الذباب الإلكتروني لن يستطيع إلغاء حب الأمة للإسلام وتشوقها للخلافة الراشدة
الذباب الإلكتروني لن يستطيع إلغاء حب الأمة للإسلام وتشوقها للخلافة الراشدة

الخبر:   يقول الكاتب إيان كوبين في مقال نشره موقع "ذي ميدل إيست آي" البريطاني إن مسؤولا تنفيذيا رفيع المستوى في تويتر، ومسؤولا عن قسم التحرير في الشرق الأوسط، يعمل ضابطا بدوام جزئي في وحدة مختصة في الحرب النفسية تابعة للجيش البريطاني. ويضيف أن غوردون ماكميلان، الذي انضم إلى مكتب تويتر في بريطانيا منذ ست سنوات؛ خدم أيضا لعدة سنوات لصالح اللواء 77، من أجل تطوير طرق "غير فتاكة" لشن الحرب. ...

0:00 0:00
Speed:
October 01, 2019

الذباب الإلكتروني لن يستطيع إلغاء حب الأمة للإسلام وتشوقها للخلافة الراشدة

الذباب الإلكتروني لن يستطيع إلغاء حب الأمة للإسلام وتشوقها للخلافة الراشدة

الخبر:

يقول الكاتب إيان كوبين في مقال نشره موقع "ذي ميدل إيست آي" البريطاني إن مسؤولا تنفيذيا رفيع المستوى في تويتر، ومسؤولا عن قسم التحرير في الشرق الأوسط، يعمل ضابطا بدوام جزئي في وحدة مختصة في الحرب النفسية تابعة للجيش البريطاني.

ويضيف أن غوردون ماكميلان، الذي انضم إلى مكتب تويتر في بريطانيا منذ ست سنوات؛ خدم أيضا لعدة سنوات لصالح اللواء 77، من أجل تطوير طرق "غير فتاكة" لشن الحرب.

ويشير إلى أن اللواء 77 يستخدم منصات التواصل مثل تويتر وإنستغرام وفيسبوك، إضافة إلى التدوينات الصوتية وتحليل البيانات ونتائج بحث المستخدمين؛ لشن ما يصفه قائد الجيش البريطاني الجنرال نيك كارتر "بحرب المعلومات".

وينسب الكاتب إلى كارتر القول إن اللواء 77 يمنح الجيش البريطاني "القدرة على التنافس في حرب الروايات على المستوى التكتيكي"، وتشكيل تصورات تتعلق بالصراع.

ويضيف أنه عند إنشاء هذه الوحدة تم إبلاغ وسائل الإعلام البريطانية أنها تتألف من "محاربين في موقع فيسبوك"، وأن عددهم سيصل إلى 1500 جندي بين نظامي واحتياط.

ويشير المقال إلى أن الجيش كان يطلب من الصحفيين البريطانيين الانضمام إلى الوحدة كجنود احتياط. (ميدل إيست آي، الجزيرة)

التعليق:

يشن الغرب المستعمر حربا عسكرية وثقافية وإعلامية على الأمة الإسلامية، وبينما تظهر آثار الحرب العسكرية التدميرية على أجساد الأطفال والنساء والشيوخ وترسم صورة الدمار في حواضر المسلمين ومدنهم، تتوارى أخبار وانعكاسات الحرب الإعلامية والثقافية الرهيبة التي يشنها الغرب على الأمة الإسلامية في هجمة مسعورة على ثقافة الأمة وتصوراتها يقودها خبراء في الحرب النفسية كما كشف الخبر أعلاه، فالأخبار والروايات الصحفية للأحداث وتشويه الحقائق وتشويه الإسلام والعاملين لنهضة الأمة وظيفة يومية "لمحاربين في موقع الفيسبوك" وغيره من وسائل التواصل لا يكلون ولا يملون في حربهم على الإسلام وأهله، فتلك وظيفتهم التي وضعتها لهم الدول الاستعمارية التي لا تريد للأمة الإسلامية أن تستعيد سلطانها المسلوب بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

وفي الخندق نفسه تقف الأنظمة العميلة للغرب لتجند أجهزتها وعلماء السوء وكتاب السموم والإعلاميين المأجورين والفضائيات الخبيثة لتساهم في ذلك المجهود الحربي الموجه لمحاربة الإسلام وأهله وتشويه المخلصين العاملين لنهضة الأمة وتحريرها من نير الغرب المستعمر.

فالإعلام الرسمي للأنظمة العميلة للغرب وما استحدثته دوائر المخابرات العالمية من خلايا إعلامية في مواقع التواصل لا تدخر جهدا في مهاجمة الدعاة المخلصين وأفكار الإسلام ومحاولة تشويههم والتشكيك في أفكارهم وتثبيط الأمة من العمل للتغيير الجذري وبث اليأس في نفوس المسلمين وترسيخ الطائفية المقيتة والأفكار التي تشتت المسلمين وتمنع وحدتهم وتدافع عن الطغاة ومن يدور في فلكهم متبعين في سبيل تحقيق أهدافهم الشيطانية أساليب خبيثة تصل لحد الوقاحة والبذاءة وتتعدى كل الحدود.

إن هذه الهجمة تعكس هزيمة الغرب المستعمر أمام أمة الإسلام العظيمة، فاحتلال البلاد ودك المدن والحواضر وقتل وتشريد الملايين من المسلمين والقمع والعنف والاعتقال والتخويف والإرهاب الذي يمارس يوميا على الأمة الإسلامية... كل ذلك لم يهزم الأمة الإسلامية فلم ترفع الراية البيضاء، بل الأمة في تقدم واضح يغيظ أعداءها، فتتفجر الثورات من جديد في الجزائر والسودان ومصر ولا تخمد بل تتطور وتكسر حواجز الخوف والتضليل.

فالأمة الإسلامية لن تهدأ إلا بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.. فهي الحل الشرعي المتجذر في تلابيب أدمغة الأمة، فحبها لدينها ولنبيها عليه الصلاة والسلام أمور لا يستطيع الذباب الإلكتروني أن يلغيه، وعدالة سيدنا الفاروق عمر وبطولة سيدنا خالد بن الوليد متجذرة كنماذج لا يمكن لضباط الاستخبارات أن يستبدلوا بها نماذج من الأقزام العملاء الذين يحكمون المسلمين، وطريق التحرير الذي رسمه المظفر صلاح الدين والسلطان قطز لن يستطيع خبراء الحرب النفسية البريطانيون وغيرهم أن يمحوه أو أن يغيروا معالمه الراسخة في قلوب وعقول المسلمين...

وأمام هذه الهجمة المسعورة على الأمة الإسلامية وجب على القوى الحية في الأمة وأهل القوة فيها أن ينحازوا لدينهم وأمتهم ويعملوا من فورهم على اقتلاع الأنظمة العميلة للغرب وإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة حتى تقف أمام هذه الحملة الصليبية على الأمة الإسلامية، ووجب على حملة الدعوة أن لا يدخروا جهدا في توعية الأمة على هذه الهجمة على دينهم ودفعها للأخذ على يد كل من يستطيع التغيير ليقف مع الأمة وينحاز لها، فالحرب سجال والأمة وسط المعركة، والتخاذل خيانة، والنصر يلوح في الأفق بخلافة راشدة على منهاج النبوة بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مصعب أبو عرقوب

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في الأرض المباركة – فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست