التعاون مع أمريكا هو حرام شرعاً ويُعَدّ قصراً في النظرة السياسية واستسلاماً للأمر الواقع (مترجم)
التعاون مع أمريكا هو حرام شرعاً ويُعَدّ قصراً في النظرة السياسية واستسلاماً للأمر الواقع (مترجم)

الخبر: عقب اجتماع أردوغان وترامب أدلى إبراهيم كالن المتحدث باسم الرئاسة بهذا البيان: "في اجتماعات اللجان والاجتماعات الشخصية تم التركيز على الأهمية الاستراتيجية للعلاقات التركية الأمريكية، كما تم تقييم العديد من الخطوات الاقتصادية والتجارية والدفاعية، وأثناء مناقشة الكفاح ضد المنظمات الإرهابية كحزب العمال الكردستاني وداعش في الصدارة فإنه تم تقييم الخطوات المحتملة ضد جماعة غولن، كما تم تناول التطورات في سوريا والعراق بشكل شامل خلال الاجتماعات".

0:00 0:00
Speed:
May 21, 2017

التعاون مع أمريكا هو حرام شرعاً ويُعَدّ قصراً في النظرة السياسية واستسلاماً للأمر الواقع (مترجم)

التعاون مع أمريكا هو حرام شرعاً

ويُعَدّ قصراً في النظرة السياسية واستسلاماً للأمر الواقع

(مترجم)

الخبر:

عقب اجتماع أردوغان وترامب أدلى إبراهيم كالن المتحدث باسم الرئاسة بهذا البيان: "في اجتماعات اللجان والاجتماعات الشخصية تم التركيز على الأهمية الاستراتيجية للعلاقات التركية الأمريكية، كما تم تقييم العديد من الخطوات الاقتصادية والتجارية والدفاعية، وأثناء مناقشة الكفاح ضد المنظمات الإرهابية كحزب العمال الكردستاني وداعش في الصدارة فإنه تم تقييم الخطوات المحتملة ضد جماعة غولن، كما تم تناول التطورات في سوريا والعراق بشكل شامل خلال الاجتماعات".

التعليق:

قبل اجتماع أردوغان مع ترامب تم إجراء بعض التحليلات المختلفة والجذرية، فقد كان هناك تحليلات مثل "الاجتماع الأخير" و"ربما تكون النهاية" و"سيتم تعليق العلاقات" و"قد نحصل على بعض النتائج فيما يتعلق بجماعة غولن وحزب الاتحاد الديمقراطي" و"أنجب الجبل فأراً"... وغيرها. وكل تلك التحليلات فشلت، وشيء أقل بكثير مما تم نشره حدث. وقد تقرر أن العلاقات التركية الأمريكية لن تنتهي وسيتم مواصلة المسار كحلفاء... والنقاط التي ينبغي أن تلاحظ حول هذا الاجتماع:

  1. إن أمريكا هي دولة كافرة تقود الأيديولوجية الرأسمالية والتي هي عدو للإسلام والمسلمين، وعداؤها للإسلام بات واضحاً بعد ما حدث في أفغانستان والعراق. إن محالفة أمريكا وعقد الاتفاقات معها هو حرام شرعاً وقصر في النظرة السياسية وتعتبر تبعية وتسليماً للأمر الواقع.
  2. إن سياسات أمريكا عميقة بحيث لا يمكن تغييرها بين ليلة وضحاها فقط لمجرد تغيير رئيسها. والمعيار الوحيد لأمريكا هو مصالحها الشخصية، وهذا هو السبب في أنها أعلنت وبشكل صريح أنها ستتعامل مرة أخرى مع تركيا وأعداء تركيا (وحدات حماية الشعب وحزب الاتحاد الديمقراطي وجماعة غولن)، وذلك وفقا لمصالحها، وقد تمت الاتفاقات على الرغم من ذلك.
  3. أثبتت أنظمة الكفر مرة أخرى أنها ملة واحدة، فقد صادق ترامب رئيس أمريكا على قرار تزويد حزب الاتحاد الديمقراطي بالأسلحة الثقيلة، كما أن حليفه الرئيس الروسي بوتين أدلى بالبيان التالي بينما كان أردوغان في طريقه لأمريكا حيث قال: "سنواصل تعاوننا مع الأكراد السوريين"، وفي الوقت نفسه صرح الأسد "في هذه المرحلة فإن معركة الأكراد السوريين أصبحت مشروعة".
  4. إن جواب السؤال "ماذا سيحصل الآن؟" يكمن في العلاقات بين أمريكا وتركيا والتي ستنمو بشكل أوثق، وهذا بدوره يعني أن تركيا ستقدم المزيد من التنازلات وأنها ستعمل وفقاً لمصالح أمريكا. وهذا هو السبب في أن العلاقات لم تنته بل تم الإعلان عن بداية جديدة لها. ومن المحتمل أن يتم اتخاذ أولى الخطوات الحقيقية في قمة منظمة حلف شمال الأطلسي في 25 أيار/مايو، حيث سيتم طلب المزيد من التنازلات في العراق وسوريا.
  5. من خلال الاجتماع والبيانات اللاحقة أصبح واضحاً أن التصورات مثل أن "الولايات المتحدة كانت وراء محاولة الانقلاب في 15 تموز/يوليو" أو أن "الولايات المتحدة تقاتل ضد تركيا"؛ لا تعكس الحقيقة وإنما كان الجانبان سعيدين بالتعامل مع بعضهما بعضا.
  6. لقد فشلت أمريكا بالرغم من أنها فعلت ما بوسعها لإنهاء الثورة في سوريا وستستمر في ذلك. ولذا فمن المستحيل في المستقبل القريب أن تتخلى دول الكفر مثل أمريكا وروسيا عن حزب الاتحاد الديمقراطي أو وحدات حماية الشعب أو الجماعات المماثلة الذين يكافحون من أجل مصالح أمريكا بغض النظر إن كانت تركيا تتوافق معهم أم لا.
  7. على الرغم من أن اللجان التي وصلت قبل أيام والاجتماع الشخصي فإنه لم يتغير أي شيء بالنسبة لحزب الاتحاد الديمقراطي أو وحدات حماية الشعب أو جماعة غولن. لم تتخل أمريكا عن دعمها للمنظمات الإرهابية في سوريا مثل وحدات حماية الشعب أو حزب الاتحاد الديمقراطي، كما أنها لم تغير وجهة نظرها تجاه جماعة غولن. ويرجع ذلك إلى أن وجهة نظرها تجاه هذه القضايا لم تكن قائمة على نقص في المعلومات بل على فهم فاسد.
  8. لن تنجح أبداً في إرضاء أمريكا التي تحتل العراق وأفغانستان وليبيا وأجزاء أخرى من أراضينا، والتي تقتل الملايين من إخواننا وأخواتنا الذين يتركون خلفهم عدداً لا يحصى من الأطفال اليتامى. بغض النظر عما إن كنت حليفاً لهم أو أعطيتهم القواعد العسكرية الخاصة بك أو منحتهم المرافئ الخاصة بك، فلن تكون أمريكا سعيدة أو راضية عنك.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست