الولايات المتحدة توهم روسيا بالنصر فيما تعمل على تخويف واستقطاب أوروبا
الولايات المتحدة توهم روسيا بالنصر فيما تعمل على تخويف واستقطاب أوروبا

الخبر: أجرى رئيس الوزراء البولندي، دونالد توسك، مقابلة مع وسائل الإعلام الأوروبية حذر فيها من أن أوروبا قد دخلت "عصر ما قبل الحرب" وأنه إذا حققت روسيا النصر على أوكرانيا، فلن يشعر أحد في القارة بالأمان. وقد جاءت تصريحاته يوم 29 آذار/مارس، اليوم الذي أطلقت فيه روسيا هجوماً ضخماً آخر على منشآت الطاقة الأوكرانية باستخدام الصواريخ والطائرات بدون طيار. (بي بي سي)

0:00 0:00
Speed:
April 06, 2024

الولايات المتحدة توهم روسيا بالنصر فيما تعمل على تخويف واستقطاب أوروبا

الولايات المتحدة توهم روسيا بالنصر فيما تعمل على تخويف واستقطاب أوروبا

(مترجم)

الخبر:

أجرى رئيس الوزراء البولندي، دونالد توسك، مقابلة مع وسائل الإعلام الأوروبية حذر فيها من أن أوروبا قد دخلت "عصر ما قبل الحرب" وأنه إذا حققت روسيا النصر على أوكرانيا، فلن يشعر أحد في القارة بالأمان. وقد جاءت تصريحاته يوم 29 آذار/مارس، اليوم الذي أطلقت فيه روسيا هجوماً ضخماً آخر على منشآت الطاقة الأوكرانية باستخدام الصواريخ والطائرات بدون طيار. (بي بي سي)

التعليق:

يوضح تحليل الأحداث التي وقعت خلال الأشهر الماضية حول الغزو الروسي لأوكرانيا أن الولايات المتحدة، في هذه المرحلة، تضع الأهداف التالية فيما يتعلق بروسيا ودول الاتحاد الأوروبي:

1- فيما يخص أوروبا، ترغب الولايات المتحدة، بعد أن أوقفت تمويل أوكرانيا مؤقتاً، في زيادة مشاركة الدول الأوروبية بشكل أكبر في الأزمة الأوكرانية.

لذلك، تقوم الحكومة الأوكرانية، التي تخضع بالكامل لتأثير الولايات المتحدة، بالتعاون من خلال إعلان أن أوكرانيا يمكنها التعامل بدون مساعدة أمريكية إذا لعب حلفاؤها الأوروبيون دوراً أكثر نشاطاً.

من الواضح أن الدول الرئيسية في أوروبا، مثل فرنسا وألمانيا، بالإضافة إلى دولة نشطة أخرى مثل بولندا، بحكومتها المؤيدة لأوروبا حالياً، ترى هذا الوضع كفرصة لكسب بعض النفوذ على الأقل في الأزمة الأوكرانية.

وبالتالي، في خطابه بمناسبة عيد الفصح، دعا المستشار الألماني أولاف شولتس الألمان إلى الاتحاد ضد التهديد الروسي وتعزيز الدعم لأوكرانيا.

أما بالنسبة لفرنسا، فكما تعلمون، في اجتماع دعم أوكرانيا، الذي دعا إليه رئيسها، إيمانويل ماكرون، في 26 شباط/فبراير، أعلن عن تشكيل ائتلاف من الأسلحة طويلة المدى لأوكرانيا وقال إن الناتو يمكن أن يرسل قوات عسكرية إلى أوكرانيا.

وفي وقت سابق، شجع مستشار الأمن القومي للرئيس الأمريكي، جيك سوليفان، الرئيس الفرنسي، قائلاً إن إيمانويل ماكرون، كزعيم دولة ذات سيادة، له كل الحق في النظر في إمكانية إرسال قوات إلى أوكرانيا.

تهدف تصريحات رئيس وزراء بولندا، ورئيس فرنسا، وغيرهما من قادة أوروبا، إلى تحضير الرأي العام في شعوبهم لصالح زيادة الإنفاق على أوكرانيا.

على ما يبدو، تدرك أوروبا أنها لن تعمل على الجلوس خلف ظهر الولايات المتحدة، لأن حليفها في الخارج، بتقاعسه المزعوم، يشجع روسيا عمدا على التصعيد في أوكرانيا.

ومع ذلك، لا توجد حالياً أي مؤشرات على أن الانخراط الأوروبي سيضعف نفوذ الولايات المتحدة في أزمة أوكرانيا. بل على العكس من ذلك، فإن قبضة أمريكا الكاملة على الموقف لا تترك أي فرصة للمشاركين الآخرين في التنافس الدولي.

2- أما بالنسبة لروسيا ذات الرؤية الضيقة، فإن الولايات المتحدة تريد إلحاق ضرر أكبر بالقوة الاقتصادية والعسكرية لموسكو من خلال إيجاد الوهم لدى القيادة الروسية بأن الدعم الغربي لأوكرانيا قد ضعف، وأن الوقت مناسب الآن لإجبار أوكرانيا على الجلوس إلى طاولة المفاوضات.

وقع بوتين في هذا المكر الأمريكي، فقد كثف عملياته الهجومية في شرق أوكرانيا، بالإضافة إلى قصف الأراضي الأوكرانية. على سبيل المثال، استؤنفت الهجمات الضخمة على البنية التحتية للطاقة، التي تبدو غير مناسبة، بل وغبية أيضاً، في ضوء حقيقة أننا في منتصف الربيع، وقدرة أوكرانيا على إسقاط الصواريخ أكبر بكثير مما كانت عليه من قبل.

ولتضليل روسيا، تستخدم الولايات المتحدة بمهارة المناقشات في الكونغرس بين الحزبين، وتطرح أيضاً في المجال المعلوماتي توقعات غير مناسبة بأنه مع قدوم دونالد ترامب إلى السلطة، سينخفض الدعم لأوكرانيا بشكل كبير، إن لم يتوقف تماماً.

كمثال على كيفية فرض فكرة الخلافات المزعومة الموجودة بين قيادة الولايات المتحدة وأوكرانيا على روسيا، يمكن الإشارة إلى الوضع المحيط بهجمات على مصافي النفط الروسية.

وهكذا، من ناحية، صرح المتحدث باسم وزارة الخارجية الأمريكية، ماثيو ميلر: "...نحن لا نشجع أو ندعم هجمات أوكرانيا خارج أراضيها".

ومن ناحية أخرى، رد مستشار رئيس مكتب رئيس أوكرانيا، إم. بودولياك، على مقال صادم نشرته صحيفة فاينانشال تايمز بأن الولايات المتحدة طلبت من أوكرانيا التوقف عن الهجمات على البنية التحتية النفطية الروسية بالكلمات التالية: "هذه معلومات خيالية. بعد عامين من حرب شاملة، لن يملي أحد على أوكرانيا شروط خوض هذه الحرب".

من السذاجة الاعتقاد بأن مثل هذه الهجمات واسعة النطاق داخل الأراضي الروسية تحدث بدون موافقة الولايات المتحدة، فضلاً عن المساعدة الأمريكية في التخطيط وتوفير المعلومات الاستخباراتية اللازمة لمثل هذه الهجمات.

بخصوص الأمر، يجب القول إن الولايات المتحدة تواصل هيمنتها على أزمة أوكرانيا. وكل ما حدث في الأشهر الأخيرة يكشف عن تصرفات أمريكا الهادفة، من ناحية، إلى تشجيع روسيا، التي تمت قيادتها واستفزازها، على التصعيد الإضافي في أوكرانيا، وأيضا بهدف إضعاف نظام بوتين أكثر، ومن ناحية أخرى، إجبار أوروبا على الانخراط بشكل أكثر نشاطاً في المواجهة مع روسيا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست