الطاغية نزارباييف يشن هجوماً عنيفاً ضد الإسلام والمسلمين في البلاد! (مترجم)
الطاغية نزارباييف يشن هجوماً عنيفاً ضد الإسلام والمسلمين في البلاد! (مترجم)

الخبر:   في 15 كانون الثاني/يناير، ذكرت وكالة "تيليرنا" على موقعها على شبكة الإنترنت: "يمكن تحميل 130 شخصاً من أولياء أمور التلاميذ مسؤولية إدارية بسبب عدم استعدادهم للالتزام بقانون الزي المدرسي في جنوب كازاخستان. وحوالي 400 طالب/طالبة في مدارس المنطقة يرتدون الحجاب وغيره من الرموز الدينية. وسيتم مراقبة تنفيذ معايير وقواعد الدولة العلمانية في المؤسسات التعليمية من قبل رجال الشرطة والمعلمين والشخصيات الدينية.

0:00 0:00
Speed:
February 26, 2018

الطاغية نزارباييف يشن هجوماً عنيفاً ضد الإسلام والمسلمين في البلاد! (مترجم)

الطاغية نزارباييف يشن هجوماً عنيفاً ضد الإسلام والمسلمين في البلاد!

(مترجم)

الخبر:

في 15 كانون الثاني/يناير، ذكرت وكالة "تيليرنا" على موقعها على شبكة الإنترنت: "يمكن تحميل 130 شخصاً من أولياء أمور التلاميذ مسؤولية إدارية بسبب عدم استعدادهم للالتزام بقانون الزي المدرسي في جنوب كازاخستان. وحوالي 400 طالب/طالبة في مدارس المنطقة يرتدون الحجاب وغيره من الرموز الدينية. وسيتم مراقبة تنفيذ معايير وقواعد الدولة العلمانية في المؤسسات التعليمية من قبل رجال الشرطة والمعلمين والشخصيات الدينية.

والآن هنالك 398 طالبة يرتدين الحجاب في المدرسة، وفي كانون الثاني/يناير لعام 2017 كان هنالك حوالي 600 طالبة. وفي العام الماضي كانت 28 مدرسةً يرتدين الحجاب في منطقة سيرام وسارياغاش وماكتارال. واليوم وبعد الأعمال التأويلية، تستمر 6 معلمات فقط في مهنة التعليم وهن يرتدين اللباس الشرعي. وقد تم نقل الإجراءات القانونية المتعلقة بالآباء الـ130 الذين رفضوا الامتثال لأمر وزارة التربية والتعليم بشأن الزي المدرسي، إلى الشرطة الإدارية".

التعليق:

في السنوات القليلة الماضية قام الطاغية نزارباييف بزيادة الضغط على المسلمين في البلاد. فمثل نظرائه، طغاة آسيا الوسطى، لم يستطع الطاغية نزارباييف أن يبقى بعيداً عن حرب الغرب ضد الإسلام والمسلمين الذين يستخدمون الذريعة الكاذبة "الحرب على الإرهاب والتطرف". وفي أوائل عام 2005، أقرت محكمة العدل العليا في كازاخستان قائمة بأسماء المنظمات التي تعتبرها (إرهابية) بناء على طلب من المدعي العام، وقامت بحظر أنشطتها على أراضي البلاد. وهذه المنظمات هي: "القاعدة" و"الحزب الإسلامي في تركستان الشرقية" و"حزب التحرير" و"المؤتمر الشعبي الكردستاني" و"الحركة الإسلامية لأوزبيكستان" و"عصبة الأنصار" و"الإخوان المسلمون" و"طالبان" و"بوز غورد" و"جماعة المجاهدين في آسيا الوسطى" و"لشكر طيبة" و"جمعية الإصلاحات الاجتماعية". وفي شباط/فبراير 2013، حكمت محكمة مدينة أستانة بحظر أنشطة منظمة "جماعة التبليغ". وهكذا، تم حظر كل المنظمات الإسلامية التي لا يسيطر عليها الطاغية نزارباييف، وأصبحت سجون الطاغية مليئة بحملة الدعوة المسلمين.

في سجون الطاغية، يخضع المسلمون لمحاكمات شديدة. فقد كان هناك حالات من أعمال القتل الشديدة، كما حدث مع الأخ أخيلبيك من ألما-آتا، عضو حزب التحرير السياسي. فقد استشهد في عام 2010. لقد حاولوا إجبار الأخ أخيلبيك على التخلي عن دعوته مع حزب التحرير وخيانة إخوانه. لكن أخيلبيك لم يخف من تهديداتهم وحيلهم. فقد شوهد بوضوح على جسم أخينا الطاهر، العديد من الجروح والكدمات، وكسر في الذراع والساق. وكان واضحاً للعيان وجود عضات على يديه. كل هذا لم يثر شكوكاً في أن أخانا تعرض للتعذيب حتى الموت من قبل أتباع الطاغية الذين قاموا بعضّ أخينا كالكلاب المسعورة.

في كازاخستان، لا يوجد هنالك مأوى لشعب الإيغور من منطقة شينجيانغ إيغور ذاتية الحكم في الصين، الذين أجبروا على الفرار من ديارهم بسبب اضطهاد الشيوعيين في الصين لهم. فالطاغية نزارباييف، بناء على طلب من السلطات الشيوعية في الصين، يقوم بتسليم المسلمين الإيغور لهم.

لكن الطاغية نزارباييف لم يشبع من اضطهاد المسلمين في كازاخستان، بل وشارك أيضاً في مخططات المستعمرين الكافرين ضد مسلمي سوريا. ففي كانون الثاني/يناير 2017 في أستانة، عاصمة كازاخستان، عقد مؤتمر، كان الغرض منه مؤامرة ضد ثورة المسلمين المباركة في سوريا. ولكن النصر لله سبحانه وتعالى، فقد فشلوا في خداع المسلمين في سوريا، ولم يكلل هذا المؤتمر بالنجاح. وبعد أن قام الطاغية نزارباييف بزيارة واشنطن في كانون الثاني/يناير من هذا العام ولقائه بسيده ترامب، زاد الطاغية الضغط على المسلمين في البلاد. ففي شباط/فبراير، بدأت وسائل الإعلام الحديث عن المسلمين ذوي اللحى والمرتدين للسراويل القصيرة كممثلين للحركات الدينية المدمرة. ووفقاً لوزارة الشؤون الدينية والمجتمع المدني، يقترح أن تكون الرموز الدينية مثل (اللحية، والسراويل القصيرة، والنقاب، والحجاب) التابعة للاتجاهات الدينية المدمرة مضمونة بموجب القانون التابع - وهو أمر مشترك من الهيئة المرخص لها وهيئات الأمن الوطني والشؤون الداخلية.

والآن، تتعرض المرأة المسلمة للاضطهاد بشكل مكثف. وتضطر طالبات المدارس لخلع الحجاب، وإلا يتم طردهن من المدرسة. ويتم رفض المدرسات وطردهن من العمل إذا رفضن خلع الحجاب. وعلاوة على ذلك، يتم نقل السجلات التي تتضمن أسماء النساء المسلمات اللواتي رفضن التخلي عن حجابهن إلى الشرطة.

إن هذا الهجوم العنيف الذي يقوم به الطاغية نزارباييف ضد الإسلام والمسلمين في كازاخستان وغيرها من البلاد، يظهر أمراً واحداً فقط وهو أن هذا الطاغية لا يمكن أن يكون حاكماً للمسلمين. ويجب إلقاؤه وإلقاء طاغوته في سلة المهملات. وللقيام بذلك، ينبغي على المسلمين العمل مع حزب التحرير لإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. ولإقامة هذه الدولة، فإننا بحاجة لإمام لا يسجن حراس الدعوة المسلمين ولا يعذبهم، ولا يطارد الفتيات المسلمات الصغيرات، ولا يجبرهن على خلع حجابهن. هذا الإمام هو الإمام الذي وصفه النبي محمد rبقوله: «الإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ». نسأل الله أن يعجل لنا بإقامة دولة الخلافة وتنصيب خليفة راشد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست