السياسيون المفلسون في فرنسا يتنافسون لإعادة انتخابهم بإشعال قضية الهوية السياسية
السياسيون المفلسون في فرنسا يتنافسون لإعادة انتخابهم بإشعال قضية الهوية السياسية

الخبر: يدور حاليا نقاش ساخن جدًا في فرنسا حيث من الممكن القول إن ثوب السباحة الذي يغطي كامل الجسد والذي ترتديه بعض النساء المسلمات قد غزا الشواطئ الفرنسية. وقد تم حظره في خمس مدن هناك. وثلاث مدن أخرى تفكر بالقيام بالشيء ذاته. هذا وقد دعم رئيس الوزراء مانويل فالس هذا الحظر واصفًا هذا اللباس في تصريح له يوم الأربعاء بأنه ثوب "استعباد المرأة". في الواقع سيكون تحديًا أن يُرى هذا اللباس في معظم شواطئ فرنسا، بل إن بعض رؤساء البلديات الذين يقولون بالحظر يقرون بعدم وجوده أو رؤيته ابتداء. ولكن مع اقتراب الانتخابات الرئاسية العام المقبل، وكون الناس قد وصلوا إلى حالة من التوتر الملموس بعد سلسلة الهجمات الإرهابية - بما في ذلك مقتل 85 شخصًا هذا الصيف على طول شاطئ الريفيرا الفرنسي - فقد أصبح ثوب البحر هذا خطاً فاصلاً جديدًا في العلاقات التي تزداد توترًا في فرنسا مع سكانها المسلمين، الشريحة الأكبر في أوروبا. (المصدر: نيويورك تايمز)

0:00 0:00
Speed:
August 24, 2016

السياسيون المفلسون في فرنسا يتنافسون لإعادة انتخابهم بإشعال قضية الهوية السياسية

السياسيون المفلسون في فرنسا يتنافسون لإعادة انتخابهم

بإشعال قضية الهوية السياسية

(مترجم)

الخبر:

يدور حاليا نقاش ساخن جدًا في فرنسا حيث من الممكن القول إن ثوب السباحة الذي يغطي كامل الجسد والذي ترتديه بعض النساء المسلمات قد غزا الشواطئ الفرنسية. وقد تم حظره في خمس مدن هناك. وثلاث مدن أخرى تفكر بالقيام بالشيء ذاته. هذا وقد دعم رئيس الوزراء مانويل فالس هذا الحظر واصفًا هذا اللباس في تصريح له يوم الأربعاء بأنه ثوب "استعباد المرأة". في الواقع سيكون تحديًا أن يُرى هذا اللباس في معظم شواطئ فرنسا، بل إن بعض رؤساء البلديات الذين يقولون بالحظر يقرون بعدم وجوده أو رؤيته ابتداء. ولكن مع اقتراب الانتخابات الرئاسية العام المقبل، وكون الناس قد وصلوا إلى حالة من التوتر الملموس بعد سلسلة الهجمات الإرهابية - بما في ذلك مقتل 85 شخصًا هذا الصيف على طول شاطئ الريفيرا الفرنسي - فقد أصبح ثوب البحر هذا خطاً فاصلاً جديدًا في العلاقات التي تزداد توترًا في فرنسا مع سكانها المسلمين، الشريحة الأكبر في أوروبا. (المصدر: نيويورك تايمز)

التعليق:

على مدى عقود عاش المسلمون في فرنسا ولا يزالون يتحملون الظلم الذي يفرضه عليهم الساسة المفلسون الذين يصارعون لمناصب في السلطة ويرغبون في تحقيق مكاسب سياسية عبر حظر لباس المرأة المسلمة تحت شعارات العلمانية، والأمن، والحفاظ على النظام العام، والمساواة بين الجنسين، ومكافحة استعباد المرأة، والأخلاق الحميدة، والعمل على حماية "روح فرنسا" وفقًا لمارين لوبان، رئيس الجبهة اليمينية المتطرفة.

إن هذه الحجج واسعة النطاق والنقاشات التي تدور حول حظر زي البحر الذي تلبسه بعض المسلمات، في ثماني شواطئ مدن فرنسية، لا يمكن أن تخفي العداء التاريخي القائم والذي تحمله المؤسسة السياسية الفرنسية للإسلام والمسلمين فيها أو في خارجها في دول مثل سوريا ومناطق شمال أفريقيا. إنها المؤسسة السياسية الفرنسية وساستها الذين يستغلون مرةً تلو الأخرى الهوية الوطنية من أجل إنفاذ سياسات محلية وذلك عبر استخدام مقياس هضم واستيعاب الثقافة الجامدة لتوجيه الاتهام للآخر وإيذائه، وهو في هذه الحالة، ومن جديد، متعلق بالمرأة المسلمة التي تجرؤ على المشاركة في المجتمع والانخراط فيه. وإذا ما استشهدنا بالحظر في سياق الأمن القومي و"حالة الطوارئ" طويلة الأمد والتي تستمر لستة عشر شهرا، فإن هذا كله يرتبط بالأجندة السياسية للسياسة الاستعمارية الغربية الرأسمالية الفرنسية ويعكس بوضوح ما وراء حملة القصف العسكرية والحرب على المسلمين في العراق وسوريا.

وبالتالي فإن التسييس المستمر للباس المرأة والذي يُستغل ويساء استخدامه من قبل السياسيين المفلسين في فرنسا على الرغم من عدم الاستقرار وانعدام الأمن الذي يتسبب به فيما يتعلق بالعلاقات في المجتمع وضمن البيئة الأمنية الدولية في بلاد المسلمين، هو سمة مميزة تدل على فشل العلمانية الديمقراطية والرأسمالية.

لذلك فإن الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة في بلاد المسلمين، هي المشروع السياسي الوحيد الذي يمكن أن يعيد العدل والاستقرار، ليس للمسلمين في البلاد الإسلامية فحسب بل لجميع المسلمين في العالم بمن فيهم أولئك الذين يعيشون في البلاد التي تحرض على الحروب كفرنسا التي كانت لِتواجه عواقب وخيمة من قبل دولة الخلافة لتجرُّئها على إهانة وتجريم وجود النساء المسلمات في مجتمعاتها. عندما سمع الخليفة المعتصم بالله نداء المرأة المسلمة "وا معتصماه" ثارت ثائرته، وأمر على الفور باجتماع، نودي على إثره في الناس بأذانٍ سادس في المساجد فتجمع أصحاب الشأن. وسألوا الخليفة "ماذا جرى؟" فأجابهم "والله، سأرسل جيشًا أوله عندهم وآخره عندنا"، وسأل عن أكبر مدن الروم وأقواها وأرسل جيوشه إليها لتدكها. هكذا كانت الاستجابة السريعة والحاسمة للخليفة، إذا ما اعتدى أحد على شرف واحدة من أخواتنا أو أمهاتنا المسلمات.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست