الثورة في تونس مستمرة على الرغم من النظام السلطوي العلماني وانتهاك حرمة الإسلام والمرأة المسلمة (مترجم)
الثورة في تونس مستمرة على الرغم من النظام السلطوي العلماني وانتهاك حرمة الإسلام والمرأة المسلمة (مترجم)

الخبر:   اتهم الناشطون التونسيون النظام باستخدام حقوق المرأة كأداة تشتيت بعد أن تم طرح قانون المصالحة الاقتصادية المثير للجدل في البرلمان الأسبوع الماضي. وقد خرج المتظاهرون الغاضبون إلى الشوارع بعد أن تم تمرير مشروع القانون الذي يسمح للمسؤولين في عهد بن علي بالهرب من الملاحقة القضائية، على الرغم من الانتقادات الواسعة التي لقيها القانون من قبل النشطاء والمنظمات غير الحكومية. وبعد ساعات فقط، أعلنت الحكومة إلغاء قانون يمنع النساء المسلمات التونسيات من الزواج من غير المسلمين. وقد انتقد البعض توقيت هذه الخطوة، معتقدين بأن الرئيس الباجي قائد السبسي يحاول إخفاء واقع الحياة في تونس تحت ستار حقوق المرأة.

0:00 0:00
Speed:
September 23, 2017

الثورة في تونس مستمرة على الرغم من النظام السلطوي العلماني وانتهاك حرمة الإسلام والمرأة المسلمة (مترجم)

الثورة في تونس مستمرة على الرغم من النظام السلطوي العلماني

وانتهاك حرمة الإسلام والمرأة المسلمة

(مترجم)

الخبر:

اتهم الناشطون التونسيون النظام باستخدام حقوق المرأة كأداة تشتيت بعد أن تم طرح قانون المصالحة الاقتصادية المثير للجدل في البرلمان الأسبوع الماضي. وقد خرج المتظاهرون الغاضبون إلى الشوارع بعد أن تم تمرير مشروع القانون الذي يسمح للمسؤولين في عهد بن علي بالهرب من الملاحقة القضائية، على الرغم من الانتقادات الواسعة التي لقيها القانون من قبل النشطاء والمنظمات غير الحكومية. وبعد ساعات فقط، أعلنت الحكومة إلغاء قانون يمنع النساء المسلمات التونسيات من الزواج من غير المسلمين. وقد انتقد البعض توقيت هذه الخطوة، معتقدين بأن الرئيس الباجي قائد السبسي يحاول إخفاء واقع الحياة في تونس تحت ستار حقوق المرأة.

http://amp.albawaba.com/news/tunisia-women-rights-1022824

التعليق:

يرى المجتمع الدولي اليوم الثورة في تونس والتي بدأت باحتجاجات في سيدي بوزيد ضد نظام بن علي الفاسد والقمعي والتي أدت في نهاية المطاف إلى ما يسمى بالربيع العربي، الذي بدوره أشعل الاحتجاجات في مصر وسوريا واليمن والبحرين، على أنها ديمقراطية نموذجية للشرق الأوسط. هذا على الرغم من ضعف اقتصاد تونس مع دين عام وصل إلى 63٪ من الناتج المحلي الإجمالي، ونسبة بطالة في صفوف الشباب بلغت 40٪، غير تدابير التقشف القاسية الجديدة مثل زيادة الضرائب، وفصل عشرة آلاف عامل خدمة عامة، وبيع بنوك الدولة، والآن يطل علينا ما يسمى بقانون المصالحة والذي يقضي بالعفو عن المسؤولين السابقين الفاسدين في نظام بن علي والذين في رقابهم مسؤولية سرقة ثروة الأمة وإنتاج هذا الحال المفلس والمضطهد للمسلمين في تونس.

إن هذا الوضع الراهن المفلس في تونس ما كان ليكون موجودا بهذا الشكل السافر لولا الاستعمار الثقافي والسياسي والاقتصادي المستمر في تونس من قبل الاتحاد الأوروبي، وفي المقام الأول فرنسا وألمانيا المسؤولتان عن تحقيق ما يسمى "قصة نجاح" الديمقراطية. وقد قدم الاتحاد الأوروبي وفرنسا وألمانيا وصندوق النقد الدولي مليارات الدولارات المشروطة إلى الحكومة التونسية منذ ثورة 2011 وشكل هذا دورا أساسيا في المطالبة بهذا التغيير الديمقراطي. وقد أعلن الاتحاد الأوروبي بوضوح أنه يتوقع أن يكون لدى تونس "تكامل اجتماعي واقتصادي أكبر مع الاتحاد الأوروبي"، وأن 1.2 مليار يورو التي ستقدم إلى تونس بين عامي 2017 و2020 تهدف إلى تسهيل هذا الهدف في المستقبل. هذا بالإضافة إلى قرض بقيمة 2.8 مليار دولار من صندوق النقد الدولي الذي يتوقع أن ينمي الاقتصاد مهما كانت التكلفة التي يتحملها المجتمع والناس.

ويشمل هذا التغيير الثقافي الديمقراطي الليبرالي تغييرات ثقافية إسلامية فيما يتعلق بالمرأة المسلمة مثل إسقاط منشور عام 1973 الذي يفرض زواج النساء المسلمات التونسيات من رجال مسلمين. وقالت الناطقة الرسمية باسم رئاسة الجمهورية سعيدة القراش على موقع فيسبوك: "تهانينا للمرأة التونسية على تكريس الحق في حرية اختيار الزوج"، وهو مثال على هذا التغيير العلماني الإمبريالي المستمر. إن الحملة العلمانية والحملة الصليبية ضد الإسلام والمسلمات من قبل الحزب الوطني العلماني نداء تونس والرئيس القادم من عهد حكم بن علي، الباجي قائد السبسي يستهدف بوضوح القوانين الإسلامية. يقول الله تعالى: ﴿وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشِرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ [البقرة: 221]

ولذلك، فإن الثورة في تونس أبعد ما تكون عن الاكتمال. ولا يزال المسلمون في تونس يصدعون ويتظاهرون ضد السيطرة الاستعمارية الاقتصادية والثقافية والسياسية الأوروبية الوضعية وقوانينها القمعية التي ينفذها شركاؤهم السياسيون المطيعون الذين ينهبون ثروة الأمة، ويقلبون الأحكام الإسلامية المتعلقة بالنساء المسلمات باسم "المساواة"، وما عودة المسؤولين الفاسدين في نظام بن علي إلى البرلمان مرة أخرى إلا عودة للنظام الاستبدادي الفاسد الذي خلعه أهل تونس وثاروا ضده في المقام الأول.

وإنه لأكيد، بأن الكيل قد طفح بالنساء المسلمات في تونس من التلاعب والتجاهل بحقهن بسبب النظام العلماني العاجز الذي يهتم في المقام الأول بالانتخابات المحلية المؤجلة والتي تهدف إلى تعزيز قبضة السبسي على السلطة.

إن النظام السياسي الإسلامي في دولة الخلافة على منهاج النبوة وحده ما سيتخلص نهائيا من الفساد والقمع وفقدان الكرامة والشرف التي نتجت عن الحكم القومي الليبرالي الاستعماري. وبالقرآن والسنة فقط ستعود السلطة والمجد والعدالة من جديد لأمة بلاد الزيتونة، بإذن الله. يقول رسول الله r: «لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَمَدَرٍوَلَاوَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ» (رواه أحمد)

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريّا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست