التوقيع على اتفاقية عنتيبي وزيادة الاحتقان في المنطقة لمصلحة من؟
التوقيع على اتفاقية عنتيبي وزيادة الاحتقان في المنطقة لمصلحة من؟

الخبر:   تؤكد مصادر صحفية في الخرطوم عن شروع خبراء سودانيين على دراسة إمكانية انضمام البلاد لاتفاقية عنتيبي 2010م، بعدما رفضتها لسنوات خشية تأثيرها على حصة السودان من مياه النيل البالغة نحو 18.5 مليار متر مكعب ومدى مساهمة ذلك في حل الخلافات بينه وبين القاهرة وإثيوبيا بشأن سد النهضة الإثيوبي من جهة، وتأثر علاقاته مع مصر وحدها من الجهة الأخرى (الجزيرة)

0:00 0:00
Speed:
May 13, 2016

التوقيع على اتفاقية عنتيبي وزيادة الاحتقان في المنطقة لمصلحة من؟

التوقيع على اتفاقية عنتيبي وزيادة الاحتقان في المنطقة لمصلحة من؟

الخبر:

تؤكد مصادر صحفية في الخرطوم عن شروع خبراء سودانيين على دراسة إمكانية انضمام البلاد لاتفاقية عنتيبي 2010م، بعدما رفضتها لسنوات خشية تأثيرها على حصة السودان من مياه النيل البالغة نحو 18.5 مليار متر مكعب ومدى مساهمة ذلك في حل الخلافات بينه وبين القاهرة وإثيوبيا بشأن سد النهضة الإثيوبي من جهة، وتأثر علاقاته مع مصر وحدها من الجهة الأخرى (الجزيرة)

التعليق:

تضم اتفاقية عنتيبي 13 بندا، بينها بند الانتفاع المنصف والمعقول بموارد مياه نهر النيل، الذي أثار جدلا بين دول الحوض التي وقّع بعضها ورفضها البعض الآخر؛ مثل مصر والسودان والكونغو، وبموجب القانون الدولي فمن الممكن أن تدخل اتفاقية عنتيبي حيز التنفيذ في حال مصادقة ثلثي دول حوض النيل، أي ست دول من أصل عشر، والجدير بالذكر أن المبادرة لا تعترف باتفاقيتي 1929 و1959 المتعلقة بحقوق دول حوض النيل في مياه النيل. وعنتيبي أعطت إثيوبيا الحق في إقامة سد النهضة الكارثي بكل ما تحمل هذه الكلمة من معنى، على مصر والسودان، ولكن بدلاً من رفض إقامة سد النهضة وقع الرئيسان السوداني والمصري على اتفاق آذار/مارس 2015م الذي يعطي إثيوبيا الحق في إقامته مع بعض الترضيات لمصر والسودان، في خطوة غير مدروسة ستكون وبالاً عليهما. والمياه المتجمعة خلف السد في حال انهياره لأي سبب (أسباب طبيعية متوقعة في هذه المنطقة المشهورة بالحركات الأرضية)، أو بسبب الحروب والاضطرابات، والتي هي واقع معاش في منطقة عرفت بالاضطراب والغليان لعقود، ستتجه المياه شمالاً في اتجاه السودان ومصر ومبتعدة عن إثيوبيا. في حالة المساس بسد النهضة الإثيوبي أو انهياره لأي سبب، سيعني ذلك فناء حتمياً لكل السدود على امتداد النهر وفناء مصر والسودان، بالإضافة للمياه الهائلة التي ستتدفق على السودان ومصر وتحصد في طريقها الأخضر واليابس.

في رده على الأخبار بإمكانية انضمام السودان لاتفاقية عنتيبي، قال الخبير في ملف المياه ومدير مياه النيل السابق في وزارة الري السودانية حيدر يوسف، إن هناك توجيهاً من نائب رئيس الجمهورية لوزير الري قبل ستة أشهر بعدم مناقشة أمر توقيع الإطار القانوني للمبادرة المعروف باتفاقية عنتيبي.

ومع تحفظ كافة الجهات المعنية بملف مياه النيل في وزارة الموارد المائية والري في السودان على التعليق بهذا الخصوص، فإن خبراء مستقلين انقسموا حول فوائد تلك الاتفاقية ومدى تأثير توقيعها على العلاقة مع مصر، أما وزير الموارد المائية والكهرباء السوداني معتز موسى، فقد أحجم عن الإشارة لأي موقف جديد بشأن اتفاقية عنتيبي.

الخبير في ملف مياه النيل أحمد المفتي يرى أن تحفظات السودان على اتفاقية عنتيبي ليست كثيرة ويمكن أن يتم مراعاتها وتجاوز الأسباب التي تمنعه من التوقيع بسرعة، مشيرا إلى أن السودان كان صاحب الدور الأكبر في جمع دول حوض النيل حول المبادرة والاتفاقية، لكنه يرفض المساس بحقوقه المكتسبة في مياه النيل والانتقاص منها مما يعني ويؤكد أن توقيع السودان على اتفاقية عنتيبي أمر وارد، بل ستكشف مقبل الأيام عن توقيع يروج له بالمصالح الآنية الأنانية.

على الجانب المصري ردود الفعل تتضمن مزيداً من التوتر والصراع على المصالح، رئيس وحدة حوض النيل بمركز الأهرام هاني رسلان، قال إن السودان إذا وقعت على اتفاقية "عنتيبي" لمياه النيل فهذا ليس له إلا معنى واحداً فقط، وهو أن كل الخسائر التي تحدث سوف تقع على دولة المصب مصر، ما قد ينتج عنه نزاعات جديدة بين مصر والسودان بالمستقبل القريب (الحدث) والسؤال الذي يفرض نفسه لمصلحة من يتم التوقيع على هذه الاتفاقية؟

وهكذا تتكشف كل يوم ضحالة عقول حكام المسلمين، الذين لا يفكرون في مصالح أمتهم، بل هم مجرد أدوات لتنفيد الفوضى الخلاقة؛ النظريات الخطيرة والحساسة، التي تتبناها الولايات المتحدة حالياً تجاه العالم عموماً والشرق الأوسط والمنطقة الإسلامية بخاصة، إذ أصبحت أسلوباً جديداً لإدارة وتوجيه مصالحها وأهدافها، لا شك في أن بلدان منطقة الشرق الأوسط تعيش حالياً مأساة تطبيق مراحل هذه النظرية، من صراعات داخلية تستهدف فقط حفظ المصالح الأمريكية في منطقة الشرق الأوسط وإفريقيا، والمتمثلة في تدفق إمدادات النفط والموارد الطبيعية الأخرى وكذلك حماية كيان يهود، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله e: «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَأمة». سنن ابن ماجه.

إن خليفة المسلمين وإمامهم الجنة؛ الذي يبايع على كتاب الله وسنة رسوله عليه الصلاة والسلام، لن يكون أداة تنفيذ لسياسة الكفار، بل سيكنس الكفار وسياساتهم وأتباعهم كنسا، ينظف أمة الإسلام من الذل والصغار والتدمير؛ الذي حل بها من جراء حكام السوء فتنهض الأمة من سباتها لتحيا بعز وكرامة، وتتمتع بثرواتها التي حولها الحكام اليوم لنقمة بخضوعهم المذل لسياسات أسيادهم المستعمرين، وتمكينهم من هذه الثروات.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار - أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست