التخبط السياسي في ألمانيا يكشف عن تفاهة المبدأ
التخبط السياسي في ألمانيا يكشف عن تفاهة المبدأ

الخبر: صوت البرلمان الألماني اليوم على مشروع للحد من الهجرة بإغلاق الحدود وإعادة نقاط التفتيش على الحدود حسب البرنامج الذي طرحه مرشح الحزب المسيحي الديمقراطي فريدريش ميرتز، وجاءت الموافقة بفارق ثلاثة أصوات حيث صوت بالقبول 348 وصوت بالرفض 345 نائبا.

0:00 0:00
Speed:
January 30, 2025

التخبط السياسي في ألمانيا يكشف عن تفاهة المبدأ

التخبط السياسي في ألمانيا يكشف عن تفاهة المبدأ

الخبر:

صوت البرلمان الألماني اليوم على مشروع للحد من الهجرة بإغلاق الحدود وإعادة نقاط التفتيش على الحدود حسب البرنامج الذي طرحه مرشح الحزب المسيحي الديمقراطي فريدريش ميرتز، وجاءت الموافقة بفارق ثلاثة أصوات حيث صوت بالقبول 348 وصوت بالرفض 345 نائبا.

التعليق:

تمر ألمانيا حاليا بأزمات سياسية واقتصادية واجتماعية متراكمة، وتأخذ كل أزمة بزمام الأخرى في حلقة مفرغة لا نهاية لها. فبعد أن فشل الائتلاف الحكومي المكون من ثلاثة أحزاب هي: الديمقراطي الاجتماعي والخضر والليبرالي، سقطت الحكومة في مطلع العام بسبب انسحاب الحزب الليبرالي من الائتلاف وتقرر إثر ذلك تحديد انتخابات مبكرة في نهاية الشهر القادم شباط/فبراير. وكان فشل الحكومة السابقة بسبب المعضلات الاقتصادية، ومن أسبابها في الدرجة الأولى الحرب في أوكرانيا ومقاطعة الغاز الروسي وما ترتب على إثره من غلاء الطاقة وبالتالي غلاء الأسعار والركود الاقتصادي لعامين على التوالي.

والآن تستعر الحملات الانتخابية وتلاحظ الحدة في الخطاب من كافة الأحزاب بعضها لبعض، وانخفض سقف الطروحات السياسية والفكرية إلى حد متدنٍ يقارب لغة الشوارع في محاولة لكسب الجمهور والنجاح في الانتخابات القادمة، وبالنظر إلى أن اليمين المتطرف آخذ في الصعود بخطابه الشعبوي المليء بالكراهية للأجنبي المتهم بأنه المتسبب بكافة الأزمات، أصبحت الأحزاب الوسطية "المعتدلة" تخشى خسارة الأصوات لصالح اليمين المتطرف فركبت الموجة وتبنت أفكار اليمين للتخفيف من خسارتها الشعبية، وهذا ما جعل الحزب الديمقراطي المسيحي يطالب بالحد من دخول المهاجرين وطرد الذين لم يحصلوا على اللجوء وتشديد قوانين الهجرة واللجوء كرد فعل على فكرة عدم قبول الأجنبي التي أصبحت سائدة شعبيا منذ طرحها حزب ألمانيا البديل اليميني المتطرف، وهو المشروع الذي تقدم به المرشح عنه فريدريش ميرتز.

هذا وقد أخذت الأحزاب المعتدلة على نفسها عهدا أخلاقيا بأن لا تتآلف مع الحزب البديل المتطرف، وأن لا تستند إلى أصواته في البرلمان وتعاهدت على إسقاطه برلمانيا بإهماله وعدم مراعاة أصواته، حتى أطلقوا على هذا الحاجز اسم الجدار الناري العازل، وهذا ما تسبب بالحرج للسيد ميرتز الذي احتاج الآن لأصوات نواب الحزب البديل للحصول على الأغلبية لصالح هذا المشروع، ما اعتبر اختراقا للجدار الناري العازل، وتواطؤ ميرتز مع اليمين المتطرف. فبدون أصوات نواب حزب البديل لم يكن ليحصل على الأغلبية لصالح هذا المشروع، وقد لوحظت بعد التصويت فرحة اليمين المتطرف بنجاح التصويت لصالحهم معتبرين ذلك بداية قبول وجودهم البرلماني ونجاح فكرتهم التي قاموا عليها وهي تقليل عدد الأجانب والمهاجرين في ألمانيا.

لقد كانت نتيجة التصويت معلومة من قبل تقديم المشروع رسميا للبرلمان للتصويت، وكان معلوما مسبقا أن نجاح المشروع سيكون فقط بأصوات النواب المتطرفين، ومع ذلك تم عرضه وقبول الأصوات كافة. وقد عبر نواب اليسار والوسط الديمقراطي الاشتراكي عن قبول نتيجة التصويت بأنه طامة كبرى وسابقة خطيرة وفشل ذريع. وسيكون له أثر سلبي على مستقبل ألمانيا، وخاصة بدعم أمريكا للحزب البديل، وتشجيع ترامب له بدعوة ممثلين عنه لمراسيم التعيين الرئاسية دون بقية الأحزاب، وكذلك المقابلة الشخصية على موقع إكس التي جمعت صاحبه إيلون ماسك وزعيمة الحزب البديل أليس فايدل، أظهر فيها ماسك تأييده للحزب البديل وشجع على انتخابه وصرح أنه المنقذ الوحيد للتدهور الاقتصادي والاجتماعي في ألمانيا.

هذا التخبط السياسي والهبوط الفكري والتنازلات من كافة الأحزاب والساسة يدل على ضحالة الفكر وانعدام المبدأ وهو مؤشر على حتمية سقوط هذه المنظومة الرأسمالية التي بنيت على أسس ضحلة هشة من مكاسب مادية دون النظر إلى القيم الإنسانية أو الأخلاقية، ناهيك عن القيم الدينية التي أصبحت في المجتمع لا تساوي حبة خردل، بل صارت محط سخرية، وصار التطاول على الأديان والاستهزاء بالرب والرموز الدينية سلّما للوصول إلى مناصب سياسية واجتماعية.

من المتوقع أن تكون نتيجة الانتخابات القادمة غير حاسمة لتكوين ائتلاف حكومي مستقر، وذلك لأن الحزب البديل سيحصل - حسب استطلاعات الرأي - على أصوات قد تزيد عن نسبة 30% ما يجعل الأحزاب الأخرى غير قادرة على تكوين ائتلاف، وهذا سيؤدي إلى عدم استقرار سياسي وسيفتح المجال للمزيد من التطرف كما حصل في إيطاليا، وقد يأتي وقت تكون فيه الأغلبية للمتطرفين، حيث أن المعالجات التي تطرحها الأحزاب للأزمات ليست مبنية على قيم مجتمعية صالحة للتآلف بين الشعوب مختلفة الأعراق، بل ما زالت النعرة العرقية الألمانية هي المحرك والقومية هي القاعدة الفكرية، وهذا ما يجعل الأجنبي بالنسبة لهم عنصرا طارئا غير مرغوب فيه، ويحمل مسؤولية الفشل وعدم الاستقرار. فعلى سبيل المثال يعمد إلى حوادث الإجرام التي يحدثها الأجانب سواء سرقة أو اعتداء أو قتل أو أي جريمة أخرى، فيعزى عدم الاستقرار الأمني إلى الأجنبي المجرم والمسلم السفاح خاصة إذا كانت الحادثة قد سببها مسلم أو منتسب للإسلام. وقد حصلت مؤخرا خلال السنوات الثلاث الأخيرة حوادث متفرقة كان الفاعلون أجانب، فأقيمت الندوات والمؤتمرات وجعلت القضية الأمنية مرتبطة بالمهاجرين، وكأن المجتمع قبل المهاجرين كان مجتمعا خاليا من أي اعتداءات أو جرائم!

ليس إنقاصا من الإسلام، وليس من باب المقارنة، بل للتوضيح فحسب، حيث قال جل شأنه مبينا كيف تكون العلاقة بين الشعوب: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. يوسف سلامة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست