الوحدة قوة ولا يخاف الوحدة إلا أعداء الأمة
الوحدة قوة ولا يخاف الوحدة إلا أعداء الأمة

الخبر: قام حزب التحرير/ إندونيسيا بسلسلة من الندوات والمسيرات لرفع راية رسول الله في 36 مدينة في إندونيسيا خلال شهر نيسان/أبريل لتعريف الأمة براية رسول الله التي تمثل رمزا لوحدة الأمة الإسلامية ولتذكيرهم بوجوب العمل لإقامة الخلافة التي هي الطريقة الوحيدة لتطبيق الإسلام وحمله رسالة إلى العالم والحل الجذري للقضايا التي يعانون منها. وعلى الرغم من شدة المحاولات للحيلولة دون عقد هذه البرامج؛ فقد انعقدت بنجاح مع بعض التعديلات من حيث الأشكال والأمكنة، وقد بدأت هذه البرامج في 2 نيسان/أبريل من مدينة أتشيه والتي ستتوج في جاكارتا في 23 نيسان/أبريل القادم. وقال معتمد حزب التحرير في إندونيسيا الأستاذ رحمة لبيب حين إلقاء كلمته خلال نفس البرنامج في مدينة باندونج: "إن الذي يعمل للحيلولة دون قيام الخلافة كمثل رجل يريد أن يمنع الشمس من الإشراق" (18 نيسان/أبريل، https://hizbut-tahrir.or.id)...

0:00 0:00
Speed:
April 21, 2017

الوحدة قوة ولا يخاف الوحدة إلا أعداء الأمة

الوحدة قوة ولا يخاف الوحدة إلا أعداء الأمة

الخبر:

قام حزب التحرير/ إندونيسيا بسلسلة من الندوات والمسيرات لرفع راية رسول الله في 36 مدينة في إندونيسيا خلال شهر نيسان/أبريل لتعريف الأمة براية رسول الله التي تمثل رمزا لوحدة الأمة الإسلامية ولتذكيرهم بوجوب العمل لإقامة الخلافة التي هي الطريقة الوحيدة لتطبيق الإسلام وحمله رسالة إلى العالم والحل الجذري للقضايا التي يعانون منها. وعلى الرغم من شدة المحاولات للحيلولة دون عقد هذه البرامج؛ فقد انعقدت بنجاح مع بعض التعديلات من حيث الأشكال والأمكنة، وقد بدأت هذه البرامج في 2 نيسان/أبريل من مدينة أتشيه والتي ستتوج في جاكارتا في 23 نيسان/أبريل القادم. وقال معتمد حزب التحرير في إندونيسيا الأستاذ رحمة لبيب حين إلقاء كلمته خلال نفس البرنامج في مدينة باندونج: "إن الذي يعمل للحيلولة دون قيام الخلافة كمثل رجل يريد أن يمنع الشمس من الإشراق" (18 نيسان/أبريل، https://hizbut-tahrir.or.id)...

التعليق:

إن وحدة الأمة الإسلامية هي فرض من الله سبحانه وتعالى حيث قال: ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾، وقال: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾، وقال رسول الله r: «المسلمون أمة واحدة من دون الناس..» لذلك فلا يجوز أن يكون الاختلاف بين المسلمين في ألوانهم، أو لغتهم أو أقطارهم، أو مكانتهم في المجتمع، أو مذاهبهم الفقهية، أو تجمعاتهم السياسية، لا يجوز أن يكون ذلك سببا في فرقتهم أو عدم وحدتهم.

ووحدة الأمة الإسلامية مبنية على أصل ثابت، فحينما تمسك المسلمون بهذا الأصل كانوا أمة واحدة من دون الناس، وهذا الأصل هو كلمة التوحيد "لا إله إلا الله محمد رسول الله" وهو كتاب الله وسنة رسوله r. هذا الأساس العقائدي له مظاهر عملية كثيرة وله رموز يجب الحفاظ علىيها لبقاء الأصل. هذا فضلا عن أن كل المظاهر والشعائر والرموز في الإسلام في الوقت نفسه هي الشرائع للأمة الإسلامية التي أمرهم الله بأخذها ولا يجوز تبديل غيرها بها بحال من الأحوال، فإن الجوهر والمظهر أمران متلازمان فكما يقال "الإناء بما فيه ينضح".

ومن هذه المظاهر للوحدة الإسلامية هو العَلَم وهو في الإسلام: لواء رسول الله r الأبيض ورايته السوداء، المكتوب فيهما "لا إله إلا الله محمد رسول الله" كما هو مبين في الأحاديث الصحيحة. وهذه الراية لا تساويها راية حيث إنها تفدى بالأموال والأرواح والأولاد، تجمع الأمة كلها عربهم وعجمهم مهما تباعدت أقطارهم، وحتى في إندونيسيا البعيدة عن مركز الدولة الإسلامية حينذاك، والأدلة على ذلك باقية حتى الآن، منها ما أعرب عنه سلطان حمينكوبو وونو العاشر، في مؤتمر الأمة الإسلامية السادس في جوكجاكارتا، في سنة 2015: "إن سلطاناً تركياً في سنة 1479 قلد ردين فتاح (سلطان ديماك الأول) كخليفة الله في أرض جاوى والنائب للخلافة الإسلامية في تركيا، وهذا التقليد صاحبه إعطاء الراية بلون بنفسجي مائل إلى السواد مكتوب فيها عبارة "لا إله إلا الله"، والعلم الآخر مكتوب فيه عبارة "محمد رسول الله"، ونظيراهما حتى الآن محفوظان في قصر جوكجاكارتا علامة على صحة سلطان هادينينجرات النائب للخلافة في تركيا".

وهكذا بقيت الراية عزيزة في النفوس يقاتل من تحتها، لأنها تمثل الأمة وعقيدتها، وكتاب ربها، وسنة نبيها، وتاريخها. لأجل ذلك على كونها قطعة من قماش لكنها كانت تخوّف أعداء الأمة الإسلامية على مر العصور، فحاولوا نزعها من الأمة الإسلامية وتبديل غيرها بها من الرايات. وقد فعلوا ذلك حينما تمكنوا من إسقاط دولة الخلافة وبنوا على أنقاضها دويلات استعمارية فرسموا للمسلمين الحدود والسدود، والدساتير والقوانين، وبدلوا راية المسلمين لأكثر من خمسين قطعة من رايات جاهلية لا تنبني على الكتاب ولا على السنة، بل هي على نقيض ما قرره الكتاب والسنة.

لأجل ذلك، لما رفعت هذه الراية اليوم، راية "لا إله إلا الله محمد رسول الله" في البلاد الإسلامية، في سوريا، ومصر، وتونس، ولبنان، والأردن، وفي أكبر البلاد الإسلامية مساحة وسكانا مثل إندونيسيا، ذهل أعداء الأمة وجن جنونهم، هل تعود راية التوحيد من جديد؟ هل تعود خلافتها التي كانت ترفعها لقرون من الزمان..؟ أليس ذلك يعني عودة المسلمين إلى الجذر وإلى وحدتهم، فقاتلوا كل من حملوها حتى في بلاد كانت نموذجا للتسامح والتعددية كإندونيسيا كما زعموا. نعم وقد فزعوا من وحدة الأمة التي لا تعني إلا عودة قوتهم وسلطانهم. ومعلوم أنه لا يخاف الوحدة إلا الأعداء ومن تعلق بحبلهم بعلم أو بغير علم.

وحيث إن هذا الشعار مبني على أساس متين وهو أساس التوحيد مبين في السنة وحتى في تاريخ بلدان المسلمين التي تجمعها الخلافة، فلا سبيل إلى حربه إلا عن طريق التهديد والترويع لمن حمله، ثم التهمة بأنه مكر ودعوة للتفرقة بعد إخفاقهم في التشكيك بمشروعيته وتشويه سمعته بأنه عَلم للحركات الراديكالية. ولكن كل هذه المحاولات هي فاشلة أمام وعي الأمة الإسلامية في سبيل استعادة مجدهم ووحدتهم واسترجاع سلطانهم وإقامة خلافتهم. ويكفيهم قول الله سبحانه وتعالى: ﴿مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فِلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُوْلَئِكَ هُوَ يَبُورُ﴾ [سورة فاطر: 10]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست