الذكرى المئوية لحصول النساء على حق التصويت في بريطانيا  تذكير بعطب الديمقراطية
الذكرى المئوية لحصول النساء على حق التصويت في بريطانيا  تذكير بعطب الديمقراطية

الخبر: شهد يوم 6 شباط/ فبراير من هذا العام مرور 100 عام على صدور قانون تمثيل الشعب في بريطانيا والذي منح حق التصويت للنساء فوق سن الثلاثين ممن يمتلكن مؤهلات معينة. ولم يتغير الأمر إلا بعد عام 1928، أي بعد عشر سنوات، وقبل 90 عاما عندما حصلت المرأة على حقوق التصويت ذاتها التي يمتلكها الرجال في البلاد. في هذه الذكرى المئوية لما يسمى بـ"الاقتراع العام"، كان العديد من السياسيين، بمن فيهم رئيسة الوزراء البريطانية تيريزا ماي، وكذلك النسويات، ومعلقو وسائل الإعلام وغيرهم، يشيدون بـ "شجاعة" و"بطولة" "سوفراجيتس" التي كافحت ولفترة طويلة، ضد هذه المعارضة الشديدة من قبل حكومتها والعديد من المؤسسات

0:00 0:00
Speed:
February 11, 2018

الذكرى المئوية لحصول النساء على حق التصويت في بريطانيا تذكير بعطب الديمقراطية

الذكرى المئوية لحصول النساء على حق التصويت في بريطانيا

تذكير بعطب الديمقراطية

(مترجم)

الخبر:

شهد يوم 6 شباط/ فبراير من هذا العام مرور 100 عام على صدور قانون تمثيل الشعب في بريطانيا والذي منح حق التصويت للنساء فوق سن الثلاثين ممن يمتلكن مؤهلات معينة. ولم يتغير الأمر إلا بعد عام 1928، أي بعد عشر سنوات، وقبل 90 عاما عندما حصلت المرأة على حقوق التصويت ذاتها التي يمتلكها الرجال في البلاد. في هذه الذكرى المئوية لما يسمى بـ"الاقتراع العام"، كان العديد من السياسيين، بمن فيهم رئيسة الوزراء البريطانية تيريزا ماي، وكذلك النسويات، ومعلقو وسائل الإعلام وغيرهم، يشيدون بـ "شجاعة" و"بطولة" "سوفراجيتس" التي كافحت ولفترة طويلة، ضد هذه المعارضة الشديدة من قبل حكومتها والعديد من المؤسسات الأخرى داخل الدولة، لضمان الحق في انتخاب رئيسهم والذين يمثلونهم من النواب.

التعليق:

على مدى عقود، حاولت سوفراجيتس بوسائل سلمية إقناع أصحاب السلطة بأن للمرأة الحق في انتخاب ممثليها السياسيين والتعبير عن آرائها السياسية داخل المجتمع. ومع ذلك، تم تجاهلها من قبل من هم في السلطة. هربرت أسكويث على سبيل المثال، رئيس وزراء بريطانيا ما بين 1908 إلى 1916، ذكر مرة أن النساء "جاهلات ميؤوس منهن، وساذجات إلى أبعد الحدود، مترددات في ميولهن كالشمعة في مهب الريح"، وبالتالي كان من الجنون منحهن حق التصويت. ونتيجة لذلك، تحولت الكثيرات ممن هن في حركة سافراغيت إلى العمل المسلح، اعتقادا منهن بأن هذه هي الوسيلة الوحيدة لجعل قضيتهن مسموعة من قبل المؤسسة البريطانية. فقمن بتعطيل الاجتماعات العامة، وخربن الممتلكات، وارتكبن أعمال الحرق المتعمد، وربطن أنفسهن بالسلاسل احتجاجا. حتى إن إحدى النساء، إميلي دافيسون، ألقت بنفسها تحت حصان الملك في سباق ديربي للخيل، ما أدى لموتها، على أمل منها أن تلتفت النخبة الحاكمة لقضيتهن. في طريق نضالهن، تمت شيطنة الشجاعة، وتم التجسس عليهن على يد المخابرات، وضُرِبن من قبل الشرطة، وسُجنَّ، وعُذَّبن، وأُجبرن على الأكل بالقوة في السجن. في الواقع، تم تسجيل أن أكثر من 1300 امرأة ممن تبعن سوريجيت تعرضن للاعتقال ما بين 1906 و1914. وتحت الضغط الشديد، غيرت الحكومة البريطانية في نهاية المطاف القانون، ومنحت فئة معينة من النساء حق التصويت.

إن حقيقة أن على حركة سوفراجيتس أو حركة الحقوق المدنية أن تنخرط في مثل هذه النضالات المكثفة في مواجهة مثل هذه المعارضة الشديدة من حكوماتها لتأمين ما كان ينبغي اعتباره حقوقا سياسية واقتصادية وتعليمية أساسية لكل فرد في أي دولة (الذكور أو الإناث، السود أو البيض) - يسلط الضوء بالتأكيد على واحد من العيوب الأساسية الجوهرية للنظام العلماني الديمقراطي: أنه لا يضمن حقوق الناس بشكل تلقائي ذاتي. بدلا من ذلك، يتعين على الأفراد "الشجعان" محاربة النظام لتأمين ما كان ينبغي منحه لهم بشكل افتراضي. حتى إن 5 ملايين رجل من الطبقة العاملة الأفقر لم يمنحوا حق التصويت حتى عام 1918 لأن الانخراط في العملية السياسية كان يعتبر امتيازا لنخبة الذكور الأكثر ثراء في المجتمع. كل هذا مثال واضح على عطب الديمقراطية، في ظل هذا النظام، حيث يتم وضع القوانين وكسرها وفقا لأهواء النخبة الحاكمة، وبالتالي تخضع لأفكارهم المتقلبة والمحدودة والمنحازة. حتى يومنا هذا، نرى كيف أن الدول الديمقراطية في جميع أنحاء العالم، تحد من حقوق الرعايا والفئات الدينية الصغيرة، التي يُفترض أن يُنظر إليها على أنها ثوابت لا يمكن المساس بها، وذلك كالحريات الدينية والحق في التعبير السياسي والخصوصية الفردية، من قبل من هم في السلطة. وهذا هو السبب في وجود خط رفيع خطير بين الديمقراطية والدكتاتورية.

وعلى عكس الاعتقاد السائد في العديد من الدول الغربية، فليست النساء في الغرب من كُنَّ أول من مُنح حق التصويت في أواخر القرن التاسع عشر أو أوائل القرن العشرين. لا! فقبل ألف وأربعمئة سنة مضت، أكد الإسلام أن للرجل والمرأة الحقوق الاقتصادية والقضائية والتعليمية والسياسية ذاتها، بما في ذلك انتخاب الحاكم ومن يُمثلها، وأن تكون النساء أعضاء في الأحزاب السياسية، وأن يكون عندهن ممثلات منتخبات عنهن ليحاسبن الحاكم. وكان هذا دون الحاجة إلى "نضال المرأة" أو "حركات نسوية". على سبيل المثال، في بيعة العقبة الثانية، شاركت امرأتان؛ نسيبة بنت كعب أم عمارة وأسماء بنت عمرو بن عدي - وكانتا في وفد مسلمي يثرب الذين بايعوا النبي r بيعة النصرة. وبعد البيعة، طلب النبي eمن الوفد انتخاب 12 نقيبا من بينهم ليمثلوا قومهم. ولم يقيد هذه الأمر بالرجال فقط. وعلاوة على ذلك، عندما كان عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه يستشير رعايا دولة الخلافة فيمن يرغبون أن يكون خليفتهم بعد وفاة الخليفة عمر بن الخطاب رضي الله عنه، سعى للحصول على آراء النساء والرجال على حد سواء.

والأهم من ذلك أنه في ظل النظام الإسلامي، لا يخضع توفير هذه الحقوق للتغيير وفقا لمن هو في السلطة في الوقت الذي تكون فيه السيادة للشريعة لا للحاكم أو البرلمانات أو الشعب. هذا هو الفرق بين نظام مثالي من خالق الكون سبحانه وتعالى، العليم، الخبير، الذي يضع أحكاما عادلة منصفة لكل إنسان، وبين نظام معيب يقوم على عقول ناقصة عاجزة منحازة للرجال (أو النساء). وعلاوة على ذلك، فإن هذه هي الحقوق المضمونة التي يمكن للمرأة أن تتطلع إليها في المستقبل في ظل الخلافة الراشدة. تنص المادة 115 من مشروع دستور حزب التحرير في دولة الخلافة على أنه "يجوز للمرأة أن تُعَيَّنَ في وظائف الدولة، وفي مناصب القضاء ما عدا قضاء المظالم، وأن تنتخب أعضاء مجلس الأمة وأن تكون عضواً فيه، وأن تشترك في انتخاب الخليفة ومبايعته".

﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست