السياسات الرأسمالية تعزز معدل الخصوبة الإجمالي المنخفض
السياسات الرأسمالية تعزز معدل الخصوبة الإجمالي المنخفض

الخبر: تتصدر مقاطعة مانديرا أعلى معدل خصوبة يبلغ 8%، تليها مقاطعة مارسابيت بنسبة 7%، وواجير بنسبة 6.7%، وتوركانا بنسبة %6.4، وست بوكوت بنسبة 5.6%، وسامبورو بنسبة 4.9%. من ناحية أخرى، تتصدر مقاطعة نيروبي أدنى معدل للخصوبة يبلغ %2.5، تليها مقاطعات نياميرا وكيرينيجا وكيامبو الثلاث لكل مقاطعة نسبة %2.7، ومقاطعة ماكويني بنسبة %2.8، وميرو، وتاراكا-نيثي، وإمبو ومومباسا ونيري، جميع المقاطعات الخمس لكل منها نسبة 2.9%، وفقاً لأحدث مسح اقتصادي لعام 2022 أجراه المكتب الوطني الكيني للإحصاء. بالإضافة إلى ذلك، ذكر المسح أن معدل الخصوبة الإجمالي على المستوى الوطني انخفض من 4.8 مولود في عام 2009 إلى 3.4 مولود في عام 2019. (ذا ستار، الجمعة، 6 أيار/مايو، 2022).

0:00 0:00
Speed:
May 15, 2022

السياسات الرأسمالية تعزز معدل الخصوبة الإجمالي المنخفض

السياسات الرأسمالية تعزز معدل الخصوبة الإجمالي المنخفض

(مترجم)

الخبر:

تتصدر مقاطعة مانديرا أعلى معدل خصوبة يبلغ 8%، تليها مقاطعة مارسابيت بنسبة 7%، وواجير بنسبة 6.7%، وتوركانا بنسبة %6.4، وست بوكوت بنسبة 5.6%، وسامبورو بنسبة 4.9%. من ناحية أخرى، تتصدر مقاطعة نيروبي أدنى معدل للخصوبة يبلغ %2.5، تليها مقاطعات نياميرا وكيرينيجا وكيامبو الثلاث لكل مقاطعة نسبة %2.7، ومقاطعة ماكويني بنسبة %2.8، وميرو، وتاراكا-نيثي، وإمبو ومومباسا ونيري، جميع المقاطعات الخمس لكل منها نسبة 2.9%، وفقاً لأحدث مسح اقتصادي لعام 2022 أجراه المكتب الوطني الكيني للإحصاء. بالإضافة إلى ذلك، ذكر المسح أن معدل الخصوبة الإجمالي على المستوى الوطني انخفض من 4.8 مولود في عام 2009 إلى 3.4 مولود في عام 2019. (ذا ستار، الجمعة، 6 أيار/مايو، 2022).

التعليق:

هذا الاستطلاع الأخير هو مجرد قطرة في محيط، إذا ما تمت مقارنته بالإحصاءات العالمية. ترسم إحصائيات معدل الخصوبة الإجمالي لعام 2022 صورة قاتمة للانهيار الاجتماعي نتيجة لتنفيذ السياسات الرأسمالية المهينة. فقد لوحظ انخفاض معدل الخصوبة الإجمالي بشكل كارثي في معظم البلدان في أوروبا وشرق آسيا. وهذه بعض الدول التي تم ذكرها: كوريا الجنوبية حيث يبلغ معدل الخصوبة الإجمالي 1%، وهونج كونج وسنغافورة 1.1% لكل منهما، وماكاو ومالطا لكل منهما 1.2%، وإيطاليا، وإسبانيا، وأوكرانيا، ومولدوفا، والبوسنة والهرسك، وقبرص وأندورا لكل دولة منها 1.3%، واليابان، واليونان والبرتغال 1.4% وما إلى ذلك (المراجعة العالمية للسكان، 2022).

في وقت سابق في 10 تموز/يوليو 2020، أصدر مكتب المراجع السكانية تقرير بيانات السكان في العالم لعام 2020. وذكر فيه إلى حد ما أنه "في 91 بلداً وإقليماً - أي ما يقرب من 45٪ من سكان العالم - فإن معدلات الخصوبة الإجمالية أقل من مستوى الإبدال، وهو متوسط عدد الأطفال الذي يستبدل فيه السكان أنفسهم بشكل تام من جيل إلى جيل في غياب الهجرة. وفي 21 دولة وإقليم، بما في ذلك العديد من الدول التي عانت من خسائر فادحة خلال جائحة كوفيد-19، يمثل الأشخاص الذين تبلغ أعمارهم 65 عاماً أو أكثر 20٪ على الأقل من مجموع السكان".

بعض السياسات الرأسمالية التي لوحظت في أنها السبب وراء انخفاض معدل الخصوبة الإجمالي هي التحضر، وزيادة اعتماد المساواة بين الجنسين، وزيادة عدد النساء اللائي يحصلن على وسائل منع الحمل، والسعي إلى التعليم وفرص العمل في جميع أنحاء العالم. من ناحية أخرى، ترجع الأسباب التي ذكرت في أنها السبب في ارتفاع معدل الخصوبة الإجمالي إلى الجهود غير الكافية من قبل الأنظمة الديمقراطية لتسريع السياسات التي تدافع عن المساواة بين الجنسين، أو سياسات وصول المرأة إلى وسائل منع الحمل، أو التعليم أو فرص العمل من بين أمور أخرى.

الأسباب المذكورة أعلاه صحيحة فيما يتعلق بحقيقة أنها جميعاً مستنبطة من نظام القيمة الليبرالية الاجتماعي الذي يعطي الأولوية للحرية الشخصية. علاوة على ذلك، تعتمد القيمة الإنسانية على الإنتاجية الاقتصادية من وجهة نظر الرأسمالية. وبالتالي، ليس من المستغرب أن نشهد تدهوراً اجتماعياً لا يُحصى نتيجة السعي إلى تمكين المرأة والتحرر الاقتصادي العام. يعتبر القرن الحادي والعشرون قرن المنافسة الشديدة بين الجنسين على فرص العمل القليلة. في الواقع، إن الفرص قليلة نتيجة للاحتكار الحالي لموارد العالم (الثروة) من جهة عدد قليل من الرأسماليين عبر تكتلاتهم التي استحوذت على جميع الحكومات الديمقراطية على مستوى العالم وأدارتها بشكل جزئي.

تعتبر الولادة أو إنجاب الأطفال اليوم عبئاً اجتماعياً واقتصادياً لأن معظم الناس يفضلون أن يعيشوا حياتهم كما لو كانوا طيوراً تنتقل من عش إلى آخر باسم التمتع بحرية شخصية غير محدودة. لذلك، ينخرط الناس في الزنا دون قلق من المساءلة طالما وافقوا على ذلك. تغلغلت الشعارات الكاذبة في المجتمع مثل "لباسي خياري، وجسدي خياري، ورحمي خياري وما إلى ذلك". الفوضى الاجتماعية هي النظام السائد اليوم حيث يتم فيه استخدام الأطفال للابتزاز المالي إذا وُلد الأطفال! وحدة الأسرة في حالة خراب والأطفال يواجهون وطأة اجتماعية!

من الضروري أن نلاحظ أنه لا توجد أمة في جميع أنحاء العالم، لا تعاني من أزمة انخفاض معدل الخصوبة الإجمالي. إنها واحدة من الأزمات الكبرى التي تواجه الأمم بغض النظر عن كونها مما يسمى بدول العالم الأول أو الثاني أو الثالث. في الرأسمالية، تتبلور قيمة المرأة حول استغلالها الجنسي في الإنتاج الاقتصادي. وهذا مخالف للإسلام حيث تكرم المرأة بدورها في تنشئة أجيال من العلماء والحكام والجنود المسلمين المجاهدين في سبيل الله ورسوله ﷺ. في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي ستعود قريباً بإذن الله، ستعود كرامة المرأة إلى مجدها السابق كما كانت قبل هدم الخلافة، إن شاء الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست