الطبقة السياسية الجشعة والأنانية أسوأ من الجائحة نفسها
الطبقة السياسية الجشعة والأنانية أسوأ من الجائحة نفسها

الخبر:   يواصل السياسيون الأفغان والزعماء الجهاديون السابقون جهودهم لحل الأزمة السياسية التي نشأت بعد الانتخابات الرئاسية التي جرت العام الماضي بين الرئيس أشرف غاني ومنافسه الرئيس المعلن د. عبد الله عبد الله. التقى الرئيس الأسبق حامد كرزاي، والقادة الجهاديون السابقون كريم خليلي، ومحمد محقق، وسيد إسحاق جيلاني، وسيد حامد جيلاني، وحجي دين محمد، وضرار مقبل، ورحمة الله نبيل، في مقر إقامة قلب الدين حكمتيار لمناقشة حل سياسي لأزمة ما بعد الانتخابات. (أفغانستان تايمز). 

0:00 0:00
Speed:
April 08, 2020

الطبقة السياسية الجشعة والأنانية أسوأ من الجائحة نفسها

الطبقة السياسية الجشعة والأنانية أسوأ من الجائحة نفسها

(مترجم)

الخبر:

يواصل السياسيون الأفغان والزعماء الجهاديون السابقون جهودهم لحل الأزمة السياسية التي نشأت بعد الانتخابات الرئاسية التي جرت العام الماضي بين الرئيس أشرف غاني ومنافسه الرئيس المعلن د. عبد الله عبد الله. التقى الرئيس الأسبق حامد كرزاي، والقادة الجهاديون السابقون كريم خليلي، ومحمد محقق، وسيد إسحاق جيلاني، وسيد حامد جيلاني، وحجي دين محمد، وضرار مقبل، ورحمة الله نبيل، في مقر إقامة قلب الدين حكمتيار لمناقشة حل سياسي لأزمة ما بعد الانتخابات. (أفغانستان تايمز).

التعليق:

لا يزال سكان المدن الأفغانية الرئيسية قلقين بشأن حالة بقائهم على قيد الحياة، نظراً لخطورة أوضاعهم المالية في ظل جائحة فيروس كوفيد- 19، وعدم استجابة الحكومة المناسبة للوضع. ومع ذلك، يركز السياسيون الأفغان وقيادة الحكومة على صراعهم على السلطة، مما يترك الأفغان تحت رحمة الوباء والجوع المستمر.

في ضوء الجهود التي يبذلها القادة السياسيون الأفغان، يحافظ الرئيس الأفغاني، أشرف غاني، على موقفه بعدم الاعتراف بأي حل وسط. كما أن الرئيس الثاني، عبد الله عبد الله، الذي أعلن نفسه بنفسه، غير مستعد لتقديم أية تضحيات من أجل الشعب الأفغاني، لمواجهة الوضع الحالي الذي تعيشه الغالبية العظمى ممن هم تحت خط الفقر.

بالإضافة إلى ذلك، ينشغل الرئيس الأفغاني في إقامة تحالفات وإدخال سياسات جديدة لتعزيز موقفه السياسي. وتتمثل إحدى هذه السياسات في تولي جميع الأمور المالية الخاضعة لسيطرته المباشرة وتجنبه لأن يكون مسؤولاً أمام أي كيان آخر، بما في ذلك البرلمان.

لا توجد خطة فورية لأية إجراءات مناسبة للأزمة الناشئة عن جائحة الفيروس، وبخلاف محاولة الحفاظ على النمط الغربي السائد في الحجر الصحي الكامل فلا يتم توفير أي غذاء أو مال للأشخاص المحتاجين. وفي الحقيقة إن عدم التزامهم من البداية بحجر كل أفغاني عائد، وخاصة العائدون هرباً من الوباء من إيران، يعود لعدم اهتمامهم بالوقاية من الوباء وانشغالهم في مساعيهم السياسية التي تتمحور حول مصالحهم.

علاوةً على ذلك، فإن كل إعلان يصدر عن القصر الرئاسي للسيطرة على الموقع هو مجرد إشارة إلى سراب، لأنه لا توجد موارد مالية متبقية لتقديم المساعدة للجمهور، بعد أن تمّ إنفاق كل هذه الموارد بشكل خاطئ العام الماضي على الانتخابات أو فضائح الفساد الضخمة التي ارتكبها فريقه مزدوج الجنسية.

ما هو أكثر إثارة للانتباه هو حقيقة أن غير القادة السياسيين أيضا يفكرون في إثارة مخاوف بشأن هذه المسألة بسبب تركيزهم الوحيد على كيفية الحفاظ على نفوذهم مقابل الآخرين. لقد تخلّوا بالفعل عن عهدهم مع الله سبحانه وتعالى والآن هم هنا للتخلي عن تعهدهم لشعبهم أيضاً، ونتيجة لذلك، لا توجد محاولات صادقة من جانبهم لاستجواب الحكومة حول عدم اهتمامها بالوقاية من كارثة قادمة.

كما أصبحت غرفة التجارة الأفغانية راضية عن هذه الجريمة، لأنها توفر أملا زائفا للشعب، على الحزم المالية التي لا وجود لها. وبالإضافة إلى ذلك، لا توجد خطط لكيفية مساعدة المحتاجين فورا، في حين إن الجزء الأكبر من سكان المناطق الحضرية الذين يعيشون في الحجر الصحي هم عمال المياومة، والباعة المتجولون، وأولئك الذين لا يستطيعون الذهاب إلى الفراش مالئي بطونهم إلا إذا كانوا قادرين على العمل في ذلك اليوم. كما لا توجد خطة لأولئك الذين هم في وضع جيد حول كيفية شراء المواد الغذائية بمجرد إغلاق الأسواق. ولذلك، فإن البلد في حالة ركود كامل، وهي وصفة جيدة لأزمة اجتماعية. إنها مسألة وقت فقط، قبل أن يتحول جوعهم إلى غضب مشتعل خارج عن السيطرة.

يمكن أن يكون الوضع الناشئ والمتوقع الوحيد نتيجة للموقف غير المسؤول من السياسيين الأفغان هو الفوضى التي ستغرق البلاد كلها في لهيب. ومع ذلك، على الرغم من العديد من الادعاءات التي قدمها هؤلاء المسمَّون بالاقتصاديين والمديرين العامين المدربين الأجانب، ليس لديهم أدنى فكرة عن كيفية التعامل بشكل صحيح مع الوضع الراهن. فتركيزهم الوحيد هو الحفاظ على مشاركة القوى الخاصة بهم وكذلك متابعة الكفار في كل خطوة من خطواتهم، بغض النظر عن مدى ضررها.

في الختام، إن الأنانية وعدم الاهتمام من السياسيين الأفغان ستدفع المجتمع الأفغاني نحو فوضى كاملة، وسياساتهم الصورية للتعامل مع الوباء ستؤدي إلى ضرر أكثر من أي منفعة للشعب. لقد أدى الركود الذي أصابهم ذاتياً إلى تعريض الكثيرين للجوع الذي قد يتحول قريباً إلى حمم غاضبة تجعل البلاد بأكملها في وضع فوضوي. لو كانوا قد فكروا في حل إسلامي لهذه المشكلة، لما كان الوضع في غاية الخطورة كما هو الآن، والناتج عن عدم التزامهم بأن يكونوا مسؤولين أمام الله سبحانه وتعالى، واهتمامهم فقط بمصالحهم الشخصية. وفي الواقع ان هذا يضر بالناس أكثر مما يمكن أن يحدثه الوباء. لذلك، من المهم أن نفهم أكثر من أي وقت مضى حاجتنا إلى قيادة سياسية إسلامية صادقة لا يمكن تحقيقها إلا من خلال إقامة الخلافة على منهج النبي محمد r.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

#كورونا                   |        #Covid19            |         #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست