الصين تجري عمليات تعقيم لنساء الإيغور في تركستان الشرقية المحتلة
الصين تجري عمليات تعقيم لنساء الإيغور في تركستان الشرقية المحتلة

الخبر: تشهد وثائق شينجيانغ للحكم الذاتي الإيغوري أن السلطات الصينية تعتزم تعقيم آلاف النساء الإيغور. ووصفت مجلة فورين بوليسي الأمريكية مثل هذا النوع من الإبادة الجماعية من الصين. في المقال، هناك أجزاء مستشهد بها من ميزانية تنظيم الأسرة في عام 2019 في مدينة خوتان في شينجيانغ ومقاطعة غوما المجاورة - كلا المنطقتين يسكنهما الإيغور بشكل رئيسي. ووفقاً لهذه البيانات التي استخرجها الصحفيون من الوثيقة، خصصت الدولة أموالاً لتعقيم 14.8 ألف امرأة في المدينة وأكثر بقليل من 8 آلاف في المقاطعة، فضلاً عن تركيب 5.9 ألف لولب لمنع الحمل.

0:00 0:00
Speed:
July 09, 2020

الصين تجري عمليات تعقيم لنساء الإيغور في تركستان الشرقية المحتلة

الصين تجري عمليات تعقيم لنساء الإيغور في تركستان الشرقية المحتلة

(مترجم)

الخبر:

تشهد وثائق شينجيانغ للحكم الذاتي الإيغوري أن السلطات الصينية تعتزم تعقيم آلاف النساء الإيغور. ووصفت مجلة فورين بوليسي الأمريكية مثل هذا النوع من الإبادة الجماعية من الصين. في المقال، هناك أجزاء مستشهد بها من ميزانية تنظيم الأسرة في عام 2019 في مدينة خوتان في شينجيانغ ومقاطعة غوما المجاورة - كلا المنطقتين يسكنهما الإيغور بشكل رئيسي. ووفقاً لهذه البيانات التي استخرجها الصحفيون من الوثيقة، خصصت الدولة أموالاً لتعقيم 14.8 ألف امرأة في المدينة وأكثر بقليل من 8 آلاف في المقاطعة، فضلاً عن تركيب 5.9 ألف لولب لمنع الحمل.

ويذكر أيضا أن عدد عمليات التعقيم المقدمة لسنة واحدة أكبر من حيث نصيب الفرد من العشرين سنة الماضية في المجموع. تلاحظ فورين بوليسي أن هذه السياسة تنطبق على وجه التحديد على المناطق التي يسود فيها الإيغور. 80 في المائة من جميع اللوالب التي تم تركيبها في الصين في 2018 كانت في شينجيانغ، على الرغم من حقيقة أن سكان المنطقة يمثلون 1.8 في المائة فقط من إجمالي سكان الصين. وقال وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو متحدثا حول هذا الأمر: "نحث الحزب الشيوعي الصيني على إنهاء هذه الممارسة الرهيبة على الفور، ونناشد جميع الدول للانضمام إلى الولايات المتحدة لوقف هذه الانتهاكات غير الإنسانية".

التعليق:

نعيد إلى الأذهان أنه في 17 حزيران/يونيو، وقع ترامب على قانون العقوبات ضد الصين بسبب انتهاكات حقوق الإيغور. وقد تشمل التدابير التقييدية التي تفرضها الولايات المتحدة الأفراد والمنظمات الضالعين في اضطهاد الإيغور. فيما قد يواجه المسؤولون عن هذه المضايقات تجميداً للأصول أو قيوداً على الدخول إلى الولايات المتحدة. قبل عام 2019، فرضت واشنطن عقوبات على 28 منظمة من الصين اعتبرتها متورطة في انتهاكات حقوق الإنسان واحتجاز الإيغور. في ذلك الوقت كانت هناك قيود على التصدير وإعادة التصدير، بالإضافة إلى رفض ترخيص المؤن.

بالإضافة إلى ذلك، في الأول من تموز/يوليو، احتجزت دائرة الجمارك ومراقبة الحدود الأمريكية شحنة من 13 طناً من الشعر المستعار ومنتجات الشعر البشري الأخرى. ويلاحظ أن المنتجات تم تصنيعها باستخدام السخرة في شينجيانغ. وذكرت "أكسيوس" هذا الحادث اعتمادا على مصادرها من السلطات الأمريكية. وبحسب هذه المعلومات، تقدر تكلفة الشحنة بحوالي 800 ألف دولار. في وقت سابق، أمرت دائرة الجمارك ومراقبة الحدود الموانئ الأمريكية باحتجاز كل ما يتم توفيره للولايات المتحدة من قبل شركة Meixin Hair Product.

كما ذكرت صحيفة نيويورك تايمز مؤخراً أن مجموعة من المغتربين من الإيغور أرادت أن تبدأ المحكمة الجنائية الدولية التحقيق ضد القيادة الصينية كجزء من مزاعم الإبادة الجماعية والجرائم ضد الإنسانية.

وبالتالي، هناك تسلسل كثيف من الإجراءات من الولايات المتحدة، تمارس للضغط على الصين بسبب جرائمها ضد الإيغور. بعض المسلمين، بما في ذلك الإيغور أنفسهم، يقدرون أفعال وبيانات الولايات المتحدة تقديرا كبيرا، معتبرين أنها دعوة من دولة عادلة!

ومع ذلك، يشير المحللون إلى أن الولايات المتحدة تستخدم اضطهاد الإيغور كواحدة فقط من الأوراق الرابحة في الحرب التجارية ضد الصين، وبالتالي فإن جميع الإجراءات الأمريكية في هذا الاتجاه تنتج فقط عن المنفعة الظرفية، وهي ليست ناتجة مطلقا عن التعاطف الصادق مع المسلمين المضطهدين. وهذا ما تؤكده التصريحات المروعة التي نشرها جون بولتون، المستشار السابق لدونالد ترامب، في كتابه "الغرفة حيث حدث ذلك"، حسبما أفادت قناة CNN التلفزيونية الأمريكية.

يصف بولتون الحالة في مأدبة عشاء خلال اجتماع مجموعة العشرين في أوساكا في حزيران/يونيو 2019، عندما شارك قادة الدول والمترجمون فقط. ثم، كما يكتب المستشار السابق، شجع ترامب شي جين بينغ، الأمين العام للجنة المركزية للحزب الشيوعي الصيني، على بناء معسكرات الاعتقال هذه بعد أن أوضح لترامب سبب بناء معسكرات الاعتقال في شينجيانغ. وأخبر ترامب شي أن عليه أن يستمر، لأن هذا صحيح تماماً. وفقاً لبولتون، أخبره موظف في مجلس الأمن القومي لآسيا، ماثيو بوتينجر، أن ترامب قال شيئاً مشابهاً خلال رحلته إلى الصين في تشرين الثاني/نوفمبر 2017. وأشار بولتون أيضاً إلى أن ترامب رفض الرد على مثل هذه الأفعال الصادرة عن الصين بفرض عقوبات، مشيراً إلى حقيقة أن "المفاوضات التجارية" مستمرة بين البلدين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست