التعاون مع الإدارة الأمريكية الجديدة لن يحل مشكلة سد النهضة بل التعاون مع الأمة وتبني قضاياها هو الحل
التعاون مع الإدارة الأمريكية الجديدة لن يحل مشكلة سد النهضة بل التعاون مع الأمة وتبني قضاياها هو الحل

الخبر:   نقل موقع "مباشر مصر" الجمعة 2021/1/15م، عن معتز زهران سفير مصر بواشنطن، إن هناك حاجة للتعاون مجددا مع الإدارة الأمريكية الجديدة للعب دور بنّاء من أجل حل الخلاف حول قضية سد النهضة بين مصر والسودان وإثيوبيا، جاء ذلك خلال مشاركته كضيف في حوار افتراضي بالفيديو مع المجلس الوطني للعلاقات الأمريكيةـالعربية، حسبما ذكرت وكالة أنباء الشرق الأوسط، ونوه إلى أن المفاوضات مع الأسف لم تتقدم نحو حل القضية، وقد بذلت الإدارة الحالية بالولايات المتحدة جهودا وكانت الوساطة فيها متوازنة مع الدول الثلاث، واشترك فيها البنك الدولي وتوصلت الجهود الأمريكية إلى وثيقة متوازنة وعادلة لكن الطرف الإثيوبي رفض العملية برمتها.

0:00 0:00
Speed:
January 17, 2021

التعاون مع الإدارة الأمريكية الجديدة لن يحل مشكلة سد النهضة بل التعاون مع الأمة وتبني قضاياها هو الحل

التعاون مع الإدارة الأمريكية الجديدة لن يحل مشكلة سد النهضة

بل التعاون مع الأمة وتبني قضاياها هو الحل

الخبر:

نقل موقع "مباشر مصر" الجمعة 2021/1/15م، عن معتز زهران سفير مصر بواشنطن، إن هناك حاجة للتعاون مجددا مع الإدارة الأمريكية الجديدة للعب دور بنّاء من أجل حل الخلاف حول قضية سد النهضة بين مصر والسودان وإثيوبيا، جاء ذلك خلال مشاركته كضيف في حوار افتراضي بالفيديو مع المجلس الوطني للعلاقات الأمريكيةـالعربية، حسبما ذكرت وكالة أنباء الشرق الأوسط، ونوه إلى أن المفاوضات مع الأسف لم تتقدم نحو حل القضية، وقد بذلت الإدارة الحالية بالولايات المتحدة جهودا وكانت الوساطة فيها متوازنة مع الدول الثلاث، واشترك فيها البنك الدولي وتوصلت الجهود الأمريكية إلى وثيقة متوازنة وعادلة لكن الطرف الإثيوبي رفض العملية برمتها.

التعليق:

سد النهضة أزمة تواجه مصر وتهدد أمنها الاستراتيجي بل تهدد كيانها كله وتجعلها وقرارها السياسي رهينة لمن يملك السد ويتحكم فيه، وقطعا من يملك السد ويتحكم فيه ليست إثيوبيا المُقام فوق أرضها، وإنما الدولة صاحبة السيادة الفعلية هناك وهي أمريكا الخصم والحكم، أما حكام إثيوبيا فلا فرق بينهم وبين حكام مصر وحكام السودان، فهم مجرد بيادق على رقعة شطرنج تحركها يد السادة في البيت الأبيض، فيوقع السيسي عندما يُطلب منه التوقيع ويتنازل عندما يطلب منه التنازل ويتفاوض عندما يطلب منه التفاوض، بلا كرامة يجسدها وقوفه أمام ترامب وسط موظفي البيت الأبيض وجلوسه منزويا منكمشا في نفسه أمامه كما يفعل الخادم أمام سيده، فلم يكن السيسي ليجرؤ على التنازل عن حقوق مصر التاريخية في مياه النيل ويلغي المعاهدات السابقة لو لم تشر له أمريكا بذلك أو لو لم ترغب هي في ذلك.

وقد يقول قائل إن أثيوبيا دولة ذات سيادة وأنها بنت هذا السد بالجهود الذاتية، وهذا خطأ محض فلا يوجد في بلادنا اليوم دولة حرة وليست تابعة أو عميلة، وهؤلاء الحكام عملاء للغرب ولا يُظن فيهم ولا في أعمالهم خير للشعوب ولا عمل من أجل رفعتهم، بل كل ما يعنيهم هو مصالح سادتهم في الغرب ولو كان هذا على جثث شعوبهم كما يحدث تماما من السيسي في مصر ومثله يحدث من حكام إثيوبيا لا فرق، فالشعوب هي التي تدفع الفواتير في النهاية.

ملاحظة تحتاج لإمعان نظر وهي توقيت بناء السد بعد ثورة يناير وما أظهره الشعب خلال الثورة من إمكانية الخروج من قبضة العسكر عملاء أمريكا وكأن أمريكا تجهز حلا بديلا لتطويع أهل مصر إذا لزم الأمر، وبغض النظر عن المالك والمستفيد الفعلي من سد النهضة فإن وجود أي سد على النيل يمثل خطرا حقيقيا على مصر وتهديداً واضحاً يستوجب التحرك السريع الذي قد يصل لإعلان الحرب، فوجود السدود يمنع الطمي الذي يغذي التربة ويعيد لها خصوبتها، ويقلل مساحة الأرض المزروعة ويجعل النيل وماءه الذي يشربه أهل مصر في يد غيرهم رهيناً بقرارهم ورغباتهم، فيجعل مصر وأهلها رهينة في يد المالك الفعلي والمتحكم في السد، أي أنه يضعف مصر نفسها استراتيجيا ويضعف القرار الصادر عن الشعوب خلال الثورات.

لهذا فلا حل سيأتي من مفاوضات يقودها عملاء والحَكَم فيها سيدهم ومراده ومرادهم تكبيل هذه الشعوب ومنعها من أي ثورة محتملة، والحل الوحيد هو في تبني قضايا الأمة واحتضانها ونصرتها من قبل المخلصين من أبناء الأمة في الجيوش، وأولها اقتلاع هؤلاء الحكام العملاء وتحرير إرادة الدولة بفك ارتباطها بالغرب وخلع طوق التبعية المفروض عليها منذ عقود خلت، وهدم النظام الرأسمالي النفعي الذي يحكم بلادنا ويتحكم فيها ويمكّن الغرب من نهب ثرواتها، وإقامة نظام الإسلام؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، المنبثق عن عقيدة الأمة والقادر على حفظ كرامة الشعوب وثروة البلاد، والذي لا يقبل أن تكون منابع النيل تحت سلطان آخر غير سلطان الإسلام، ولا يقبل أن يتحكم عدو الأمة في مائها، ويعتبر هذا الأمر قضية مصيرية تتطلب تحريك الجيوش لهدم كل تهديد لأمن الأمة أو يمس قوتها أو يحاول رهن قرارها أو نهب جزء من ثروتها...

هذا هو الحل ولا حل غيره لمن يريد خير مصر وأهلها، ونحن نضعه بين أياديكم أيها المخلصون من أبناء الأمة في جيش الكنانة ونطالبكم بنصرته وتمكين العاملين وإعانتهم على تطبيقه حتى تخرج مصر والأمة بعمومها من ربقة التبعية للغرب الكافر التي امتدت لعقود طويلة ويوقف سيل نهب ثروات الأمة التي يتنعم بها الغرب وينفقها فيما يضر الأمة ويمعن في إذلالها، هذا والله الخير الذي ليس دونه خير والفوز العظيم الذي ينتظركم لو فعلتم، فكونوا أنصار الله ورسوله ودينه عسى الله أن يفتح على أيديكم فتكون دولة العز والنصر والتمكين خلافة تملأ الأرض عدلا ورحمة وتنقذ البشرية من الرأسمالية التي تَغرق وتُغرق العالم معها، اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها واجعلنا من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست