التحول الديمقراطي وإنهاء الانقلاب لن ينهي الأزمة السياسية في السودان
التحول الديمقراطي وإنهاء الانقلاب لن ينهي الأزمة السياسية في السودان

الخبر:   وقع 36 كيانا سودانيا من بينها قوى الحرية والتغيير - المجلس المركزي، وعدد من لجان المقاومة والتنظيمات المدنية والمهنية، على إعلان مشترك، الثلاثاء، لتوحيد قوى الثورة، في خطوة وصفها مراقبون بـ"المفاجئة" في ظل حالة التشظي الحالية. ...

0:00 0:00
Speed:
July 29, 2022

التحول الديمقراطي وإنهاء الانقلاب لن ينهي الأزمة السياسية في السودان

التحول الديمقراطي وإنهاء الانقلاب لن ينهي الأزمة السياسية في السودان

الخبر:

وقع 36 كيانا سودانيا من بينها قوى الحرية والتغيير - المجلس المركزي، وعدد من لجان المقاومة والتنظيمات المدنية والمهنية، على إعلان مشترك، الثلاثاء، لتوحيد قوى الثورة، في خطوة وصفها مراقبون بـ"المفاجئة" في ظل حالة التشظي الحالية.

وأشار بيان صادر عن لجان المقاومة إلى أن الخروج من أزمات البلاد المتفاقمة لن يتم إلا عبر إنهاء الحكم العسكري، مضيفا أن ذلك "هو السبيل الوحيد لإنهاء السيولة الأمنية وحالة اللا دولة، وصنع واجهات قبلية تعمل على خلق مشاكل وصراعات لتوفير مسوغات ومبررات لاستمرار الحكم العسكري"، حسب صياغة البيان. (سكاي نيوز عربية 2022/07/20م).

التعليق:

هذه ليست المرة الأولى التي نسمع فيها كلاماً مثل هذا، فقد أورد موقع الأناضول خبرا جاء فيه: (قالت قوى إعلان الحرية والتغيير في السودان، إن الحل للأزمة السياسية في البلاد يتمثل في "إنهاء الانقلاب").

وأوردت سودان تربيون في 10 حزيران/يونيو 2022 ما يلي: "طرح ائتلاف الحرية والتغيير، في اجتماع حضرته مسؤولة أمريكية رفيعة والسفير السعودي في الخرطوم، على قادة الجيش إنهاء الانقلاب عبر خارطة طريق واضحة في عملية سياسية تشمل الطرفين فقط"، فهذا القول تُجمع عليه أحزاب المعارضة، وقد وجد من الرواج ما وجد، وكأن إنهاء الانقلاب هو البلسم الشافي والعلاج الناجع الذي يحيي السودان ويخرج به من أزماته الحالية إلى غير رجعة ويعيش الناس في رفاهية وأمان وستُملأ الأرض عدلاً بعد أن ملئت جوراً، كل ذلك بعد إنهاء هذا الانقلاب حسب زعمهم!

إن قوى الحرية والتغيير وغيرها تحمّل ما يحدث في البلاد من أزمات لحكم للعسكر، لكن المتأمل يرى أن هذه الظروف هي نفسها التي عشناها في فترة حكمهم أي حكم المدنيين برئاسة عبد الله حمدوك في الفترة الانتقالية من 2019 حتى انقلاب البرهان عليهم في تشرين الأول/أكتوبر 2021م. فقد أوردت الجزيرة نت في 2021/4/11 تقريراً بعنوان: "في ذكرى الثورة السودانية.. لماذا تردت الأوضاع الاقتصادية أكثر؟" ذكر فيه: "السودانيون بعد عزل البشير عن السلطة أملوا في تحسن أوضاعهم الاقتصادية، لم تتبدل أوضاع السودانيين الاقتصادية وهم الذين ثاروا على نظام الرئيس عمر البشير وعزلوه عن السلطة في 11 نيسان/أبريل 2019، على أمل أن تنصلح أحوالهم بعد أن بلغوا حينها وضعا خانقا بسبب الغلاء والتدهور الاقتصادي المريع. لكن مع حلول الذكرى الثانية للثورة، تبدو الأوضاع أسوأ بكثير مما كانت عليه قبل الإطاحة بالنظام السابق، فالتضخم وصل أرقاما فلكية جاوزت نسبته في الشهرين الأخيرين 300% وانخفضت قيمة الجنيه بنحو 7 أضعاف، كما يأخذ التحرير شبه الكامل لأسعار الخبز والوقود والغاز بالناس كل مأخذ".

ويبرز من جهة أخرى استمرار أزمة النقد الأجنبي في الانقطاع المستمر للتيار الكهربائي لفترات تتجاوز الـ12 ساعة يوميا في القطاع السكني، بينما يتفاقم حجم التأثيرات على القطاعين الخدمي والصناعي، دون أن تقدم الدولة أية تفسيرات لهذا الوضع الذي يعزوه خبراء لعدم توفر نقد أجنبي يمكن الحكومة من استيراد وقود تشغيل الكهرباء. وأذكر تصريحا لحمدوك قبل سنتين قال فيه: "نحن لينا سنتين متشاكسين حول الرؤية الاقتصادية ولم ننجز شيئا"!

أما بالنسبة للانفلات الأمني الذي تدعون زوراً بأنكم ستوقفونه بعد إنهاء حكم العسكر فقد شهدت فترة حكمكم الانتقالية حروباً قبلية طاحنة، قضت على الأخضر واليابس، وفتناً قبلية لا تبقي ولا تذر، فقد أورد موقع عربي 21 في 22 أيار/مايو 2020 خبراً تحت عنوان: "تصاعد الصراعات القبلية بالسودان يهدد الفترة الانتقالية" جاء فيه: "شهد السودان خلال الأسابيع الأخيرة تصعيدا في الصراعات بين القبائل، وسقط قتلى وجرحى في معارك بينها في مناطق مختلفة، في خضم فترة انتقالية، وخلال الأسابيع الماضية، قُتل 59 شخصا وجُرح العشرات نتيجة اشتباكات قبلية، وفي السابع من أيار/مايو، قُتل ثلاثون شخصا في نزاع بين قبيلة الرزيقات العربية والفلّاتة الأفريقية في ولاية جنوب دارفور في غرب البلاد بسبب سرقة أبقار".

وفي شرق البلاد، شهدت مدينة كسلا في التاسع من الشهر نفسه نزاعا بين أفراد قبيلتَي البني عامر والنوبة، أسفرت عن مقتل ثلاثة أشخاص من البني عامر، وبلغ عدد الجرحى والمصابين 79، وأحرقت منازل.

وفي 13 أيار/مايو، قتل 26 شخصا وجرح 19 آخرون في اشتباكات على خلفية سرقة أبقار في مدينة كادقلي عاصمة ولاية جنوب كردفان.

وهذا الحال ليس وليد اليوم، بل منذ عشرات السنين والسودان يعيش هذه المشاكل، وإن كانت متفاوتة بعض الشيء، فالرئيس جعفر النميري ثار عليه الشعب سنة 1985 وجاءت من بعده الأحزاب فزادوا الطين بلة، وتعقدت الأمور في عهدهم حتى انقلب عليهم البشير عام 1989م. إذاً المشكلة ليست في إنهاء الانقلاب، فلو انتهى الانقلاب وذهب بلا رجعة فلن يتغير هذا الواقع الأليم، بل سيتفاقم أكثر، لأنه لم يتم التشخيص السليم للواقع، ثم وضع الحلول اللازمة لإنهاء حالة اللادولة.

فالحكم المدني والعسكري كلاهما يصنعان المشاكل والأزمات، وعلاج هذه المشكلات لا يتم إلا بكنس هذا النظام الرأسمالي العلماني الذي جثم على صدر أهل السودان، والذي يطبقه العسكر والمدنيون، وتحكيم نظام رب العالمين الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي هي وعد ربنا سبحانه وبشرى نبينا صلوات ربي وسلامه عليه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق عبدون علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست