخرون. وفي 1 آذار/مارس استقبل الرئيس ميرزياييف وفدا برئاسة بلينكن. حسب موقع Kun.uz ومواقع إخبارية أخرى.

0:00 0:00
Speed:
March 11, 2023

الصراع بين روسيا وأمريكا على آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان

الصراع بين روسيا وأمريكا على آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان

الخبر:

في 28 شباط/فبراير شارك وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن في قمة C5 + 1 لقادة آسيا الوسطى وأمريكا في أستانة عاصمة كازاخستان ووصل إلى طشقند في اليوم نفسه. وكان في استقباله وزير خارجية أوزبيكستان بالإنابة بختيار سعيدوف والسفير الأمريكي جوناثان هينيك ومسؤولون آخرون. وفي 1 آذار/مارس استقبل الرئيس ميرزياييف وفدا برئاسة بلينكن. حسب موقع Kun.uz ومواقع إخبارية أخرى.

التعليق:

ذكرت إحدى أهم وكالات الأنباء في العالم "بلومبيرج" أن "بلينكن يذهب إلى دائرة نفوذ روسيا ويحاول تقريب بعض شركاء موسكو التقليديين من موقف الولايات المتحدة بشأن الحرب في أوكرانيا". هذه أول رحلة يقوم بها بلينكن إلى آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان. لقد أوضحت رحلة بلينكن أن أمريكا تحاول إبعاد دول آسيا الوسطى وخاصة أوزبيكستان، عن روسيا. وقد كتب المنشور ذو النفوذ GIS في 31 آب/أغسطس 2022: "ترى الولايات المتحدة رغبة أوزبيكستان وكازاخستان في الابتعاد عن روسيا وفي هذا الصدد تريد واشنطن تعزيز التعاون مع هاتين الدولتين الكبيرتين في آسيا الوسطى". حقيقة أن بلينكن زار كازاخستان وأوزبيكستان فقط يؤكد ذلك. وبعد أن تعرضت روسيا للعقوبات أقامت تجارتها مع الدول الأجنبية من خلال أوزبيكستان. وقد ناقش بلينكن هذه المسألة أيضا مع ميرزيايبف.

هل يمكن لبلينكن إضعاف علاقات دول آسيا الوسطى مع روسيا حتى لو لم يستطع إبعادها وخاصة أوزبيكستان عن روسيا بزيارته هذه؟ من السابق لأوانه قول ذلك. دعونا ننتقل إلى الحقائق. فأربع دول من مجموعة C5 + 1 هي أوزبيكستان وكازاخستان وقرغيزستان وطاجيكستان امتنعت عن التصويت على قرار الجمعية العامة للأمم المتحدة الذي يطالب بانسحاب القوات الروسية من أوكرانيا بينما لم تصوت تركمانستان. كما أن التبعية الاقتصادية لهذه الدول لروسيا مرتفعة أيضاً. فوفقاً لوكالة أوزبيكستان للإحصاء اعتباراً من 20 شباط/فبراير 2023 فإن روسيا في نهاية عام 2022 تمتلك أعلى مستوى للاستثمار في اقتصاد أوزبيكستان حيث تمثل 20.3٪ من إجمالي الاستثمار الأجنبي فيها. وفي العام الماضي بلغت استثمارات روسيا التي أدخلت في أوزبيكستان ما يقرب من 2 مليار دولار. وجاءت الصين في المرتبة الثانية بنسبة 16.4٪، وتركيا في المرتبة الثالثة بنسبة 10.1٪. وفي عام 2022 تم إنشاء 967 مصنعاً بمشاركة رأس المال الروسي في أوزبيكستان. واعتباراً من 1 كانون الثاني/يناير من هذا العام يعمل في أوزبيكستان 3156 مصنعاً بمشاركة الأعمال الروسية. وهذا يمثل 20٪ من إجمالي عدد المصانع العاملة. ففي الوقت الحاضر تجاوزت الاستثمارات الروسية في اقتصاد أوزبيكستان 10 مليارات دولار. وكذلك في نهاية عام 2022 احتلت روسيا المرتبة الأولى في قائمة شركاء التجارة الخارجية الرئيسيين لأوزبيكستان. وارتفع حجم التبادل التجاري بين البلدين بنسبة 23٪ مقارنة بعام 2021 وبلغ 9.28 مليار دولار. وهذا يعني 18.6٪ من إجمالي حجم التجارة الخارجية لأوزبيكستان.

بالإضافة إلى ذلك ووفقاً لوكالة هجرة العمالة الخارجية يعمل 1.5 مليون من أهل أوزبيكستان في روسيا، حوالي 200 ألف منهم يعملون بشكل غير قانوني. وهذا ما يقرب من 42٪ من العدد الإجمالي للعمالة الأجنبية المهاجرة في روسيا. أي أن أوزبيكستان تحتل المرتبة الأولى من حيث عدد العمال المهاجرين في روسيا. ووفقاً للبنك المركزي لأوزبيكستان، في عام 2022، زاد حجم التحويلات المالية من روسيا إلى أوزبيكستان بمقدار 2.6 مرة وبلغ ما يقرب من 14.5 مليار دولار. ووفقاً للبنك الدولي فإنه اعتباراً من تشرين الثاني/نوفمبر 2012 في عام 2011 أيضاً احتلت أوزبيكستان المرتبة الأولى من حيث التحويلات المالية من روسيا عندما أرسل العمال المهاجرون 4.9 مليار دولار إلى أوزبيكستان وهو ما يفوق حتى حجم صادرات أوزبيكستان لروسيا! في ذلك الوقت كان حجم الصادرات 4.405 مليار دولار.

لذا فإن إبعاد أوزبيكستان ودول أخرى في هذه المنطقة عن روسيا ليس بالمهمة السهلة والسريعة. وقال دونالد لو أيضا وهو مساعد بلينكن لشؤون جنوب ووسط آسيا: "هذه الدول لديها تاريخ طويل ومعقد من العلاقات مع روسيا. لا أعتقد أنهم سينهون قريباً هذه العلاقة". وقال أندري كازانتسيف مدير المركز التحليلي لمعهد العلاقات الدولية: "هذه الزيارة التي يقوم بها وزير الخارجية الأمريكية لن تغير شيئاً جوهرياً، فكل سيبقى ملكه... هذه الزيارة لن تزيد من نفوذ الولايات المتحدة في هذه المنطقة". وفي 6 آذار/مارس بعد زيارة بلينكن تحدث الرئيس الروسي بوتين أيضا مع رئيس أوزبيكستان عبر الهاتف وناقشا قضايا زيادة توسيع التعاون. لذا فإن روسيا لن تتخلى عن بلدان آسيا الوسطى بهذه السهولة وخاصة أوزبيكستان.

ولكن بسبب سياساتها البراغماتية من المتوقع أن تواصل الولايات المتحدة جهودها لتوسيع نفوذها في هذه البلدان.. هذه الرحلة التي قام بها بلينكن تشير أيضاً إلى هذا.

يا مسلمي أوزبيكستان:

سواء أكانت أمريكا أو روسيا أو الصين أو الاتحاد الأوروبي فإنهم سوف يقودونكم فقط إلى نير الاستعمار وظلمات الرأسمالية. وإن حكامكم لا يفكرون إلا في مصلحتهم فقط.. لذلك أجيبوا نداء حزب التحرير الداعي إلى إقامة الخلافة الراشدة الثانية التي ستخرجكم من هذه الظلمات إلى نور الإسلام. فإن الدعوة التي يبلغها لكم الحزب هي دعوة الله سبحانه ورسوله ﷺ.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست