الثورات السياسية لا تنجح إلا بالجمع بين مشروع سياسي جذري مدعوم عسكريا (نصرة)
الثورات السياسية لا تنجح إلا بالجمع بين مشروع سياسي جذري مدعوم عسكريا (نصرة)

    الخبر: وصف رئيس أركان الجيش البنغالي السابق، الجنرال إقبال كريم بويان، حركة تموز/يوليو 2024 الجماهيرية التي أدت إلى نفي رئيسة الوزراء حسينة، بأنها ثورة شبه كاملة تم احتواؤها في النهاية من خلال المناورات العسكرية والسياسية، وأعرب بويان عن أن انتفاضة عام 2024 كان لديها القدرة على التحول إلى ثورة كاملة، مشابهة للثورات الفرنسية والروسية، ولكن بسبب التسويات بين قادة الطلاب وبعض ضباط الجيش الكبار، فقدت الحركة زخمها.

0:00 0:00
Speed:
February 07, 2025

الثورات السياسية لا تنجح إلا بالجمع بين مشروع سياسي جذري مدعوم عسكريا (نصرة)

الثورات السياسية لا تنجح إلا بالجمع بين مشروع سياسي جذري مدعوم عسكريا (نصرة)

الخبر:

وصف رئيس أركان الجيش البنغالي السابق، الجنرال إقبال كريم بويان، حركة تموز/يوليو 2024 الجماهيرية التي أدت إلى نفي رئيسة الوزراء حسينة، بأنها ثورة شبه كاملة تم احتواؤها في النهاية من خلال المناورات العسكرية والسياسية، وأعرب بويان عن أن انتفاضة عام 2024 كان لديها القدرة على التحول إلى ثورة كاملة، مشابهة للثورات الفرنسية والروسية، ولكن بسبب التسويات بين قادة الطلاب وبعض ضباط الجيش الكبار، فقدت الحركة زخمها. وادعى أن القيادة العسكرية اتخذت موقفاً للحفاظ على الرئاسة والدستور، ولكن مع تشكيل حكومة انتقالية من خلال حل البرلمان والوزارة؛ وهو ما وصفه بأنه "تسوية مثيرة للجدل". كما صنف بويان حركة عام 2024 على أنها الانتفاضة الكبرى الثالثة في تاريخ بنغلادش، بعد انتفاضتي عامي 1971 و1990. ومع ذلك، وعلى عكس الانتفاضتين السابقتين اللتين أدتا إلى تغيير واضح في النظام، فإن أحداث عام 2024 احتوتها النخبة العسكرية والسياسية بشكل استراتيجي. (المصدر).

التعليق:

تغيير النظام ليس ثورة، مع أن الثورة السياسية الناجحة تؤدي دائماً إلى سقوط النظام. لذلك، فإن محاولة الجنرال بويان تمجيد حركتي 1971 و1990 كثورات هي ملاحظة سطحية؛ لأنه في كلتا الحادثتين، جرى تغيير في النظام، ولكن لم يتم إجراء أي تغييرات جذرية فيه. وفي كلتا الحالتين، واصلت الأنظمة الحاكمة اللاحقة الحكم بالنظام العلماني الوضعي مع تغييرات حزبية طفيفة، إلى الحد الذي أصبح فيه النظام الحاكم المعدّل أكثر استبداداً وقمعاً من سابقه. وهذا الاستمرار المأساوي الذي حصل عام 1971 أدى إلى انتفاضة الشعب في تسعينات القرن الماضي، ثم مرة أخرى في عام 2024. ولفهم هذه الحقيقة البسيطة، فإنه لا توجد حاجة إلى مهارات متقدمة أو خبرة متخصصة. ومع ذلك، فإن الأحزاب السياسية العلمانية، مع وساوسهم الشريرة من أسيادهم الكفار المستعمرين، يطمسون دائماً هذه الحقيقة عن أذهان الناس ويمجدون تلك الأحداث باعتبارها إرثا حقيقيا للأمة، تحت شعار تحقيق الحكم الذاتي والديمقراطية. ولكن حتى بعد الإطاحة بالطاغية حسينة، فإن إحباط الناس وموقفهم العدواني تجاه النظام الحالي يظهر بوضوح أنهم بحاجة إلى ثورة حقيقية، وأن الأجواء الحالية في بنغلادش ناضجة جداً لمثل هذه الثورة، وتعد تصريحات رئيس الأركان السابق في هذا الوقت بالذات دليلاً واضحاً على هذا النضج.

لتحقيق تطلعاتهم السياسية الحقيقية، يحتاج أهل بنغلادش إلى مشروع سياسي جذري ومدروس جيداً، بالإضافة إلى دعم عسكري كامل (نصرة) لتنفيذ هذا المشروع. ويجب أن يتكون هذا المشروع من عنصرين؛ الأول: وجود حزب سياسي مخلص لديه قيادة قادرة وملهمة ذات خبرات طويلة، تعكس الشخصيات التي يتوق الناس دائماً لرؤيتها كحكام لهم. ووجود هؤلاء الأفراد المخلصين والقادرين سيضمن شغل المناصب القيادية والوظائف الإدارية الرئيسية في مختلف أقسام الدولة على الفور، ومن خلال خبرتهم، سيصبح النظام الحاكم الجديد فعالاً بشكل جذري، ولكن بسلاسة تامة، ويجب أن يكون هؤلاء الأفراد ملتزمين مع الناس بشكل كامل وأن يكونوا بعيدين عن أي تأثير أو وساوس شريرة من الدول الكافرة المستعمرة، خاصة أمريكا والهند، التي تعتبر بلطجي المنطقة. وأما العنصر الثاني فهو وجود مبدأ (طريقة عيش تشمل كل جوانب الحياة). ويجب ألا ينبثق هذا المبدأ من عقل الإنسان العاجز والقاصر (مثل الرأسمالية العلمانية)، لأنه سيخلق حتماً التمييز والظلم. لذلك، يجب أن يكون هذا المبدأ من عند الخالق، أي الإسلام النقي الأصيل، الخالي من أي تلوث بالأفكار الغربية. وإن حزب التحرير هو فقط على وجه الأرض يمتلك هذين العنصرين. وبمعنى آخر، فقط حزب التحرير، بمشروعه السياسي الإسلامي المتمثل في الخلافة، لديه القدرة على تحقيق الثورة التي يحتاجها أهل بنغلادش ويطمحون إليها حالياً.

ولإحياء هذه الثورة، يجب أن يلتقي المشروع المبدئي الإسلامي لحزب التحرير بدعم عسكري كامل (النصرة) من القوات المسلحة البنغالية. وهذا الدعم ضروري لتسهيل التطبيق الجذري للحلول الإسلامية التي تغطي جميع جوانب الحكم، ولضمان حماية النظام الحاكم الجديد من أي عدوان أو تخريب. لقد كان الجنرال بويان محقاً جداً بشأن قدرة الجيش ودور قيادته أثناء وبعد انتفاضة تموز/يوليو 2024 والاحتواء الاستراتيجي لها، ما يؤكد جدوى الطريقة النبوية في النصرة. لأن الجيش يمتلك القوة الناعمة والصلبة للمناورة لصالح أو ضد أي تغيير في النظام أو تغيير في نظام الحكم. ولكنه كان مخطئاً بشأن "الإجهاض المبكر" للثورة في بنغلادش؛ فالجنين لا يزال في الرحم؛ حياً وناضجاً وبصحة جيدة! وكل ما يحتاجه هو اهتمام الطبيب (الجيش) ورعايته لإتمام الولادة السعيدة. وعامة الناس وأصحاب القوة والمنعة في بنغلادش، أصبحوا أكثر وعياً على مشروع الخلافة، وعظمت ثقتهم بقدرة حزب التحرير على الحكم، ﴿لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ريسات أحمد

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست