الذين يخدمون أمريكا سوف يكون مصيرهم مثل مصير قاسم سليماني
الذين يخدمون أمريكا سوف يكون مصيرهم مثل مصير قاسم سليماني

الخبر:في 2 كانون الثاني/يناير 2020، حصل حادثان مهمّان، الأول يتعلق بشمال أفريقيا والثاني يتعلق بالشرق الأوسط. الأول: طلب الرئيس أردوغان تفويضاً من مجلس الأمة التركي الكبير (البرلمان) لإرسال قوات إلى ليبيا بناءً على طلب أو "دعوة" حكومة الوفاق الوطني الليبية. حيث أقرّ البرلمان بأغلبية 325 صوتا مقابل 184 صوتا رافضا.

0:00 0:00
Speed:
January 09, 2020

الذين يخدمون أمريكا سوف يكون مصيرهم مثل مصير قاسم سليماني

الذين يخدمون أمريكا سوف يكون مصيرهم مثل مصير قاسم سليماني
(مترجم)


الخبر:


في 2 كانون الثاني/يناير 2020، حصل حادثان مهمّان، الأول يتعلق بشمال أفريقيا والثاني يتعلق بالشرق الأوسط. الأول: طلب الرئيس أردوغان تفويضاً من مجلس الأمة التركي الكبير (البرلمان) لإرسال قوات إلى ليبيا بناءً على طلب أو "دعوة" حكومة الوفاق الوطني الليبية.

حيث أقرّ البرلمان بأغلبية 325 صوتا مقابل 184 صوتا رافضا.


في نص الرسالة المرسلة إلى مجلس الأمة التركي الكبير من الرئاسة، تمت الإشارة بشكل خاص إلى أن أعضاء الأمم المتحدة يجب أن يقطعوا العلاقات مع التنظيم الموازي الآخر في ليبيا المسمى بـ(الجيش الوطني الليبي التابع لحفتر)، باستثناء حكومة الوفاق الوطني.


وطلبت حكومة الوفاق الوطني الليبي من تركيا دعماً عسكرياً لمكافحة التهديدات التي تهدد سلامة أراضي ليبيا واستقرارها والتي يمكن أن تؤثر على المنطقة بأسرها في شكل تنظيمي الدولة والقاعدة ومنظمات إرهابية أخرى أو جماعات مسلحة غير شرعية فضلاً عن الهجرة غير الشرعية وتمّ ذكر (الاتجار بالبشر) كدافع لإرسال القوات التركية إلى ليبيا.

التعليق:


حسب الأمم المتحدة وتركيا، فإن التنظيم الموازي في ليبيا هو حفتر. وحيث إن الولايات المتحدة تعمل مع حفتر في ليبيا، كان من المتوقع أن يقول أردوغان لترامب أن "يقطع علاقاته مع حفتر وينهيها"، وهو ما لم يحدث. بعد فترة وجيزة من ولاية البرلمان، أجرى أردوغان محادثة هاتفية مع رئيس الولايات المتحدة. وتم الإعلان عن مناقشة الأوضاع الإقليمية، خاصةً الأوضاع الأخيرة في ليبيا وسوريا. وقال أردوغان لترامب إنهم يتابعون العمليات التي تستهدف الوحدات الأمنية الأمريكية في العراق بقلق وحزن، وأعرب عن ارتياحه لتوقف الأعمال التي وُجّهت ضد السفارة الأمريكية.


من هنا نفهم أن القرار الرسمي الليبي صدر بناءً على طلب أمريكا، وليس رغماً عن أنفها. على الرغم من أن الرأي العام التركي ينظر إلى القضية بطريقة تفتقر للوعي السياسي، فإن هذا هو الحال. كما سبق أن أقرّت تركيا التفويض السوري للدخول إلى جرابلس مع عملية درع الفرات في عام 2016 مع تبرير القتال ضد تنظيم الدولة وبطلب من أمريكا. أي أن هناك نقاطا مشتركة بين القرار السوري والقرار الليبي. بعد عملية درع الفرات، تم تسليم حلب إلى النظام السوري.


كذلك في أوائل عام 2018، دخلت تركيا إدلب بعملية غصن الزيتون، كما لو كانت ضد رغبة الولايات المتحدة وبفضل قادة الجماعات غير الواعية، من أجل القتال ضد حزب الاتحاد الديمقراطي/ وحدات حماية الشعب، التي كانت تعمل لصالح الولايات المتحدة مثل حفتر. لم يحدث أي شيء لوحدات حماية الشعب التي تدعمها أمريكا، لكن الأذى لحق بأهل إدلب. مراكز المراقبة التركية حاصرت إدلب وأيضاً فقد قُضي على الجماعات بإدلب نتيجة لمذكرة سوتشي.


وبالتالي، ستبذل تركيا الجهود نفسها في ليبيا كما فعلت في سوريا لصالح أمريكا، وهي تفعل ذلك بناءً على طلبها، وليس رغم أنفها. تركيا تخدع وتغش الناس والمسلمين بهذه الطريقة. تستخدم الولايات المتحدة تركيا كرافعة في الميدان من أجل مصالحها في ليبيا كما فعلت في سوريا. مثلما استخدمت أمريكا إيران في أفغانستان والعراق وسوريا.


نعم، الولايات المتحدة تستغل البلاد وتستخدم الحكام، وتقضي عليهم كلما كان ذلك في مصلحتها، تزيلهم بانقلاب في بعض الأحيان، وأحياناً أخرى تقوم بقتلهم ببساطة. الآن، الوضع الثاني، والمهم، المتعلق بالشرق الأوسط وهو مقتل قاسم سليماني، قائد القوات الثورية الإيرانية.

بالأمس ساعدت إيران أمريكا في احتلالها لأفغانستان، واليوم تشاركها قتل المسلمين في العراق. في سوريا، قُتل مئات الآلاف من المسلمين مرة أخرى لصالح أمريكا. بالأمس، اعترف الرئيس السابق أحمدي نجاد، واليوم، وزير الخارجية جواد ظريف يعترف بذلك علانية.


اليوم، أمريكا تغتال القائد الأكثر شهرةً في إيران، قاسم سليماني الذي قتل المسلمين في العراق وسوريا خدمة لأمريكا. توفي سليماني دون جدوى بعد خدمته لتحقيق المصالح الأمريكية عن طريق إراقة دماء المسلمين لمدة 20 عاماً... سوف يستغل ترامب هذا الاغتيال كفرصة للفوز في الانتخابات الأمريكية المقبلة.


للأسف، فإن نهاية أولئك الذين يخدمون الولايات المتحدة هي نفسها دائماً، بغض النظر عن مدى طاعتهم وطول مدة خدمتهم، يتم استخدامهم ومن ثمّ التخلص منهم وإلقاؤهم. كما هو في حالة قاسم سليماني... من المؤسف أن الحكام لا يتعلمون أبداً من ذلك.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست