السياسة الأمريكية مشوشة حول كوريا الشمالية (مترجم)
السياسة الأمريكية مشوشة حول كوريا الشمالية (مترجم)

الخبر:   في الوقت الذي يواصل فيه الرئيس الأمريكي دونالد ترامب اتخاذ قراره التلقائي بمقابلة كيم جونغ أون، بدأ بالفعل في خفض التوقعات. ووفقاً لرويترز: (قال ترامب يوم السبت إن اجتماعه المزمع مع الزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون قد ينتهي دون التوصل إلى اتفاق أو يمكن أن يسفر عن "أكبر صفقة بالنسبة للعالم" لتخفيف التوترات النووية بين البلدين. وأضاف: "من يدري ماذا سيحدث؟" وقال ترامب في تجمع انتخابي من أجل المرشح الجمهوري عن الكونجرس ريك ساكوني في غرب بنسلفانيا: "قد أغادر بسرعة" إذا بدا أنّ تقدم الأحداث غير ممكن. وقال ترامب إنه يعتقد أن كوريا الشمالية تريد أن تصنع السلام وحسب رأيه: "أعتقد أن الوقت قد حان". ولم يتم بعد تحديد مكان وزمان الاجتماع، على الرغم من أن الاجتماع من المفترض أن يحدث بحلول نهاية أيار/مايو. اتخذ ترامب القرار المثير للصدمة يوم الخميس للقاء كيم بعد أن تم نقل دعوة الزعيم الكوري الشمالي من قبل وفد كوري جنوبي زار البيت الأبيض. وقد قلبت هذه الخطوة بشكل مفاجئ عقوداً من السياسة الأمريكية التي هدفت إلى منع كوريا الشمالية من تطوير أسلحة نووية وصواريخ باليستية).

0:00 0:00
Speed:
March 14, 2018

السياسة الأمريكية مشوشة حول كوريا الشمالية (مترجم)

السياسة الأمريكية مشوشة حول كوريا الشمالية

(مترجم)

الخبر:

في الوقت الذي يواصل فيه الرئيس الأمريكي دونالد ترامب اتخاذ قراره التلقائي بمقابلة كيم جونغ أون، بدأ بالفعل في خفض التوقعات. ووفقاً لرويترز: (قال ترامب يوم السبت إن اجتماعه المزمع مع الزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون قد ينتهي دون التوصل إلى اتفاق أو يمكن أن يسفر عن "أكبر صفقة بالنسبة للعالم" لتخفيف التوترات النووية بين البلدين. وأضاف: "من يدري ماذا سيحدث؟"

وقال ترامب في تجمع انتخابي من أجل المرشح الجمهوري عن الكونجرس ريك ساكوني في غرب بنسلفانيا: "قد أغادر بسرعة" إذا بدا أنّ تقدم الأحداث غير ممكن. وقال ترامب إنه يعتقد أن كوريا الشمالية تريد أن تصنع السلام وحسب رأيه: "أعتقد أن الوقت قد حان".

ولم يتم بعد تحديد مكان وزمان الاجتماع، على الرغم من أن الاجتماع من المفترض أن يحدث بحلول نهاية أيار/مايو.

اتخذ ترامب القرار المثير للصدمة يوم الخميس للقاء كيم بعد أن تم نقل دعوة الزعيم الكوري الشمالي من قبل وفد كوري جنوبي زار البيت الأبيض. وقد قلبت هذه الخطوة بشكل مفاجئ عقوداً من السياسة الأمريكية التي هدفت إلى منع كوريا الشمالية من تطوير أسلحة نووية وصواريخ باليستية).

التعليق:

تسلط عفوية دونالد ترامب الضوء على الخلل الواضح في النظام السياسي الأمريكي والضعف الشخصي للرئيس الأمريكي داخل هذا النظام. لكنها تظهر أيضاً شلل المؤسسة السياسية الأمريكية بشأن المسألة الكورية في هذا الوقت. فقبل يوم واحد فقط، كان وزير الخارجية ريكس تيلرسون يشرح لوسائل الإعلام عن الأسباب التي تمنع من إجراء محادثات مباشرة مع كوريا الشمالية في هذا الوقت. من غير المألوف إلى حد كبير أن يقوم زعيم أي حكومة، ناهيك عن قوة العالم العظمى، باتخاذ قرار استراتيجي بهذا الحجم في لحظة، دون تشاور مسبق. فمن الواضح أنه لا يثق بإدارته، حتى إن ترامب جعل الوفد الكوري الجنوبي بنفسه هو من يقوم بالإعلان الأول عن الاجتماع بين أمريكا وكوريا الشمالية من البيت الأبيض، ودخل شخصياً غرفة الإعلام في البيت الأبيض لإخبارهم وتحضيرهم بأمر الاجتماع.

في الواقع، يكافح دونالد ترامب لاستعادة المبادرة من كوريا الشمالية بعد الأحداث التي مرت، ويرجع ذلك بشكل خاص إلى جهود رئيس كوريا الجنوبية مون جاي-إن. لقد أصبحت المؤسسة السياسية الأمريكية مقلقة بشكل خاص إزاء مسألة كوريا الشمالية، ليس لأن الأمريكان يريدون حل الأزمة ولكن لأنهم يريدون إطالة أمدها. لقد أتاح الصراع الكوري، الذي سبق ملف فيتنام المغلق، للأمريكان عذرًا قويًا ومستمرًا منذ نهاية الحرب العالمية الثانية، لوجود عسكري أمريكي كثيف في أعالي غربي المحيط الهادئ في الصين. علاوةً على ذلك، فقد ساعد في تقديم مبررات "للتحالفات" الأمريكية الخانقة مع اليابان وآخرين في المنطقة. إلا أن سوء إدارة ترامب الخطيرة والطائشة لم تؤد إلا إلى نتائج عكسية بالنسبة لمصالح أمريكا من خلال تركيز عقول وجهود معارضيها على التوصل إلى حل سريع للأزمة.

إن الخطأ هو مفهوم الأمن الدولي برمته في العصر الحالي. فالقدرة والقوة النسبية للقوى الكبرى ستكون دائماً في تغير. لكن الطريق الوحيد الذي يوفره النظام العالمي الحالي للتعبير عن هذه القوة هو من خلال بناء القوة العسكرية والانخراط في سباقات التسلح. وهذا هو السبب الذي دفع أعداداً متزايدةً من الدول للسعي للحصول على أسلحة الدمار الشامل. ففي العصور السابقة، ومع الحدود المرنة، كانت القوى العظمى قادرة على اقتطاع وتبادل الأراضي للإقرار بالتغييرات في القوة السياسية والاقتصادية. فكان التركيز على القدرة في الحكم، مع تخلي الحكومات الضعيفة عن أراضيها إلى دول ذات حكومات أكثر قدرة. لكن نموذج الدولة القومية "سيادة وستفاليا"، في جعل الحدود جامدة وثابتة، أدى إلى إطار أمني دولي هش وغير مستقر إلى حد كبير. فأوجب على الحكومات القوية أن تثبت نفسها من خلال القوة العسكرية، وأدى إلى غزو الحكومات الضعيفة وسحقها أو، على الأقل، تحت سيطرة خفية لإحدى القوى الكبرى أو غيرها.

يعارض الإسلام نموذج ويستفاليا. فقد تمكنت دولة الخلافة الممتدة في الماضي من الحصول بسرعة على أراضٍ جديدة ليس فقط على أساس القوة العسكرية ولكن بسبب أسلوبها المتفوق في الحكم والاستقرار السياسي والاقتصادي والمجتمعي الذي ترسخ تحت حكمها. لم يكن يسمع بسباق التسلح، وكانت التكنولوجيا تُستخدم لصالح البشرية وليس لأغراض إنتاج أسلحة الدمار الشامل. لم يكن المسلمون يفضلون استخدام المدافع بسبب ضررها الواسع على حياة البشر، لذا فإن القادة العسكريين المسلمين استخدموها فقط لتحطيم جدران الحصون المرتفعة من أجل إرسال مقاتلي السيوف الماهرين ليقاتلوا الأعداء وجهاً لوجه.

لا يمكن معالجة الاضطرابات في العالم اليوم باتباع المُثل السياسية للغرب. في الواقع، هذه المثل هي السبب الرئيسي في الاضطرابات الحالية في العالم. يجب على المسلمين أن يتخلصوا من مبادئ الغرب الباطلة وأن يناصروا الأيديولوجية السياسية الحقيقية الوحيدة، وهي دين الإسلام، الذي جاء به سيدنا محمد r، الصالح لجميع الأوقات بما في ذلك هذا العصر "الحديث". لن يتم شفاء العالم وإنقاذه من أمراضه واضطراباته إلا عندما يكمل المسلمون واجبهم في إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبي r، والتي ستطبق الإسلام وتحمل نوره إلى العالم بأسره.

قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست