السياسة متعددة الاتجاهات للنظام الأوزبيكي
السياسة متعددة الاتجاهات للنظام الأوزبيكي

نشرت uznews في 17 آذار/مارس 2022 ما يلي: تحدث وزير خارجية أوزبيكستان عبد العزيز كاملوف في الجلسة العامة الرابعة والعشرين لمجلس الشيوخ في المجلس الأعلى للجمهورية، وتطرق وزير الخارجية في خطابه إلى الأحداث في أوكرانيا وعبر عن موقف أوزبيكستان من هذه الأحداث، وفق ما أفاد مراسل UZNews.uz. ...

0:00 0:00
Speed:
March 23, 2022

السياسة متعددة الاتجاهات للنظام الأوزبيكي

السياسة متعددة الاتجاهات للنظام الأوزبيكي

الخبر:

نشرت uznews في 17 آذار/مارس 2022 ما يلي:

تحدث وزير خارجية أوزبيكستان عبد العزيز كاملوف في الجلسة العامة الرابعة والعشرين لمجلس الشيوخ في المجلس الأعلى للجمهورية، وتطرق وزير الخارجية في خطابه إلى الأحداث في أوكرانيا وعبر عن موقف أوزبيكستان من هذه الأحداث، وفق ما أفاد مراسل UZNews.uz.

قال عبد العزيز كاملوف: "أولاً، يثير الوضع حول أوكرانيا قلقاً شديداً في أوزبيكستان. ثانياً، تلتزم أوزبيكستان بإيجاد حل سلمي للوضع وحل النزاع بالوسائل الدبلوماسية. من أجل هذا أولاً وقبل كل شيء يجب وقف الأعمال العسكرية والعنف على الفور".

وأضاف وزير الخارجية: "واستنادا إلى المصالح الوطنية ستواصل أوزبيكستان التعاون متبادل المنفعة مع البلدين. وسنواصل تقديم المساعدة الإنسانية لأوكرانيا في هذا الوقت الصعب".

كما ذكر عبد العزيز كاملوف أن أوزبيكستان تعترف باستقلال وسيادة ووحدة أراضي أوكرانيا. وأضاف الوزير: "نحن لا نعترف بدونيتسك ولوغانسك كجمهوريتين منفصلتين".

التعليق:

كما هو معروف فإن النظام الأوزبيكي ينتهج حالياً سياسة متعددة الاتجاهات. لأن أوزبيكستان الآن إلى جانب دول أخرى في آسيا الوسطى أصبحت ساحة صراع من أجل النفوذ والمصالح بين اللاعبين الرئيسيين: روسيا والصين وأمريكا والاتحاد الأوروبي. لأنه إذا كانت روسيا قبل ذلك هي السيد الوحيد للمنطقة فإن الصين وأمريكا والاتحاد الأوروبي تحدق النظر فيها الآن. لذلك تحولت طشقند الرسمية إلى مسار السياسة متعددة الاتجاهات أي أنها تضع قدميها على قاربين. فقد لوحظت هذه السياسة أيضاً في رد الفعل على الحرب في أوكرانيا. ويمكن القول إن النظام الأوزبيكي يحاول إرضاء كل من روسيا وأمريكا والغرب في هذا الأمر. لأنه في محادثة هاتفية مع الرئيس الروسي فلاديمير بوتين في 25 شباط/فبراير أعرب الرئيس ميرزياييف عن تفهمه لتصرفات روسيا في أوكرانيا واتخذت أوزبيكستان موقفاً محايداً. وهذا التصريح لوزير الخارجية عبد العزيز كاملوف هو لإرضاء أمريكا. لأن وزير الخارجية الأمريكي أنطوني بلينكين في 28 شباط/فبراير عام 2022 أجرى محادثة هاتفية مع وزراء خارجية كازاخستان وجمهورية قرغيزستان وطاجيكستان وأوزبيكستان. وأدان الوزير بلينكين بشدة الهجوم الروسي المتعمد وغير المبرر على أوكرانيا وأعرب عن تضامنه الراسخ مع شعب أوكرانيا. ويمكن اعتبار مكالمة بلينكين الهاتفية هذه على أنها ضغط على هذه الأنظمة.

طشقند مضطرة لإرضاء موسكو، لأن اقتصاد أوزبيكستان وثيق الصلة بروسيا. فمثلا وفقاً لموقع eurasianet الإلكتروني استعادت روسيا في عام 2021 مكانتها كشريك تجاري رائد لأوزبيكستان متجاوزة الصين بفارق ضئيل. ووفقاً للبيانات المنشورة للجنة الإحصاء الحكومية بجمهورية أوزبيكستان بلغ حجم التجارة بين أوزبيكستان وروسيا 7.5 مليار دولار. بالإضافة إلى ذلك هناك العديد من العمال الأوزبيكيين المهاجرين في روسيا. فوفقاً لموقع Podrobno.uz في إشارة إلى وزارة الداخلية الروسية بحلول نهاية عام 2021 تجاوز عدد العمال الأوزبيكيين المهاجرين في روسيا 3 ملايين شخص. أي من حيث عدد العمال المهاجرين من جمهوريات آسيا الوسطى احتل العمال المهاجرون من أوزبيكستان المرتبة الأولى.

هناك قضية دقيقة أخرى أيضا وهي قضية الحفاظ على وحدة أراضي أوزبيكستان. فإنه قبل بدء الحرب في أوكرانيا بدأ بوتين وغيره من السياسيين الروس يقولون إن الاتحاد السوفيتي أعطى الأرض للجميع ما يعني أنه يمكن لروسيا أن تأخذها.

يمكن لروسيا إثارة صراعات قومية ونزاعات على الأراضي بين جمهوريات آسيا الوسطى. وعلى سبيل المثال لوحظ هذا في النزاع الحدودي الأخير بين طاجيكستان وقرغيزستان. ولهذا أكد عبد العزيز كاملوف أن أوزبيكستان تعترف باستقلال وسيادة ووحدة أراضي أوكرانيا.

نعم، إن العقوبات التي فرضتها الولايات المتحدة والغرب على روسيا يمكن أن تضعف روسيا وتضعف قبضتها على آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان، ولكن هذه المنطقة هي الرئة التي تتنفس منها روسيا. لذلك فليس من السهولة أن تنسحب منها روسيا.

بسبب هذه العوامل وغيرها تحاول أوزبيكستان إرضاء روسيا والولايات المتحدة والغرب. ومع ذلك في ظل الظروف الحالية للعلاقات المتوترة بين روسيا والولايات المتحدة يصبح من الصعب بشكل متزايد اتباع سياسة متعددة الاتجاهات.

الشاغل الوحيد للحكام بمن فيهم حكام أوزبيكستان هو الحفاظ على عروشهم، وهم لا يهتمون بمعاناة الشعب. وإذا كانوا اليوم دمى لروسيا فغداً سيكونون دمى للولايات المتحدة والصين.

الطريقة الوحيدة للتخلص من هذه الدول الاستعمارية هي إجراء التغيير الحقيقى. والتغيير الحقيقي يكون بإزالة التبعية الروسية والأمريكية والغربية والصينية. وعلى مسلمي آسيا الوسطى بمن فيهم مسلمو أوزبيكستان السعي للقيام بمثل هذه التغيير، فعندئذ فقط يتم تطبيق أحكام الإسلام فينالون رضا الله.

﴿لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست