التلوث - نتيجة الجشع وفشل النظام
التلوث - نتيجة الجشع وفشل النظام

الخبر:   في الأيام القليلة الماضية، بدأ التلوث في كوالالمبور في الانخفاض. تراجعت قراءات مؤشر تلوث الهواء (API) في كوالالمبور من أكثر من 200 إلى حوالي 80. وشهدت معظم المناطق في ماليزيا أيضاً انخفاضاً في مؤشر تلوث الهواء على مدار الأسبوع. على الرغم من أن الجو المليء بالتلوث قد تحسن بشكل عام في البلاد، إلا أن الرياح الموسمية الجنوبية الغربية ستبدأ قريباً جداً، "واعدة" بأن التلوث سيستمر وقد يزداد سوءاً. يحدث التلوث عبر الحدود في ماليزيا وإندونيسيا وسنغافورة كل عام تقريباً بسبب حرائق الغابات في إندونيسيا. حيث بدأت العديد من هذه الحرائق لتنظيف الأراضي الزراعية. في هذا العام، يعد حرق الغابات في سومطرة وكاليمانتان السبب الرئيسي وراء هذا التلوث الرهيب. ولسوء الحظ، فإن هذا يحدث كل عام تقريباً منذ التسعينات! من الواضح أنه يجب القيام بشيء ما - وقد تم التعبير عن هذا كل عام. ما هو واضح هو أنه من أجل حل هذه المشكلة المتكررة، من المهم للغاية أن ننظر إلى هذه المسألة من منظور مختلف - منظور يسلط الضوء على شهوات البشر اللانهائية ويتجاهل تماماً المسؤولية التي أعطانا الله سبحانه وتعالى لنا، بوضوح، مع عواقب مدمرة.

0:00 0:00
Speed:
September 29, 2019

التلوث - نتيجة الجشع وفشل النظام

التلوث - نتيجة الجشع وفشل النظام

الخبر:

في الأيام القليلة الماضية، بدأ التلوث في كوالالمبور في الانخفاض. تراجعت قراءات مؤشر تلوث الهواء (API) في كوالالمبور من أكثر من 200 إلى حوالي 80. وشهدت معظم المناطق في ماليزيا أيضاً انخفاضاً في مؤشر تلوث الهواء على مدار الأسبوع. على الرغم من أن الجو المليء بالتلوث قد تحسن بشكل عام في البلاد، إلا أن الرياح الموسمية الجنوبية الغربية ستبدأ قريباً جداً، "واعدة" بأن التلوث سيستمر وقد يزداد سوءاً. يحدث التلوث عبر الحدود في ماليزيا وإندونيسيا وسنغافورة كل عام تقريباً بسبب حرائق الغابات في إندونيسيا. حيث بدأت العديد من هذه الحرائق لتنظيف الأراضي الزراعية. في هذا العام، يعد حرق الغابات في سومطرة وكاليمانتان السبب الرئيسي وراء هذا التلوث الرهيب. ولسوء الحظ، فإن هذا يحدث كل عام تقريباً منذ التسعينات! من الواضح أنه يجب القيام بشيء ما - وقد تم التعبير عن هذا كل عام. ما هو واضح هو أنه من أجل حل هذه المشكلة المتكررة، من المهم للغاية أن ننظر إلى هذه المسألة من منظور مختلف - منظور يسلط الضوء على شهوات البشر اللانهائية ويتجاهل تماماً المسؤولية التي أعطانا الله سبحانه وتعالى لنا، بوضوح، مع عواقب مدمرة.

التعليق:

في 26 أيلول/سبتمبر 1997، قيل إن التلوث كان سبب تحطم طائرة إيرباص A300 B4-220 الإندونيسية الذي أودى بحياة جميع الركاب البالغ عددهم 234 راكباً وطاقمها بالقرب من ميدان بإندونيسيا، حيث تم الإبلاغ عن مدى الرؤية على بعد 600-800 متر فقط. كما ألقي باللوم على التلوث أيضاً في التصادم بين سفينة وناقلة في مضيق ملقا في العام نفسه. على الرغم من أنه في سنوات معينة، يمكن إلقاء اللوم على ظاهرة النينيو المسببة للضباب، والسبب الرئيسي في ذلك هو الحرق المفتوح الذي قام به المزارعون والشركات الزراعية لتنظيف الغابات للأغراض الزراعية. لفهم السبب في ذلك، يجب أن ننظر إلى القضية في سياق أوسع - سياق يأخذ في الاعتبار الطبيعة البشرية وسيطرة الشهوات الإنسانية المطلقة والرغبة في صنع القرار.

لقد أعطي الإنسان الغرائز والعقل للتفكير. نتخذ القرارات بناء على هذه الكليات. عندما قام المزارعون والشركات الزراعية بإشعال النار التي تسببت في التلوث، هيمنت غريزة البقاء على كلا الطرفين في هذا القرار. ومع ذلك، فإن ما يفرق هاتين المجموعتين هو الغرض من تحقيق هذه الغريزة. فمن جانب المزارعين الصغار، فهم يحرقون غابات الأرز من أجل البقاء، ولكن بالنسبة للشركات الرأسمالية، فإنهم يحرقون الغابات بشكل بحت من أجل الربح والمزيد من الأرباح. على الرغم من أن هذا ليس مبرراً للمزارعين الصغار لحرق الغابات للحصول على الغذاء، إلا أن المشكلة تزداد عمقاً لأنها تتعلق بالوفاء بالاحتياجات الأساسية (الغذاء والملابس والمأوى) التي يفتقرون إليها من جانبهم. تعتمد سبل عيش هؤلاء المزارعين اعتماداً كبيراً على الزراعة صغيرة الحجم، ومن أجل البقاء على قيد الحياة يجبرون على اللجوء إلى حرق الغابات. من الواضح أن السلطات قد فشلت من جانبها في توفير الاحتياجات الأساسية لهؤلاء المزارعين، وهم مذنبون في الفشل في التخطيط لأنشطة زراعية لا تتسبب في أضرار للآخرين. على الجانب الآخر، تقوم الشركات الزراعية بأنشطة حرق مفتوحة لخفض التكلفة، ولا شك أن عنصر الجشع وتجاهل البيئة يلعبان دوراً كبيراً في تفاقم المشكلة. السلطات، مرة أخرى، كان ينبغي أن تفرض ضوابط صارمة من خلال إنفاذ القانون لضمان عدم تنفيذ الحرق المفتوح. لا يبدو الأمر كذلك فقط. فإن تكرار حوادث التلوث قد أثارت انتقادات متكررة ضد الحكومة الإندونيسية التي فشلت حتى يومنا هذا في توقيع اتفاقية مكافحة التلوث لدول رابطة أمم جنوب شرق آسيا المقترحة في 1998/1997. على الرغم من توفر التكنولوجيا والإجراءات المعروفة في تنظيف الأراضي للزراعة، فقد فشلت حكومة إندونيسيا مراراً وتكراراً في توظيفها للسيطرة على جشع الشركات.

مما لا شك فيه أن الافتقار إلى الإدارة والتخطيط بالإضافة إلى الجشع من جانب الجناة تسبب في العديد من الآثار الضارة على البشر. من الآن فصاعداً، يجب أيضاً مناقشة القضايا المتعلقة بالتلوث حيث شوهدت مختلف المساعي من جانب المجتمع البشري للتخفيف من هذه المشاكل. ومع ذلك، لا يزال التلوث قائماً، بل إن المشكلة تزداد سوءا. أحد الأسباب الرئيسية لذلك يتلخص في مدى جدية الأمر بالنسبة لنا، حيث ينظر الإنسان إلى التلوث باعتباره مشكلة. أما الإسلام فإنه ينظر إلى مرتكبي التلوث باعتبارهم مذنبين. يحرم الإسلام جميع أنواع التهديدات والمضايقات للأفراد أو المجتمع أو الناس. يمكن فهم هذا أيضاً في سياق التلوث البيئي فالحكم الشرعي يطبق على جميع الأنواع الأخرى من المضايقات. قال رسول الله r: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»، وقال: «لا يَبولَنَّ أحَدُكُمْ في الْمَاءِ الدَّائِمِ الذي لا يَجْرِى، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيه».

يمكن أن يعزى سياق هذه الأحاديث إلى أي شيء يمكن أن يلوث البيئة مثل الحرائق. من الواضح، نظراً لأن الإسلام ينظر إلى الملوثين على أنهم مذنبون، فسيتم اتخاذ إجراء ضد الجناة. للأسف، لا يمكن القيام بذلك بدون جهاز دولة قوي. في ظل النظام الرأسمالي العلماني، فإن الدافع قائم على الجشع. فقط مع تطبيق الشريعة الإسلامية في ظل الخلافة، بما في ذلك جميع جوانب الحياة، سيتم التعامل مع قضية التلوث، واتخاذ الإجراءات الحقيقية لمنع ذلك.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست