التطبيع مع كيان يهود: تمادي الحكام يقابله ثبات الأمة
التطبيع مع كيان يهود: تمادي الحكام يقابله ثبات الأمة

الخبر:   تناقلت وسائل الإعلام المحلية والعربية خبر طرد وفد كيان يهود، الذي كان على رأسه وزير الدفاع السابق، عمير بيرتس، من البرلمان المغربي، بعد تلاسن وتدافع، يوم الأحد (2017/10/08)، إلى المغرب للمشاركة في المناظرة الدولية التي تقيمها الجمعية البرلمانية لدول البحر المتوسط ومجلس المستشارين حول موضوع "تسهيل التجارة والاستثمارات في المنطقة المتوسطية وإفريقيا". وتم رفع الجلسة بعد أن طرد وفد كيان يهود، الذي شمل بالإضافة إلى بيرتس، المتصهين مجلي وهبي، الذي علا صوته بالشتائم والصراخ. وقبل وصول وفد كيان يهود، طالبت منظمة العمل الوطنية من أجل فلسطين، والتي تنشط ضد التطبيع مع كيان يهود في المغرب، من رئيس الغرفة الثانية بالبرلمان المغربي، حكيم بن شماش، طرد الوفد وعدم إشراكه في المناظرة.

0:00 0:00
Speed:
October 09, 2017

التطبيع مع كيان يهود: تمادي الحكام يقابله ثبات الأمة

التطبيع مع كيان يهود: تمادي الحكام يقابله ثبات الأمة

الخبر:

تناقلت وسائل الإعلام المحلية والعربية خبر طرد وفد كيان يهود، الذي كان على رأسه وزير الدفاع السابق، عمير بيرتس، من البرلمان المغربي، بعد تلاسن وتدافع، يوم الأحد (2017/10/08)، إلى المغرب للمشاركة في المناظرة الدولية التي تقيمها الجمعية البرلمانية لدول البحر المتوسط ومجلس المستشارين حول موضوع "تسهيل التجارة والاستثمارات في المنطقة المتوسطية وإفريقيا". وتم رفع الجلسة بعد أن طرد وفد كيان يهود، الذي شمل بالإضافة إلى بيرتس، المتصهين مجلي وهبي، الذي علا صوته بالشتائم والصراخ.

وقبل وصول وفد كيان يهود، طالبت منظمة العمل الوطنية من أجل فلسطين، والتي تنشط ضد التطبيع مع كيان يهود في المغرب، من رئيس الغرفة الثانية بالبرلمان المغربي، حكيم بن شماش، طرد الوفد وعدم إشراكه في المناظرة.

وجاء في رسالةٍ وجهتها إلى بن شماش "إن مجموعة العمل تطالبكم باسم كل مكوناتها وباسم أطياف الشعب المغربي، بالعمل الفوري على طرد عصابة الصهاينة بقيادة المجرم (عمير بيرتس)، تجاوبا من المؤسسة التشريعية مع الإرادة الشعبية الرافضة لكل أشكال التطبيع".

وأضافت أن "الشعب المغربي ما فتئ يعبر عن رفضه المطلق ومواجهته لكل أشكال ومظاهر التطبيع الصهيوني، كما أن الشخص المذكور هو موضوع شكاية جنائية أمام القضاء المغربي والدولي، لمسؤوليته عن المجازر وجرائم الإبادة وجرائم الحرب والجرائم ضد الإنسانية والإرهاب".

وأدانت المجموعة حضور وفد كيان يهود باعتباره "جريمة تطبيعية كبيرة بحق المغرب والمغاربة وبحق الشعب الفلسطيني، وخدمة مجانية للكيان الصهيوني وتبييضًا لوجه الاحتلال وتزكية لجرائمه".

وأعربت كل من الكتل البرلمانية لحزب العدالة والتنمية، ونقابة الاتحاد المغربي للشغل، ونقابة الكونفدرالية الديمقراطية للشغل، أمس السبت، في بيان لها "تلقيها باستهجان كبير خبر حضور وزير الدفاع الصهيوني السابق، ومجرم الحرب عمير بيرتس إلى جانب صهاينة أعضاء في الكنيست، للمشاركة في أشغال المناظرة الدولية". وأضافت الكتل في بيان أصدرته أن هذا الحضور "تم الترتيب له في سرية تامة خارج أجهزة مجلس المستشارين ومؤسساته التقريرية".

في الوقت الذي احتج فيه النواب على حضور "عمير بريتس"، وزير الحرب السابق في كيان يهود، لم يتردد أيوب قرا، وزير الاتصال في الكيان المسخ في استفزازهم، ووصفهم بأوصاف قدحية داخل قبة إحدى قاعات مجلس النواب حيث خاطب أحد المحتجين بقوله: "أنت لست الملك، والقافلة تسير، وكمل من عندك"، في إشارة إلى المثل الشهير "القافلة تسير والكلاب تنبح".

التعليق:

مرة أخرى يتبين أن الأمة في وادٍ وأن حكامها في واد آخر، فبينما يكره الناس كيان يهود وممثليه ويلفظونهم ويرفضون مجرد رؤيتهم، يخترع الحكام المناسبات لاستدعائهم ولقائهم ضاربين عرض الحائط بمشاعرهم. وبينما يدعي الحكام أن هذه المؤسسات النيابية تمثل الناس، ها هي تتآمر في الخفاء وتقوم بما لا يرضى به الناس.

إن الأعمال التطبيعية مع كيان يهود في المغرب على الصعيد التجاري والسياسي لم تتوقف يوماً ولكنها تظهر وتختفي لاستمزاج آراء الناس وتمرير التطبيع بجرعات مخففة. لكنها في كل مرة تظهر تلقى نفس الرفض والمجابهة نفسها من قبل أهل المغرب الأغيار.

إلا أن حادث اليوم تميز بجرعة إضافية من الجرأة تجلت في ارتفاع صوت مجلي وهبي (نائب درزي في الكنيست في كيان يهود) بالشتائم والصراخ، ووصف أيوب قرا، وزير الاتصال في كيان يهود المحتجين بالكلاب، حيث قال: "القافلة تسير، وكمل من عندك"، وقوله "أنت لست الملك" مما يعني بوضوح أن زيارة وفده تمت بمباركة من الملك وعليه فلا أحد يحق له الاعتراض، وللوفد أن يأتي إلى المغرب ويجتمع بمن يشاء، وله أن يصرخ في وجه من يعترض من أهل البلد بل وأن يشتمه إن أراد! إلى هذا الحد وصلت الأمور...

طبعاً لا داعي لأن يُلام حزب العدالة والتنمية الحاكم "الإسلامي" لسماحه بمثل هذا الأمر، فلم يعد يخفى على أحد أن هذا الحزب لا يملك من الحكم شيئاً، وأنه كباقي الأحزاب مجرد ممثل بسيط بدور ثانوي في مسرحية يحرك خيوطها القصر فيوزع الأدوار كيف يشاء ويُدخل إلى الساحة السياسية من يشاء ويخرج منها من يشاء.

لقد أسقط القصر، قصداً أو من غير قصد، فكرة مسؤولية الأحزاب عما يجري على الساحة السياسية وأحرق السواتر التي كان ينسب إليها التقصير والفساد، وأصبح واضحاً للجميع أن الآمر الناهي الوحيد في البلاد هو القصر ومستشاروه. أما الأحزاب فإن أقصى ما تطمح في الوصول إليه بالنظر إلى ضعفها وميوعتها وضحالتها الفكرية، هو نيل رضا القصر والفوز بمنصب هنا أو هناك فتكون أداة بيده يستخدمها كيف يشاء، وتنال مقابل ذلك الإذن بأن ترتع في أموال المسلمين وتنال شيئاً من فتات كعكة الحكم الذي يلقيه إليهم القصر!

هذا للأسف هو واقع الوسط السياسي في المغرب، لا يعكر "صفوه" إلا بعض المخلصين الذين يتلمسون الطريق هنا وهناك، وحملة الدعوة الذين يعملون في الأمة ومعها متوكلين على الله راجين منه أن يفتح لهم أفئدة الناس كي تهوي إلى الحق وتلتف حول دعوة الخير.

إن الأعمال التطبيعية مع كيان يهود ستستمر على الأرجح في منحى تصاعدي، ما دامت الأوامر الصادرة من الغرب تسير في هذا الاتجاه وما دام حكامنا لا يملكون إلا تنفيذ ما يصلهم من أوامر، وإن الحل الوحيد هو في إيجاد قيادة لا تأتمر بأوامر الغرب ولا تحني رأسها إلا إلى ربها، وإن الطريق إلى ذلك واضح لمن كان يبحث عن الحق.

وفي الأخير نقول إن الحق يعلو ولا يُعلى عليه، وإن ليل الظلم مهما طال فإن فجر العدل والخير سيدركه إن عاجلاً أم آجلاً، فليس للظالم أن يغتر ولو رأى أن الله يملي له، وليس للمظلوم أن ييأس ولو رأى تمادي الظلم، فبين لحظة وانتباهتها يغير الله الحال من حال إلى حال، وإن غداً لناظره لقريب.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست