السياسة الخارجية تسعى دائماً إلى التوجهات العلمانية في إطار الدولة القومية!
السياسة الخارجية تسعى دائماً إلى التوجهات العلمانية في إطار الدولة القومية!

الخبر:   صرح أمير خان متقي، وزير خارجية حكومة تصريف الأعمال لإمارة أفغانستان الإسلامية، في حديثه الأخير مع وكالة فرانس برس أنه "سيواصل جهوده السياسية" للحصول على الاعتراف بحكومته. كما وصف سلوكه وسلسلة تبادلاته بأنها "خطوة رئيسية إلى الأمام" نحو الاعتراف بالإمارة الإسلامية. ...

0:00 0:00
Speed:
February 08, 2022

السياسة الخارجية تسعى دائماً إلى التوجهات العلمانية في إطار الدولة القومية!

السياسة الخارجية تسعى دائماً إلى التوجهات العلمانية في إطار الدولة القومية!

(مترجم)

الخبر:

صرح أمير خان متقي، وزير خارجية حكومة تصريف الأعمال لإمارة أفغانستان الإسلامية، في حديثه الأخير مع وكالة فرانس برس أنه "سيواصل جهوده السياسية" للحصول على الاعتراف بحكومته. كما وصف سلوكه وسلسلة تبادلاته بأنها "خطوة رئيسية إلى الأمام" نحو الاعتراف بالإمارة الإسلامية. وأضاف متقي أن "السفر ذهاباً وإياباً والتجارة ووفود الدول الأخرى التي تتفاعل مع بعضها بعضاً حول أفغانستان هي علامات واضحة ستؤدي إلى الاعتراف الرسمي. لقد أحرزنا تقدما جيدا في هذا المجال. لقد شهدنا نتائج جيدة خلال المفاوضات التي أجريناها مع كل جانب، وهذه خطوة جيدة إلى الأمام. إلى جانب ذلك، لقد تحركنا من خلال هذا الاتجاه إلى حد ما، ونحن نقترب من الهدف".

التعليق:

الفكرة الأساسية للسياسة الخارجية للدولة الإسلامية هي حمل دعوة الإسلام إلى الدول الأخرى، ويتم تحديد طريقتها من خلال الفكرة المماثلة التي أمر بها الله سبحانه وتعالى حيث تقول إن القبائل والأمم والأقاليم المجاورة يجب أن تُدعى أولاً إلى الاسلام. فإذا قبلوا، فإن الدولة الإسلامية سوف تحكم تلك المنطقة؛ وإذا لم يفعلوا ذلك، فسيتم اعتبار هؤلاء الأشخاص والأراضي عقبة محتملة أمام دعوة الإسلام التي يجب إزالتها من خلال الجهاد في سبيل الله لفتح تلك البلاد. وتجدر الإشارة إلى أن كوننا مسلمين، هو بفضل السياسة الخارجية للخلافة.

تنص السياسة الخارجية للدول القومية على أن القوى التي تحمل أنظمة أيديولوجية فقط لها الحق في الحكم على أساس أفكارها وقيمها. على سبيل المثال، الولايات المتحدة هي إحدى الدول الرأسمالية. لذلك، فقد نظمت سياستها الخارجية على أساس استعمار الدول الأخرى ونقل قيمها إلى الخارج. ومع ذلك، يتعين على الحكومات الوطنية الأخرى تحديد مصالحها الوطنية وسلامة أراضيها وفقاً للقواعد الدولية من خلال استخدام سياسات براغماتية لا تستند إلى أصدقاء أو أعداء دائمين، ولكن فقط مصالح دائمة.

في الإسلام، تُعرّف المواجهة والاصطدام مع الكفار والدول المتحاربة على أنها المبدأ الأساسي. لكن الإمارة الإسلامية تنتهج علاقات إيجابية وتتقدم مع العدو على أساس حسن النية، وهي متفائلة بشكل ملحوظ بشأن مستقبل مثل هذه التفاعلات العلمانية. ويرى الجهاز الدبلوماسي للإمارة الإسلامية أنه إذا صادف اعترافهم بالقوانين الدولية وسعوا إلى اعتراف القوى العظمى والدول الإقليمية، فإن ذلك سيحل المشاكل في أفغانستان. ومع ذلك، يمكن للمرء أن يرى أن جميع البلدان الأخرى على الأرض الإسلامية تعتبر دولاً شرعية، ولم يكن ذلك هو الحل الرئيسي لمشاكلهم. على سبيل المثال، تحاول باكستان، التي اعترفت بها قوى عظمى مثل بريطانيا والولايات المتحدة في الأيام الأولى لتأسيسها، تحاول تأمين المصالح الأمريكية في المنطقة، لكنها لا تزال تعاني من كساد هائل: القروض، والعقوبات الاقتصادية في بعض الأحيان، والحرب، وانعدام الأمن، والفقر، والتضخم وأنواع مختلفة من الأزمات. لذلك، لا مكان لمثل هذا الافتراض في السياسة الخارجية، ولكن من وجهة نظر إسلامية، فإن الحكم القائم على الدبلوماسية العلمانية أمر غير مقبول تماماً.

لذلك، فإن التقدم الذي يتحدث عنه السيد متقي يقود الإمارة الإسلامية نحو الغرق التدريجي في هاوية الدولة القومية - الفكرة التي ولدت في أوروبا، ونشأت هناك، وانتشرت في العالم وأصبحت الآن قديمة. لأن أوروبا نفسها تسعى إلى الوحدة تحت مظلة الاتحاد الأوروبي، والولايات المتحدة تكافح بشدة للحفاظ على وحدة ولاياتها من خلال منعها من الانقسام إلى دول قومية صغيرة. إلى جانب ذلك، تريد روسيا استعادة إرث الاتحاد السوفيتي بينما تفكر الصين في إعادة هونج كونج وتايوان إلى الوطن الأم.

بينما كنا نحظى بوحدة مبدئية وسياسية وجغرافية في ظل الخلافة، ولكن بعد هدمها، فُرضت هذه الفكرة الشريرة (الدولة القومية) على كامل البلاد الإسلامية، ما أدى إلى تفتيت طاقة وقوة الأمة الإسلامية. في الواقع، بمساعدة الحكام الخونة والدُمى، يحاولون منع إعادة توحيد الأمة الإسلامية تحت مظلة الخلافة الثانية.

نجدد التأكيد على أن الإمارة الإسلامية يجب ألا تتبع دور الدول الوطنية الأخرى، وأن تدرك بعمق مخاطر القانون الدولي، والأمم المتحدة، والمنظمات الدولية، ومفهوم الحدود الوطنية، والأوسمة الوطنية، والمصالح الوطنية، والسياسات الخارجية الوطنية، التي تقوم جميعها على المعتقد العلماني. وعليهم أن يكتشفوا المقارنة بين الأنظمة العلمانية الحالية ودولة رسول الله ﷺ والخلافة على منهاج النبوة، وحتى تلك الخاصة بالخلفاء الأمويين والعباسيين والعثمانيين لمراقبة الدولة بعناية. تناقض صارخ بين السياسة الخارجية في كل من الدولة الإسلامية والدولة القومية. وإلا فإن أي انحراف يبدأ من نقطة صغيرة جداً ويستمر حتى يمحو كل تضحيات المجاهدين التي كانت تهدف في السابق إلى ترسيخ الإسلام والدولة الإسلامية. مثل هذا الانحراف سيقودنا إلى المصير الفاشل للأنظمة والحكام الآخرين في البلاد الإسلامية، والذي لن يجلب لنا سوى الخسران في الدنيا والآخرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست