الصين وسياسة الاحتواء الأمريكية إلى أين؟
الصين وسياسة الاحتواء الأمريكية إلى أين؟

الخبر:   أصدر الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، أوامره بمراجعة الممارسات التجارية للصين، وهي واحدة من نقاط الاحتكاك بين البلدين اللذين يمتلكان أكبر اقتصادين في العالم. وطالب ترامب الممثل التجاري الأمريكي "روبرت لايتزر"، بمعرفة ما إذا كانت تجارة أمريكا مع الصين، بما في ذلك اتهام بكين بالسطو على حقوق الملكية الفكرية الأمريكية، تحتاج إلى إجراء تحقيقات معمقة. وقال ترامب إن هذه الخطوة تمثل تنفيذا لأحد وعوده الانتخابية الأساسية لحماية العمال الأمريكيين، في الوقت الذي اتهم فيه الصين بالاستيلاء على وظائف قطاع التصنيع الأمريكي. وأضاف "منذ وقت طويل، تستنزف هذه الثروة من بلادنا، في الوقت الذي لا تفعل فيه واشنطن شيئا"، معلنا أنه لن "يغض الطرف" عن الممارسات التجارية للصين.

0:00 0:00
Speed:
August 16, 2017

الصين وسياسة الاحتواء الأمريكية إلى أين؟

الصين وسياسة الاحتواء الأمريكية إلى أين؟

الخبر:

أصدر الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، أوامره بمراجعة الممارسات التجارية للصين، وهي واحدة من نقاط الاحتكاك بين البلدين اللذين يمتلكان أكبر اقتصادين في العالم.

وطالب ترامب الممثل التجاري الأمريكي "روبرت لايتزر"، بمعرفة ما إذا كانت تجارة أمريكا مع الصين، بما في ذلك اتهام بكين بالسطو على حقوق الملكية الفكرية الأمريكية، تحتاج إلى إجراء تحقيقات معمقة.

وقال ترامب إن هذه الخطوة تمثل تنفيذا لأحد وعوده الانتخابية الأساسية لحماية العمال الأمريكيين، في الوقت الذي اتهم فيه الصين بالاستيلاء على وظائف قطاع التصنيع الأمريكي.

وأضاف "منذ وقت طويل، تستنزف هذه الثروة من بلادنا، في الوقت الذي لا تفعل فيه واشنطن شيئا"، معلنا أنه لن "يغض الطرف" عن الممارسات التجارية للصين.

التعليق:

أولا: تعترض أمريكا على محافظة الصين على قيمة عملتها اليوان ودعمها عدم تركها لقوى السوق وتقول إنها غير حقيقية، وتتهم الحكومة بالتدخل لمصلحة اليوان، ولهذا السبب تنخفض أسعار المنتجات الصينية في السوق الأمريكي وترتفع أسعار المنتجات الأمريكية في الصين بما يؤدي لوجود هذا العجز الكبير في ميزان التجارة بين الدولتين. وترى واشنطن أن من شأن سياسة الصين بخصوص اليوان أن تؤثر سلبا على قدرة أمريكا التنافسية.

تمثل قضية حقوق الملكية الفكرية أحد مصادر التوتر في العلاقات التجارية الأمريكية الصينية، ولا يقتصر الأمر فقط على نسخ برامج الكومبيوتر Software والأفلام DVD، بل يتعدى الأمر ذلك إلى نسخ وتصنيع أدوية وسيارات وقطع غيار طائرات. كان ترامب قد تعهد خلال حملته الانتخابية بتصنيف الصين دولة متلاعبة بالعملة، وبفرض رسوم جمركية بنسبة 45% على المنتجات الصينية.

ثانيا: قامت أمريكا في أوائل تشرين الأول/أكتوبر 2015، هي وإحدى عشرة دولة مطلة على المحيط الهادئ، وهي: أستراليا، وبروناي، وكندا، وشيلي، واليابان، وماليزيا، والمكسيك، ونيوزيلندا، وبيرو، وسنغافورة، وفيتنام، بتوقيع اتفاقية الشراكة الاقتصادية الاستراتيجية عبر المحيط الهادي، وهي اتفاقية تجارة حرة متعددة الأطراف تهدف إلى زيادة تحرر اقتصادات منطقة آسيا والمحيط الهادئ، مما حدا بالرئيس الأمريكي السابق باراك أوباما للقول "إن واشنطن لن تسمح لبلدان مثل الصين أو غيرها بكتابة قواعد الاقتصاد العالمي"، كما صرح أوباما: "عندما يعيش ما يزيد على 95% من مستهلكينا المحتملين خارج حدودنا، فلا يمكن أن نجعل دولا كالصين تكتب قواعد الاقتصاد العالمي"، ويضيف أوباما: "ينبغي لنا أن نكتب هذه القواعد، وأن نفتح أسواقا جديدة للمنتجات الأمريكية في الوقت الذي نرسي فيه معايير عالية لحماية عمالنا إلى جانب الحفاظ على بيئتنا".

ثالثا: وفي المقابل قامت الصين بوضع استراتيجية "التوجه غربًا"، والتي من أهمها الحزام الاقتصادي لطريق الحرير، والممر الاقتصادي الصيني - الباكستاني، فضلًا عن الممر الاقتصادي بين بنغلاديش والصين والهند وميانمار، ويسعى حزام طريق الحرير البري الجديد إلى ربط الصين باقتصادات شرق وجنوب آسيا، وآسيا الوسطى، وأوروبا من خلال شبكات ممتدة من السكك الحديدية والطرق السريعة، وشبكات الطاقة وكابلات الألياف الضوئية، وغير ذلك من الشبكات. ويهدف طريق الحرير البحري الجديد في القرن الحادي والعشرين إلى تعزيز التجارة عبر المحيط بين منطقة شرق آسيا والمحيط الهندي، وتنتهج الصين سياسة التقدم السلمي وببطء وحذر شديد ولكنها تكشر عن أنيابها في محيطها الإقليمي وتبني القواعد العسكرية وتحديث الجيش وبناء ترسانة عسكرية قوية جدا بالرغم من التفاوت الكبير جدا بين أمريكا والصين من ناحية عسكرية وامتلاك أمريكا لكثير من الأوراق هناك لمجابهة الصين؛ سواء أكانت ورقة عسكرة اليابان أم التعاون الأمريكي مع الهند عدو الصين وحلفاء أمريكا هناك، بالرغم من ضعف أوراق الصين إلا أن التفاوت الاقتصادي والقوة الاقتصادية ليست بنسبة التفاوت العسكري.

رابعا: حاولت أمريكا استخدام روسيا لمصلحتها في مواجهة الصين بعد نجاحها باستخدام روسيا في الشام ولكن الأسباب والظروف والمخاطر والآثار ليست واحدة، لذا لا نجد نجاحا أمريكياً لغاية الآن في تحريك أمريكا لروسيا ضد الصين خاصة وأن الصين تعاملت مع روسيا بحنكة من خلال ربطها باتفاقيات اقتصادية جبارة في ظل العقوبات الأمريكية والأوروبية والتعاون بين البلدين في كافة المجالات، وتدرك روسيا أن مخاطر استخدامها ضد الصين له مخاطر كبرى على الكيان الروسي ولن يقابل هذا الخطر أي عروض أمريكية ذات وزن بعيدا عن آثار سلبية كبرى على روسيا، ولا زال التوتر قائما وبيد أمريكا الكثير من الأوراق لمواجهة الصين التي تتعامل بحذر شديد وببطء دون إثارة حسياسية الأطراف التي يمكن لأمريكا تحريكها وهل لدى الصين من عروض تقدمها لها...

لا زالت المسألة تحتاج متابعة حثيثة لمعرفة أين تسير الأمور في منطقة أصلا لا تحتاج إلى فتيل شعلة، إن شبت فيها النيران فلن تقف عند الصين وسوف تختلط الأوراق ولن يكون بمقدور أحد التكهن بماذا ستكون عليه الأمور.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست