الذي بيته من زجاج لا يقذف النّاس بالحجارة!
الذي بيته من زجاج لا يقذف النّاس بالحجارة!

الخبر: عّبرت الولايات المتّحدة، الثّلاثاء، عن القلق إزاء إقرار البرلمان الإندونيسيّ قانونا يجرّم العلاقات الجنسيّة خارج إطار الزّواج، محذّرة من أنّه قد يضرّ بمناخ الاستثمار في أكبر دولة ذات غالبيّة مسلمة من حيث عدد السّكان في العالم. وقال المتحدّث باسم وزارة الخارجيّة، نيد برايس، للصّحفيين، "نشعر بقلق إزاء كيفيّة تأثير تلك التّعديلات على ممارسة حقوق الإنسان والحرّيّات الأساسيّة في إندونيسيا".

0:00 0:00
Speed:
December 11, 2022

الذي بيته من زجاج لا يقذف النّاس بالحجارة!

الذي بيته من زجاج لا يقذف النّاس بالحجارة!

الخبر:

عّبرت الولايات المتّحدة، الثّلاثاء، عن القلق إزاء إقرار البرلمان الإندونيسيّ قانونا يجرّم العلاقات الجنسيّة خارج إطار الزّواج، محذّرة من أنّه قد يضرّ بمناخ الاستثمار في أكبر دولة ذات غالبيّة مسلمة من حيث عدد السّكان في العالم.

وقال المتحدّث باسم وزارة الخارجيّة، نيد برايس، للصّحفيين، "نشعر بقلق إزاء كيفيّة تأثير تلك التّعديلات على ممارسة حقوق الإنسان والحرّيّات الأساسيّة في إندونيسيا".

وأضاف "نشعر بقلق أيضا بشأن تأثير القانون على المواطنين الأمريكيّين الذي يزورون ويقيمون في إندونيسيا، وكذلك على مناخ الاستثمار بالنّسبة للشّركات الأمريكيّة". (الحرّة عن فرانس برس: 07 كانون الأول/ديسمبر 2022)

التّعليق:

لنلق نظرة خاطفة على حقوق الإنسان في الدّولة العظمى التي أعربت عن قلقها من القانون الذي أقرّه البرلمان الإندونيسي والذي يجرّم الزّنا، يتّضح لنا جليّا أنّ هذه الدّولة لا تعمل إلّا على فرض حضارتها ومفاهيمها الفاسدة على العالم وتسعى لاجتثاث أيّ مفهوم يناقضها.

ذكرت arabic.news.cn أنّ مكتب الإعلام بمجلس الدّولة للصّين الشّعبيّة في شباط/فبراير 2022 أكّد في تقرير له حول انتهاكات حقوق الإنسان في أمريكا خلال عام 2021 أنّ "وضع حقوق الإنسان في أمريكا، التي لديها سجلاّت سيّئة السّمعة في هذا الصّدد، شهد تدهورا في عام 2021".

"حقوق الإنسان" هذا الشّعار الذي تتغنّى به الدّولة العظمى وتدّعي دفاعها عنه وعملها على تحقيقه إن هو إلّا كذب وادّعاء، فمن ينتهك هذه الحقوق في بلاده ويفشل في تحقيق الحياة الكريمة لأهله لا يدّعي أنّه سيوفّرها للآخرين.

يشهد وضع الأمن العام تدهورا وما زالت جرائم العنف مرتفعة، 693 حادث إطلاق نار جماعي في عام 2021، بزيادة 10.1 في المائة عن عام 2020، فأين الدّولة الكافلة للحرّيّات ممّا يحدث؟! وهل ثمّة حقّ أعظم من حقّ الإنسان في الحياة؟! هل تمكّنت من حماية أفرادها وتحقيق أمنهم وأمانهم؟

تراجعت ثقة النّاس في الحكومة إلى أدنى مستوى تاريخيّ على الإطلاق منذ عام 1958. فالناس في ظلّ أحكامها وقوانينها يعيشون ظلماً وخوفاً وانعداماً للحرّيّات والمساواة بين النّاس وخاصّة العرقيات الصغيرة، فقد قفزت جرائم الكراهيّة ضدّ الآسيويّين في مدينة نيويورك بنسبة 361 في المائة مقارنة بعام 2020. وذكر 59 في المائة من الأمريكيّين أنّ العرقيات الصغيرة لا تتمتّع بفرص عمل متساوية، فأين هي وشعاراتها المرفوعة من حقّ العمل وحرّيّة التّعبير؟!

قال فرناند دي فارينيس، مقرّر الأمم المتّحدة الخاصّ المعنيّ بقضايا العرقيات الصغيرة، إنّ النّظام القانونيّ الأمريكيّ لحماية حقوق الإنسان يعاني من أوجه قصور وعفا عليه الزّمن، وهو ما أدّى بدوره إلى تزايد انعدام المساواة.

هذا حال أمريكا وما خفي أعظم! ورغم ما ارتكبته من جرائم وانتهاكات لحقوق الإنسان ورغم تاريخها الأسود في حربها على العراق وأفغانستان وفضائح معتقل غوانتنامو الذي وصفه مراقبون بأنّه معتقل تنمحي فيه جميع القيم الإنسانيّة وتنعدم فيه الأخلاق، لا زالت أمريكا ترفع شعار الحرّيات وتنادي بحقوق الإنسان وتتدخّل في شؤون الدّول الأخرى فارضة حضارتها لتهيمن وتسيطر وتقود العالم وهي في حقيقة الأمر تخلق أزمات فيها. يقول ستيفن والت، أستاذ العلاقات الدّولية في جامعة هارفارد: "يجب على الأمريكيّين أوّلا معالجة المشكلات الحاصلة داخل بلادهم وإعادة النّظر في كيفيّة تعاملهم مع بقية العالم".

لقد سقط القناع عن الدّولة العظمى وظهر ساستها (الجمهوريّون والدّيمقراطيّون) متكالبين على مكاسبهم السّياسيّة متجاهلين حياة النّاس وصحّتهم وأمنهم. سقط القناع ليكشف زيف ما يدّعونه من دفاع عن حقوق الإنسان ولتظهر في الدّورة الـ48 لمجلس حقوق الإنسان التّابع للأمم المتّحدة أكبر مدمّر لحقوق الإنسان، وقد انتقدتها دول عديدة وحثّتها على معالجة انتهاكاتها الجسيمة لحقوق الإنسان.

ها هي اليوم تتدخّل في شؤون إندونيسيا معربة عن قلقها على حقوق الإنسان في سعي منها لتغيير قانون تجريم الزّنا الذي حرّمته كلّ الدّيانات السماويّة ونبذته الفطرة الإنسانيّة.

تعمل أمريكا على محاربة كلّ مفهوم مخالف لحضارتها، ورغم انكشاف عورات حضارتها وظهور فسادها وعفنها إلّا أنّ هذه الدّولة لا زالت تخوض معاركها وتصارع من أجل البقاء وفرض هيمنتها، وها هي في تحدّ سافر للطّبيعة البشريّة والفطرة السّليمة يقرّ الكونغرس فيها يوم 2022/12/8 تشريعا جديدا يحمي زواج المثليّين. (فرانس 24).

إنّ شغل أمريكا الشّاغل من خلال هذا التّدخّل وغيره هو محاربة الإسلام بوصفه حضارة تهدّد كيانها ووجودها، لهذا تعمل جاهدة لتخريب الأسر المسلمة وتسريب المفاهيم اللّيبراليّة المدمّرة كالشّذوذ والمثليّة لتعكس رؤية انتقائيّة لعالم يسوده ثلّة وحوش تعمل على تغيير الفطرة السّليمة وعلى إبادة النّوع البشريّ وإفنائه.

فكيف لهذه الدّولة التي تفتقد القيادة الصّائبة والرّشيدة أن تقود العالم وتوجّهه وهي عاجزة عن حلّ مشاكلها وتحقيق حياة كريمة لسكّانها؟! كيف لها أن تسيّر العالم بمثل هذه المفاهيم الهدّامة المدمّرة؟! كيف لفاقد الشّيء أن يعطيه؟! ومن كانَ بيتُهُ من زُجاج أيرمي الناسَ بالحجارة؟!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزيّ لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست