الطريق التي تسلكها الإمارة الإسلامية مظلمة محفوفة بالمخاطر
الطريق التي تسلكها الإمارة الإسلامية مظلمة محفوفة بالمخاطر

الخبر:   قال وزير خارجية إمارة أفغانستان الإسلامية أمير خان متقي يوم 24/11/2021 إنه سيناقش في الدوحة مع المسؤولين الأمريكيين رفع الحظر عن الأرصدة الأفغانية في الخارج وفتح صفحة جديدة في العلاقات مع واشنطن، وإنه توجه مع عدد من الوزراء والمسؤولين الأمنيين إلى قطر لعقد اجتماعات منفصلة مع المبعوث الأمريكي إلى أفغانستان وممثلي الاتحاد الأوروبي ودولة قطر بشأن المستجدات الأخيرة في الملف الأفغاني،  ...

0:00 0:00
Speed:
November 30, 2021

الطريق التي تسلكها الإمارة الإسلامية مظلمة محفوفة بالمخاطر

الطريق التي تسلكها الإمارة الإسلامية مظلمة محفوفة بالمخاطر

الخبر:

قال وزير خارجية إمارة أفغانستان الإسلامية أمير خان متقي يوم 2021/11/24 إنه سيناقش في الدوحة مع المسؤولين الأمريكيين رفع الحظر عن الأرصدة الأفغانية في الخارج وفتح صفحة جديدة في العلاقات مع واشنطن، وإنه توجه مع عدد من الوزراء والمسؤولين الأمنيين إلى قطر لعقد اجتماعات منفصلة مع المبعوث الأمريكي إلى أفغانستان وممثلي الاتحاد الأوروبي ودولة قطر بشأن المستجدات الأخيرة في الملف الأفغاني، وشدد على التزام الإمارة باتفاق الدوحة المبرم مع أمريكا بعدم السماح باستخدام الأراضي الأفغانية لمهاجمة دول أجنبية. وذكر مراسل الجزيرة في أفغانستان أن الوفد سيضم أيضا مسؤولين من وزارة التربية، وسيبحث في الدوحة موضوع الاعتراف بالإمارة. بينما قال المتحدث باسم الخارجية الأمريكية نيد برايس يوم 2021/11/24 إن المبعوث الأمريكي لأفغانستان توماس ويست سيزور الدوحة لعقد اجتماعات تستمر يومين 26 و2021/11/27، مع زعماء طالبان، وإن المباحثات ستناقش مصالح أمريكا الحيوية في أفغانستان. وقد حضر توماس ويست الاجتماعات الأولى يومي 9 و2021/10/10 وهي الأولى بين الطرفين بعد تسلم حركة طالبان الحكم.

التعليق:

يظهر أن حركة طالبان متهالكة على عقد اتفاقيات تراضي بها الدول الأخرى وخاصة أمريكا لتنال اعترافها بها من دون أن تجعل الإسلام أساسا في علاقاتها الخارجية! وما يؤكد ذلك الاجتماعات التي تعقد مع أمريكا في قطر وبوجود مسؤولين أمنيين للتأكيد على أنها لن تحارب أمريكا ولن تجعل أفغانستان نقطة انطلاق لأية حركة تحارب أمريكا أو حلفاءها، وكذلك اصطحاب مسؤولي التربية والتعليم ليراضوا أمريكا فيما يتعلق بتعليم البنات! ويؤكد ذلك أيضا الرسالة المفتوحة التي أرسلتها حكومة الحركة باسم وزير خارجيتها متقي خان إلى الكونغرس الأمريكي يوم 2021/11/17 التي دعا فيها إلى بناء الثقة بينها وبين أمريكا، فقال فيها: "نطالب الكونغرس الأمريكي باتخاذ خطوات تساهم بفتح الأبواب أمام العلاقات المستقبلية وإزالة تجميد أصول البنك المركزي الأفغاني (9,5 مليار دولار) ورفع العقوبات". وقال "نتيجة الحرب في أفغانستان ضمنتها اتفاقية الدوحة الهادفة إلى بناء علاقات إيجابية بالكامل في مصلحة كل من طالبان وأمريكا. إن الحركة دخلت كابل بناء على طلب السكان لملء الفراغ في السلطة بعد هروب أشرف غني. طالبان تعمل كحكومة ذات سيادة ومسؤولية للقضاء على الفساد وغياب القانون والتهديدات الموجهة للعالم والمنطقة. وأمريكا يمكن لضمان الأمن أن تستثمر في قطاعات التصنيع والزراعة والتعدين" وقال: "إن تجميد الأصول (المالية للبنك المركزي في أفغانستان) جاء بمثابة مفاجأة وهو يتعارض مع الاتفاقية. وهو أصل كل المشاكل في أفغانستان ويلحق الضرر بهيبة أمريكا" وقال "هناك حاجة إلى خطوات متبادلة لبناء الثقة. يجب على أمريكا رفع عقوباتها، وإلا ستكون كارثة وهجرة جماعية في الشتاء، ما سيخلق مشاكل جديدة للمجتمع".

فالحركة أو حكومتها تطلب من أمريكا دخول أفغانستان من جديد للاستثمار لضمان الأمن! وهذا يعرض البلاد لأن يكون فيها للكافرين على المؤمنين سبيلا. وأمريكا دولة استعمارية حاربت في أفغانستان نحو عشرين عاما فدمرت البلاد وقتلت وشردت الملايين، فهل يطلب بناء ثقة معها؟! هل تغيرت سياستها منذ تأسيسها وهي تخوض الحروب الاستعمارية في كل أنحاء العالم بدءا من أمريكا الوسطى والجنوبية حيث احتلت أراضي من المكسيك وما زالت تحتل قناة بنما وتصول وتجول في القارة الجنوبية منها وتسخر المافيات لمآربها وتثير الفوضى والاضطرابات السياسية وتشتري الذمم وتنهب ثروات تلك البلاد وهم نصارى على دينها ويحكمون بمبدئها الرأسمالي؟! وهي في صراع مع أخواتها الاستعمارية الأوروبية وأحدث مثالين على ذلك صفقة الغواصات الفرنسية لأستراليا فسلبتها من فرنسا، ولحد الآن تمنع ألمانيا من افتتاح وتشغيل خط السيل الشمالي2 لنقل الغاز من روسيا مع أن الخط قد تم إنشاؤه! وهناك كثير من الأمثلة لا يتسع المجال لذكرها. فهل ينتظر من أمريكا التي تتبنى الرأسمالية مبدأ لها والاستعمار طريقة وفي كثير من الأحيان هدفا لها أن تصبح دولة يؤمن جانبها حتى تعاد الثقة بها؟! فحركة طالبان تحفر قبرها بيديها إذا استمرت بهذه السياسة!

وهي تترامى على عقد اتفاقات تراضي أمريكا وغيرها على حساب مبدئها فتجعل أمريكا تماطل في عقد مثل هذه الاتفاقات وتؤخر الإفراج عن الأموال، حتى تبتز الحركة أكثر وأكثر وتطلب منها التنازلات. وهذا أسلوب تستعمله أمريكا كما تستعمله دول استعمارية أخرى. وقد استعملته مع عميلها عمر البشير في السودان فعمل على مراضاة أمريكا وغيرها فبدأت تبتزه وتطلب منه المزيد من التنازلات فتنازل عن جنوب السودان وألغى أحكاما شرعية وعدل في الدستور وعقد اتفاقات مع المتمردين العملاء، وظلت تماطل به حتى ثار عليه الناس وعندئذ تخلت عنه وأتت بعملاء آخرين يخلفونه ليكملوا مسيرته في تقديم التنازلات.

فهذه الطريق التي تسلكها حكومة حركة طالبان أو "الإمارة الإسلامية" محفوفة بالمخاطر ومصيرها مظلم. فيجب أن تتخذ سياسة الحيطة والحذر وعدم الثقة في المستعمرين سواء أمريكا أو غيرها من الدول الاستعمارية والطامعة ومن يتبعها أو يدور في فلكها، فلا تسعى لعقد مثل هذه الاتفاقات، وأن تتخذ سياسة الاستعداد للقتال في مواجهة هذه الدول ولا تغفل لحظة، وتتخذ الإسلام ركيزة للسياسة الخارجية بحيث يكون هدفها حمل الدعوة الإسلامية للعالم ومنها العمل على توحيد البلاد الإسلامية في ظل دولة واحدة، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست