الذين يحكمون الأمة والذين يرغبون في حكمها يسعون إلى ضمان مستقبلهم إلى جانب أسيادهم الغربيين
الذين يحكمون الأمة والذين يرغبون في حكمها يسعون إلى ضمان مستقبلهم إلى جانب أسيادهم الغربيين

الخبر:   ذهب رئيس حزب الشعب الجمهوري كمال قلجدار أوغلو إلى لندن، عاصمة بريطانيا، للقيام بسلسلة من الزيارات. وخلال زيارته هذه التقى قلجدار بأوساط العلم والتكنولوجيا والمستثمرين. (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
November 16, 2022

الذين يحكمون الأمة والذين يرغبون في حكمها يسعون إلى ضمان مستقبلهم إلى جانب أسيادهم الغربيين

الذين يحكمون الأمة والذين يرغبون في حكمها

يسعون إلى ضمان مستقبلهم إلى جانب أسيادهم الغربيين

(مترجم)

الخبر:

ذهب رئيس حزب الشعب الجمهوري كمال قلجدار أوغلو إلى لندن، عاصمة بريطانيا، للقيام بسلسلة من الزيارات. وخلال زيارته هذه التقى قلجدار بأوساط العلم والتكنولوجيا والمستثمرين. (وكالات الأنباء)

التعليق:

ذهب رئيس حزب الشعب الجمهوري قلجدار أوغلو إلى أمريكا والتقى ببعض الدوائر هناك قبل زيارته لبريطانيا. وهذه المرة، قام قلجدار، بزيارة بريطانيا مع وفد، والتقى ببعض المستثمرين البريطانيين.

في بيانه حول الرحلة، قال كمال قلجدار أوغلو إن الغرض من زيارته إلى بريطانيا هو أن تركيا بحاجة إلى استثمار أجنبي نظيف للخروج من الأزمة، وأنه في حالة وجود أموال نظيفة، ستذهب الأموال القذرة، وبهذه الطريقة، هذه الأموال ستذهب للناس، وتنهي البطالة وتقتلع المخدرات من الشوارع، وهذا هو الحل الوحيد للأزمة المتصاعدة. بالإضافة إلى ذلك، صرح قلجدار أوغلو أن لديه خططاً كبيرة جداً لتركيا وأنه يجب مراقبة نهاية شهر تشرين الثاني/نوفمبر.

بالإضافة إلى ذلك، قال قلجدار أوغلو، إنه عقد اجتماعاً في لندن مع 14 صندوقاً ضخماً استثمروا 100 مليار جنيه إسترليني في مناطق مختلفة من العالم، وأنه سيحضر هذه الصناديق إلى تركيا، وستأتي بقوة، وأنه لم يكن هناك مرابين بين أولئك الذين التقى بهم، وأنهم كانوا جميعاً مستثمرين، ولم يكن هناك أباطرة مخدرات على الإطلاق.

ليس من المستغرب أن يقوم رئيس حزب الشعب الجمهوري بزيارة لبريطانيا التي هدمت الخلافة. لقد عمل هذا الحزب، الحزب المؤسس للجمهورية، يدا بيد مع البريطانيين لسنوات. وتريد بريطانيا الآن إعادة حزب الشعب الجمهوري إلى السلطة، فهو الذي سيلبي تماماً مصالحها السياسية في تركيا والمنطقة، كما فعل من قبل.

زيارة زعيم حزب الشعب الجمهوري قلجدار أوغلو إلى لندن هي زيارة سياسية أكثر منها اقتصادية، لأن الاقتصاد والسياسة مفهومان لا ينفصلان. ومن المحتمل أن تكون هذه الزيارة مرتبطة بالانتخابات الرئاسية المقبلة لعام 2023. كما تأتي هذه الزيارة لتلقي تعليمات من بريطانيا، العدو اللدود للإسلام والمسلمين، بشأن خريطة الطريق لتركيا.

من ناحية أخرى، ليس من المستغرب في الواقع أن قلجدار أوغلو معجب ببريطانيا التي تدمر المحاصيل والماشية، وهي استعمارية كافرة، ويثني عليها ويستريح فيها. لقد ولد أسلاف قلجدار أوغلو السابقون أيضاً ولعاً وحباً كبيرين لبريطانيا؛ لأن القوة التي يعتمد عليها حزب الشعب الجمهوري هي القوة البريطانية.

ليس من الصدق أن يقول قلجدار أوغلو إنه ذهب إلى بريطانيا للعثور على أموال نظيفة لإنهاء الأزمة الاقتصادية في تركيا، فإن حزب الشعب الجمهوري لا يهتم أبداً بحقيقة أن الناس في تركيا يعيشون في ضائقة اقتصادية. إن قلق قلجدار أوغلو الوحيد هو الوصول إلى السلطة وتحقيق المصالح السامية للبريطانيين الذين يعتمد عليهم.

إن أصحاب الأموال، الذين يصفهم قلجدار أوغلو بأنهم نظيفون، قد امتصوا دماء المسلمين لسنوات وسرقوا ثروات الأمة مثل اللصوص. مرة أخرى، هؤلاء أصحاب الأموال والدولة البريطانية من ورائهم استقروا واغتصبوا واستغلوا ثروات الأمة مثل العصابة. والآن، دون أي خجل، يكيل قلجدار أوغلو الثناء على أباطرة الصناديق هؤلاء، ويريد تبرئتهم وجعلهم أبرياء. علاوة على ذلك، بالنسبة لتصريحات قلجدار أوغلو بأنه التقى 14 صندوقاً ضخماً استثمروا 100 مليار جنيه، وأنه سيحضر هذه الأموال إلى تركيا، وأنه سيعود بقوة، وأنه لا يوجد مغتصبون من بين الذين التقى بهم، وأنهم جميعاً مستثمرون وأنه لا يوجد أباطرة مخدرات، فهذا ليس هو الواقع، فهذه الصناديق الضخمة كلها أباطرة المخدرات، وهذه الأموال أو الشركات هم مرابون دوليون يستغلون الناس ولا يقبلون أي قيمة بشرية أو أخلاقية من أجل كسب المزيد من المال.

أما بالنسبة للوعود التي حصل عليها قلجدار أوغلو من أصحاب الأموال هؤلاء للاستثمار في تركيا، فإن هؤلاء المستثمرين الرأسماليين لا يرحمون أحداً، فهم لا يستثمرون إلا إذا حصلوا على عشرة أضعاف ما قدموه. فما هي الوعود التي قطعها قلجدار أوغلو لجذب هؤلاء المستثمرين إلى تركيا؟ وما هي الالتزامات التي قطعها لهم؟ وما هي التنازلات التي قدمها؟ علاوة على ذلك؛ قلجدار أوغلو لا يملك أي قوة في الوقت الحالي لتلبية مطالبهم!

أيها المسلمون: أولئك الذين يحكمون والذين يرغبون في حكم الأمة يسعون إلى ضمان مستقبلهم إلى جانب أسيادهم الغربيين. إنهم يتجولون في القارات من أجل هذا، يطلبون منهم المساعدة عندما يكونون في مأزق، وهم يستندون إليهم. إنهم يسعون إلى العزة والكرامة بجانب الكفار المستعمرين، لكن الكرامة والعزة لا تكون إلا لله وحده ولرسوله وللمؤمنين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست