التضليل ودغدغة المشاعر لصرف الناس عن الحقائق
التضليل ودغدغة المشاعر لصرف الناس عن الحقائق

الخبر:   تخرج علينا بعض الفضائيات بمحللين وخبراء استراتيجيين يقولون: كتائب المقاومة في غزة قادرة على الصمود.. قادرة على تسديد الضربات للعدو.. تقوم بعمليات شجاعة من مسافة صفر.. تصدت لقوات العدو وأجبرتها على التراجع.. تصدت لقوات العدو على المحور الفلاني أو في الشارع الفلاني وأوقعت في صفوفه خسائر فادحة... قادرة على تجنيد المزيد من المقاومين... طورت صواريخ لها... وغير ذلك.

0:00 0:00
Speed:
August 31, 2024

التضليل ودغدغة المشاعر لصرف الناس عن الحقائق

التضليل ودغدغة المشاعر لصرف الناس عن الحقائق

الخبر:

تخرج علينا بعض الفضائيات بمحللين وخبراء استراتيجيين يقولون: كتائب المقاومة في غزة قادرة على الصمود.. قادرة على تسديد الضربات للعدو.. تقوم بعمليات شجاعة من مسافة صفر.. تصدت لقوات العدو وأجبرتها على التراجع.. تصدت لقوات العدو على المحور الفلاني أو في الشارع الفلاني وأوقعت في صفوفه خسائر فادحة... قادرة على تجنيد المزيد من المقاومين... طورت صواريخ لها... وغير ذلك.

التعليق:

هكذا تخرج علينا بعض الفضائيات بمحللين وخبراء استراتيجيين يشيدون بعمليات المقاومة البطولية في قطاع غزة، وتنشر أخبارها وكأن الأمور تسير على ما يرام، وكأنها كافية لقهر العدو ووقف تقدمه والتغلب عليه وهي غير محتاجة لشيء آخر، فتعطي صورة وكأن المقاومة بألف خير تؤدي فرض الكفاية بالتمام!

ولكن لم يرد على لسان المحللين أو على لسان المراسلين أثناء سرد الأخبار حاجة المقاومين والمجاهدين إلى السلاح والعتاد ومزيد من المقاتلين والجنود المدربين. فيكتفى بعرض هذه الأخبار وعرض التحليلات التي تشيد بالمقاومة من دون التطرق إلى أهم ما تحتاجه المقاومة وهو الإمدادات من السلاح وإرسال قوات لنصرتها. وكأن الحديث عن ذلك خط أحمر لا يجوز التطرق إليه، فيجب صرف الأنظار عنه بمدح البطولات التي تقوم بها المقاومة فقط، ولا يجوز المطالبة بمد المجاهدين بالسلاح ولا بالقوات ولا بتحريك الجيوش.

هذا نوع من التضليل والتخدير، يضللون به الناس ويدغدغون مشاعرهم فيخدرونهم بها. حتى إن المسؤولين في تنظيمات وكتائب المقاومة لا يطالبون بمدهم بالسلاح ولا بالقوات ولا بالجيوش! فكأنهم ممنوعون من الحديث عن ذلك، ومهددون بأن تلك الفضائيات لن تذيع أخبارهم وأن دول الفضائيات لن تسمح لقادتهم بالوجود فيها، أو المرور منها إذا تحدثوا عن ذلك!

بينما يقوم رئيس وزراء العدو نتنياهو بتعزيز قواته ويزيد من هجماته الوحشية وأعمال التدمير والقتل، ويطالب أمريكا بإرسال المزيد من السلاح النوعي لقتل المزيد من الأطفال والنساء والرجال العزل، وأمريكا تلبي طلبه، وآخر صفقة وافقت على إرسالها للعدو كانت يوم 2024/8/13 بنحو 20 مليار دولار. وكذلك هناك دول أوروبية تمد كيان يهود بالسلاح وبالمرتزقة.

أمريكا وبعض دول أوروبا تمد كيان يهود بكافة أنواع الأسلحة، وفي الوقت نفسه تمنع دول المنطقة من مد المدافعين عن أرواحهم وأعراضهم وديارهم بأية قطعة سلاح وتعتبر ذلك جريمة وتوسيع لنطاق الصراع، بينما هي منخرطة فعليا في الصراع بجانب العدو. حتى إن كيان يهود اتهم جهات بتهريب السلاح والذخائر عبر الحدود من مصر إلى قطاع غزة عن طريق الأنفاق، فقام النظام المصري على لسان رئيس هيئته العامة للاستعلامات ضياء رشوان ورفض ذلك وأثبت أن مصر أقامت 3 جدران فوق الأرض بارتفاع 6 أمتار وتحت الأرض بعمق 6 أمتار على مدى 14 كلم وعززتها بجدار خرساني ودمرت أكثر من 1500 نفق! وحذر النظام المصري من قيام كيان يهود باحتلال منطقة الحدود أي ما يسمى محور فيلادلفيا.

ومع ذلك لم يثق كيان يهود بما يقوله النظام المصري فقام واحتل محور فيلاديلفيا (صلاح الدين) وطوله 14 كلم وهو الحدود بين قطاع غزة ومصر، ولم يعر قيمة لتحذيرات هذا النظام الجبان؛ لأنه يعرف أنه لو كان لدى النظام المصري أدنى شجاعة لما قام ببناء هذه الجدر، ولما دمر تلك الأنفاق استجابة لكيان يهود وخدمة لأمن هذا الكيان. ولو كانت لديه أدنى شجاعة لما ترك إخوانه من أهل غزة يتضورون جوعا ولا يجدون شربة ماء. ولو كانت لديه أدنى شجاعة لما تركهم بدون حماية يمعن العدو فيهم قتلا، ولحرك الجيش من أول يوم. ولهذا السبب قام العدو وتحدى النظام المصري واختبر جبنه ونذالته واحتل المحور والممرات وسيطر على الحدود مع مصر.

وفي بداية عدوان يهود على غزة، تناقلت وكالات الأنباء ومنها رويترز يوم 2023/11/16 عن مسؤولين اثنين من إيران وآخر من حماس أن المرشد العام لجمهورية إيران علي خامنئي طلب من رئيس المكتب السياسي لحماس إسماعيل هنية أثناء زيارته لطهران يوم 2023/11/5 أن يعمل على "إسكات تلك الأصوات في الحركة الفلسطينية التي تدعو علنا إيران وحليفتها اللبنانية القوية جماعة حزب الله إلى الانضمام إلى المعركة ضد (إسرائيل) بكامل قواتهما". وأكثر ما ستفعله إيران وأشياعها هو إطلاق صواريخ من هنا وهناك لإيهام الناس بأنهم نصروا المقاومة!

وأردوغان دغدغ المشاعر ليومين بأن هناك احتمالا أن يرسل قوات كما أرسل إلى قرا باغ وليبيا ولكنه بعد يومين من تصريحه تراجع وخادع الناس بقوله إنه يجب أن يقام تحالف خيالي باسم تحالف الإنسانية لوقف الإبادة الجماعية في غزة!

وهذا يؤكد أن هناك سياسة مخططاً لها أن لا يرد في أي خبر ولا في أي تحليل ولا على لسان أي مسؤول وقيادي ولا في أية وسيلة إعلامية المطالبة بمد المقاتلين بالسلاح والعتاد وبالمقاتلين ولا بتحريك الجيوش، وإنما يكتفى بمدح عمليات المقاومة البطولية، في تواطؤ واضح مع العدو وتنفيذا لسياسة أمريكا بعدم تدخلهم تحت مسمى عدم توسيع نطاق الحرب، بأسلوب خبيث يبدو للعامة أنه جيد ويتفاعلون معه وينشدّون لسماع هذه الأخبار والتحليلات بدون أن ينتبهوا إلى الحقيقة المُرّة القائمة على الأرض وهي أن المعركة غير متكافئة؛ عدو مجهز بكافة الأسلحة من دبابات وطائرات وذخائر ضخمة تزن 2000 رطل وتمده أمريكا وبعض دول أوروبا بكافة الأسلحة وبالمرتزقة، بينما هناك مقاتلون مقاومون بأسلحة متواضعة يقاومون العدو فتدمر بلدهم ويجوع أهلهم ويحرمون من شربة الماء ويهجرون مرات ومرات وتدمر بيوتهم ومدارسهم ومستشفياتهم فوق رؤوسهم حتى بلغ عدد الشهداء أكثر من 40 ألفا وعدد المصابين أكثر من 90 ألفا وعدد المفقودين أكثر من 10 آلاف وهم في عداد الشهداء بينما العدو لم يفقد إلا المئات من جنوده ولم تدمر بيوته ومستشفياته ومدارسه، والمياه النظيفة والطعام والفواكه وكافة إمدادات الطاقة تأتيهم من كل جهة حتى إنها تأتيهم من الأردن والإمارات والبحرين والمغرب وتركيا وأذربيجان!

وها هو العدو قد اتجه نحو الضفة الغربية وبدأ يفعل فيها كما يفعل في غزة بكل أريحية، وسرد الأخبار ونشر التحليلات وتصريحات المسؤولين على نمطها تجاه غزة!

فكفى تضليلا وخداعا، فيجب على كل مخلص في هذه الأمة أن يتحرك ويطالب بتحريك الجيوش لنصرة أهل فلسطين الذين يتعرضون للإبادة الجماعية، بل لتحريرها والقضاء على الجرثومة التي زرعها الغرب الكافر في قلب أمتهم، ويجب أن يزيدوا من ضغطهم حتى تسقط الأنظمة العميلة والقائمون عليها والإتيان بالقيادة السياسية الواعية المخلصة لتقيم الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست