السينما في السعودية سجالات ومداولات تخفي ما صار واضحا
السينما في السعودية سجالات ومداولات تخفي ما صار واضحا

الخبر: مولات جدة تتهيأ للسينما (صحيفة مكة 21/01/2017)

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2017

السينما في السعودية سجالات ومداولات تخفي ما صار واضحا

السينما في السعودية

سجالات ومداولات تخفي ما صار واضحا

الخبر:

مولات جدة تتهيأ للسينما (صحيفة مكة 21/01/2017)

التعليق:

بين الحين والآخر تخرج إلى العلن التصريحات المطالبة بفتح دور السينما في السعودية لتواجهها موجة عارمة من أفراد الشعب، المشايخ والعلماء والمطالبة بالمنع، وهو سجال حول موضوع يمتد عبر تاريخ السعودية الحديث، فما أن ينطفئ ويخبو حتى يعود ليظهر من جديد بين الفينة والأخرى.

مؤخرا مع تولي الملك سلمان للحكم في السعودية، عادت موجة جديدة بالمطالبة عبر مختلف القنوات الرسمية وغير الرسمية، ففي تشرين الثاني/نوفمبر من عام 2015 خرج رئيس لجنة السينما السعودية بجمعية المنتجين والموزعين السعوديين فهد التميمي بتغريدات عبر موقع التواصل تويتر يعلن من خلاله عن لقاءات واتفاقات مع رجال أعمال لاستخراج تصريح بناء صالات سينما وهو الأمر الذي كشف النقاب عنه أحد المسؤولين في هيئة الإعلام المرئي في وزارة الثقافة والإعلام حيث أكد تلقي الوزارة عدة عروض من مستثمرين يرغبون في افتتاح دور سينما ستكون خاضعة للرقابة وذلك بحسب موقع روسيا اليوم 24/11/2015، ولقد سبق تلك الأخبار إعلان إنشاء هيئة الترفيه العامة في 7/5/2015م تحت رئاسة أحمد عقيل الخطيب والتي جاء قرارها بمرسوم ملكي وذلك تماشيا مع رؤية 2030، وقد كانت هيئة الترفيه - برعاية محمد بن سلمان - مسؤولة منذ إنشائها عن توقيع عقود الشراكة الاستراتيجية من مجموعة سيكس فلاجز الترفيهية الأمريكية كما قامت باستصدار تصاريح الموافقة لعدة نشاطات ترفيهية كان أهمها مسابقات المواهب أربز جوت تلنت في جدة أواخر شهر تشرين الثاني/نوفمبر الماضي.

ورغم أن موضوع السينما بحد ذاته يندرج ضمن أحد مجالات الترفيه التي ترعاها هيئة الترفيه العامة، إلا أن الموضوع يأخذ خصوصية معينة يجب التركيز عليها ضمن المخطط العام لهذا التوجه، حيث جاء على لسان الرئيس التنفيذي لهيئة الترفيه العامة عمرو مدني في مقابلة أجرتها معه قناة العربية 11/1/2017 أن الهيئة منحت ترخيصها لإقامة حفلة غنائية في آخر شهر كانون الثاني/يناير الحالي بمدينة جدة وأخرى ستقام في مدينة الرياض، ومؤكدا أن فتح صالات السينما في السعودية لا يزال تحت الدراسة، وتعمل عليه لجان عدة، وهو الأمر الذي أثار حفيظة المجتمع والذي دفع المفتي العام ورئيس هيئة كبار العلماء إلى إجابة أحد المستفسرين عن الحكم الشرعي وذلك خلال لقاء عبر قناة المجد في 13/1/2017 فأجاب بأن "الحفلات الغنائية والسينما فساد للأخلاق ومدمرة للقيم ومدعاة لاختلاط الجنسين، مشيراً إلى أن السينما تعرض أفلاماً ماجنة وخليعة وفاسدة وإلحادية". وأضاف "أرجو أن يوفق الجميع للخير، نعلم أن الحفلات الغنائية والسينما فساد"، وأشار إلى أن "السينما قد تعرض أفلاماً ماجنة وخليعة وفاسدة وإلحادية، فهي تعتمد على أفلام تستورد من خارج البلاد لتغير من ثقافتنا". وشدد المفتي السعودي على أن "الحفلات الغنائية لا خير فيها، فالترفيه بالأغاني ليل نهار، وفتح صالات السينما في كل الأوقات، هو مدعاة لاختلاط الجنسين، أولاً سيقال تخصيص أماكن للنساء، ثم يصبح الجميع رجالاً ونساءً في منطقة واحدة، فهذا كله مفسد للأخلاق ومدمر للقيم". كما جاء في الخبر "وكان ولي ولي العهد السعودي قال في تصريحات نشرتها الأسبوع الماضي مجلة "فورين افيرز" إنه يعتقد بأن نسبة صغيرة فقط من علماء الدين مؤدلجون إلى حد لا يمكن إقناعهم، بينما أكثر من نصف هؤلاء العلماء يمكن إقناعهم عن طريق التواصل والحوار بمساندة المبادرة". (بي بي سي 14/1/2017) تبع تلك التصريحات وبشكل مباشر وسريع اجتماع رئيس هيئة الترفيه أحمد الخطيب بالمفتي بناء على طلب الأول وكانت نتيجة اللقاء أن استعرض الخطيب مع المفتي برامج وخطط الهيئة، مؤكداً عدم صحة ما يشاع عن ترخيص الهيئة لإقامة دور سينما حالياً، أو وجود توجه للسماح بالاختلاط في أي من البرامج والفعاليات التي تقيمها الهيئة مستقبلًا واضعا بذلك فاصلة منقوطة لهذا السجال عبر تصريحه النهائي "لا سينما في الوقت الحالي في السعودية". (صحيفة سبق 16/1/2017) وذلك مع استمرار التأكيد على الحفلات الغنائية التي سوف ترعاها قنوات الوليد بن طلال - روتانا - والتي صرحت لها هيئة الترفيه العامة والتي حدد موعدها في 30/1/2017 وموقعها الصالة المغطاة بملعب الجوهرة في جدة وذلك بحسب تأكيد موقع قنوات روتانا في 16/1/2017.

في هذه الأثناء برزت تحركات جديدة في الساحة الإعلامية تحاول تسليط الضوء على ناحية خبيثة في الموضوع، حيث نشرت بعض المواقع وحسابات أشخاص على مواقع التواصل الإلكتروني صوراً تثبت وجود دور للسينما في السعودية وفي العاصمة الرياض تحديدا، وذلك خلال حقب زمنية ماضية مثل الستينات والسبعينات مع استرجاع لتاريخ الحفلات الغنائية التي كانت تقيمها النوادي الرياضية والثقافية في مختلف مناطق المملكة، مع استذكار لمهرجانات الغناء التي كانت تقام في أبها وجدة برعاية الدولة والتي توقفت سابقا بسبب مطالبات شعبية، وقد كان الأخبث من ذلك كله لعب البعض على وتر أن الموضوع يشكل مطلبا اجتماعيا توافق عليه الأغلبية في المجتمع وأن الشعب في بلاد الحرمين لا يمانع ذلك وكأن بين أيدي المطالبين بهذا الأمر إحصائيات مجتمعية رسمية أو موافقات من جهات عليا على هذا الطرح، حتى صاروا يتحدثون باسم الشعب وكأنهم ممثلوه!!

على هذا فإنه يمكن الملاحظة وبشكل واضح تماما بأن الأمر لا يقف عند تصريح دور للسينما مع عدمه، كما أن الأمر ليس له علاقة بمستوى "الثقافة والمعرفة" كما يدعي البعض، بل إن الأمر يتعدى ذلك كله ليكشف عن توجهات الحكومة السعودية التي تسعى إلى إبعاد الأمة عن دين ربها وإحلال المبادئ والقيم التي يحملها المجتمع في بلاد الحرمين، كما أن الخطة تهدف إلى تغريب هذا المجتمع المحافظ، وإحلال القيم الغربية الفاسدة مكان القيم الإسلامية المترسخة في نفوس ومشاعر وتحركات أفراد الأمة الإسلامية وجماعاتها وخصوصا في بلاد الحرمين، مهبط الوحي ومنطلق رسالة الإسلام وقبلة المسلمين وحاضنة الحرمين الشريفين.

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُون

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست