التغيير هو الفكر الأكثر مقاومة في التاريخ
التغيير هو الفكر الأكثر مقاومة في التاريخ

الخبر:   ظلت شوارع كينيا ساحة معركة مع تطور الاحتجاجات، التي بدأت بسبب الزيادات الضريبية المثيرة للجدل، وتطورت إلى احتجاج أوسع نطاقا ضد الفوارق الاقتصادية العميقة الجذور والافتقار الملحوظ إلى مساءلة الحكومة. وفي طليعة هذا الحراك جيل من الشباب الكينيين، الذين يرفضون إسكاتهم على الرغم من مواجهتهم لحملات القمع المتصاعدة من قبل الشرطة. اندلعت الاحتجاجات رداً على مشروع قانون المالية الذي اقترحته الحكومة والذي تضمن سلسلة من الزيادات الضريبية وسط بيئة اقتصادية مليئة بالتحديات بالفعل. وأثار مشروع القانون غضبا شعبيا، خاصة بين الشباب، الذين رأوا فيه خطوة من شأنها أن تؤدي إلى تفاقم أزمة تكاليف المعيشة المستمرة في الدولة الواقعة في شرق أفريقيا.

0:00 0:00
Speed:
August 03, 2024

التغيير هو الفكر الأكثر مقاومة في التاريخ

التغيير هو الفكر الأكثر مقاومة في التاريخ

(مترجم)

الخبر:

ظلت شوارع كينيا ساحة معركة مع تطور الاحتجاجات، التي بدأت بسبب الزيادات الضريبية المثيرة للجدل، وتطورت إلى احتجاج أوسع نطاقا ضد الفوارق الاقتصادية العميقة الجذور والافتقار الملحوظ إلى مساءلة الحكومة. وفي طليعة هذا الحراك جيل من الشباب الكينيين، الذين يرفضون إسكاتهم على الرغم من مواجهتهم لحملات القمع المتصاعدة من قبل الشرطة. اندلعت الاحتجاجات رداً على مشروع قانون المالية الذي اقترحته الحكومة والذي تضمن سلسلة من الزيادات الضريبية وسط بيئة اقتصادية مليئة بالتحديات بالفعل. وأثار مشروع القانون غضبا شعبيا، خاصة بين الشباب، الذين رأوا فيه خطوة من شأنها أن تؤدي إلى تفاقم أزمة تكاليف المعيشة المستمرة في الدولة الواقعة في شرق أفريقيا.

التعليق:

إن المظاهرات الأخيرة التي نظمها جيل Z (الشباب) وجيل الألفية في كينيا هي من النوع الذي لم تشهده الطبقة السياسية من قبل. لقد كان للمظاهرات بالفعل قضايا حقيقية مطلوبة توضح مدى التأثير الاستعماري الثقيل في مجال الاقتصاد السياسي في كينيا. هذا الوضع ليس فريداً بالنسبة لكينيا بل لجميع دول العالم الثالث، حيث يتم اعتماد معظم السياسات السياسية والاجتماعية والاقتصادية بشكل مباشر لصالح الغرب المستعمر.

إن مشروع القانون المالي الصارم الذي أثار غضب عامة الناس، في بلد يعيش ما يقرب من 40٪ من سكانه تحت مستوى الفقر وأكثر من 80٪ من العمالة في القطاع غير الرسمي بأجور هزيلة، سيتم فرض ضرائب باهظة عليهم، بدءاً من السيارات وحتى الخبز. إن اليد الثقيلة للمستعمر من مؤسسات مثل صندوق النقد الدولي والبنك الدولي والسياسات الخارجية قد أحكمت قبضتها بشكل مباشر وخنقت سبل عيش المجتمعات في دول العالم الثالث.

إن الدعوة للتغيير، خاصة بين الشباب المطالبين بمحاسبة من تسبب بسقوط البلاد في هاوية فخ الديون، ودعوة الحكومة الحالية إلى التخلص من الهيمنة الغربية، هي في الأساس الوجه الحقيقي لإرادة التغيير. إن الجانب المؤسف في صراع الجيل Z هو أنه محصور في حلقة الفكر الغربي والإطار والهياكل الغربية، في حين إن التغيير هو في الواقع مسعى جاد. إن التفكير في التغيير أمر ضروري للحياة، لأن ركود الحياة والاستسلام للقدر من أخطر الآفات التي تؤدي إلى هلاك الشعوب والأمم، وفنائها، ونسيانها مع مرور الأحداث والأزمنة. ولهذا السبب فإن التفكير في التغيير من أهم أنواع التفكير، وهذا النوع من التفكير لا يحبذه المتكاسلون ولا يقبله الكسالى لأن تكلفة التغيير باهظة ولأن الذين تهيمن عليهم الأعراف يرون أن التفكير في التغيير يمثل ضرراً عليهم، وانتقالاً من حال إلى حال. ولهذا يحارب الضعفاء والمتكاسلون هذا النوع من التفكير، في حين تعارضه وتقف في طريقه ما تسمى بالطبقة السياسية والنخب والمتسلطون على رقاب العباد ومصادر رزقهم. ولهذا السبب، كان التفكير من أجل التغيير يمثل خطراً على صاحبه، وأصبح هو الفكر الأكثر قتالاً في حرب لا هوادة فيها.

من الأهمية بمكان بالنسبة للجيل Z وجميع الأجيال في المجتمع رفع العواطف إلى المستوى الفكري لفهم الأساس الذي يمكّن الغرب من السيطرة على العالم اليوم. إذ إن هذا هو السبيل الوحيد لضمان سير العمل نحو التغيير الجذري. وإن الإسلام هو المبدأ الوحيد القادر على ذلك اليوم، لأنه يتعامل مع الإنسان بوصفه إنسانا له احتياجاته ورغباته المتأصلة. فهو يعالج مشكلة الإنسان من حيث ارتباطه به ككائن ذي طبيعة معينة.

لقد نظر الإسلام إلى الإنسان نظرة شاملة، وتناول احتياجات الإنسان كأساس لحلها. بينما لم تكن الرأسمالية تنظر إلى الإنسان بمنظور شمولي، حيث ركزت على جوانب معينة من احتياجاته وأهملت جوانب أخرى. على سبيل المثال، في الرأسمالية، تعتبر أي سلعة أو خدمة نافعة ويجب إنتاجها طالما أنها تلبي حاجة الفرد في المجتمع، مثل الخمر والمخدرات والدعارة. تنظر الرأسمالية إلى منتج أو مقدم هذه الخدمات باعتباره الشخص الذي يساهم في حل المشكلة الاقتصادية. وتتم معالجة المشكلة من خلال زيادة الإنتاج وبالتالي سد الفجوة بين العرض والطلب. فهي تسعى لزيادة الإنتاج لتلبية الطلب وتتجاهل أثر إنتاج المواد والخدمات على المجتمع، في حين إن بعض السلع والخدمات في الإسلام لا قيمة لها بسبب تأثيرها السلبي على المجتمع. بالإضافة إلى ذلك، فإن الأداة التي تضمن الرأسمالية من خلالها الحصول على المنتجات أو الخدمات هي المال. فمن لم يملك ثمن الشيء حرم منه. بينما في الإسلام، يتم الاهتمام برفاهية الفرد والمجتمع ككل، وبالتالي يتم الحصول على الأشياء التي يحتاجها الشخص إما عن طريق آلية السعر أو عن طريق آليات أخرى، مثل الزكاة أو من خلال خزانة الدولة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي عمر البيتي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست