اليمن منطقة صراع بين أمريكا وبريطانيا
اليمن منطقة صراع بين أمريكا وبريطانيا

الخبر:   رحبت الولايات المتحدة والاتحاد الأوروبي ليل الخميس/ الجمعة، بالإعلان عن تشكيل مجلس القيادة الرئاسي في اليمن. وجاء في بيان لوزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن: "تدعم الولايات المتحدة تطلعات الشعب اليمني إلى قيام حكومة فعالة وديمقراطية وشفافة تضم أصواتا متنوعة من السياسيين والمجتمع المدني"، مضيفا أن "الأهم في الأمر أن اليمنيين يستحقون حكومة تحمي الحقوق والحريات، جنبا إلى جنب مع تعزيز العدالة والمساءلة والمصالحة".

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2022

اليمن منطقة صراع بين أمريكا وبريطانيا

اليمن منطقة صراع بين أمريكا وبريطانيا

الخبر:

رحبت الولايات المتحدة والاتحاد الأوروبي ليل الخميس/ الجمعة، بالإعلان عن تشكيل مجلس القيادة الرئاسي في اليمن.

وجاء في بيان لوزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن: "تدعم الولايات المتحدة تطلعات الشعب اليمني إلى قيام حكومة فعالة وديمقراطية وشفافة تضم أصواتا متنوعة من السياسيين والمجتمع المدني"، مضيفا أن "الأهم في الأمر أن اليمنيين يستحقون حكومة تحمي الحقوق والحريات، جنبا إلى جنب مع تعزيز العدالة والمساءلة والمصالحة".

التعليق:

منذ ستينات القرن الماضي والصراع يشتد على اليمن بين أمريكا وبريطانيا المستعمرة القديمة له، أي منذ انقلاب السلال 1962م الذي كانت وراءه أمريكا وأعلنت الجمهورية اليمنية، وبقيت بريطانيا في جنوب اليمن حتى أقامت فيه جمهورية عام 1967، وانسحبت عسكرياً من هناك. وكان النظام المصري الموالي لأمريكا بقيادة عبد الناصر يقود الحرب لحسابها في اليمن الشمالي حتى هزيمة الجيش المصري في حرب 1967م، ومن ثم انسحابه. وعلى إثر ذلك قامت بريطانيا في هذا العام عام 1967 بقلب عبد الله السلال عميل أمريكا وأتت بعملائها إلى الحكم في الشمال. فأصبح الشمال والجنوب تحت السيطرة البريطانية. ولكن الصراع استمر بين الدولتين المستعمرتين القديمة والجديدة بواسطة الانقلابات، إلى أن أتت بريطانيا بعميلها علي عبد الله صالح عام 1978 في الشمال، وكان على رأس النظام في الجنوب سالم البيض. فرأت بريطانيا من أجل المحافظة على نفوذها والوقوف في وجه أمريكا أن توحد شطري اليمن برئاسة عميلها علي عبد الله صالح فتم ذلك عام 1990. وعندما جرت الانتخابات في اليمن عام 1993 وكسبها حزب علي صالح، عدَّها علي سالم البيض قتلاً لنفوذه. فاستغلت أمريكا هذا الأمر واستطاعت أن تضم سالم البيض إلى جانبها فيصبح ولاؤه لها فما كان منه إلا أن أعلن فصل الجنوب في تمرد مكشوف. ولكن بريطانيا بواسطة نظام علي عبد الله صالح وعملائها الآخرين في المنطقة استطاعت أن تفشل هذا التمرد، واستمر النفوذ البريطاني في اليمن، ومع ذلك فلم تتوقف أمريكا عن عملها بواسطة عملائها في الحراك الجنوبي وفي غيره، وأضافت إلى ذلك العمل عن طريق إيران وأتباعها من الحوثي وجماعته الذين بدأوا يقودون تمردا مسلحا منذ عام 2004. وما زال عمل أمريكا مستمرا في اليمن بواسطة عملائها في الحراك الجنوبي وأتباع إيران.

وأمريكا تدرك قوة النفوذ البريطاني في اليمن وتدرك كذلك أن بريطانيا عريقة في دهائها السياسي، صحيح أنها قد ضعفت كدولة عالمية كبرى، وأصبحت لا تستطيع الوقوف في وجه أمريكا بشكل ساخن، لذا فقد انتهجت سياسة مسايرة لأمريكا وعدم مجابهتها بل ترضيها حفاظاً على نفوذ الإنجليز ولو بالتنازل عن شيء من نفوذها لذا أرادت أمريكا بجميع أعمالها أمام قوة رجالات الإنجليز هناك أن تضع لها قدما في اليمن عن طريق الحوثيين وهذا مطلب قابل للتنفيذ كمدخل لأخذ اليمن في صراع طويل فأدخلت الحوثيين في صراع دموي واحتلوا صنعاء وبعض مناطق اليمن بل تمددوا بشكلٍ كبير حتى أدركت أمريكا أنهم وقعوا في ورطة فأرادت منهم القيام بعمل عسكري ليظهروا أنهم الضحية لحين ترى الولايات المتحدة الوقت مناسبا لإجراء حوار مع الحوثيين لتحقيق هدفها فما كان منها عبر أعمال كبيرة وفترة زمنية إلا أن اسقطت هادي الإنجليزي فتشكل مجلسا رئاسيا من خلال السعودية ودورها مع أن الإنجليز أدخلوا جميع رجالاتهم في المجلس رشاد العليمي وسلطان العرادة وطارق صالح مع رجالاتها في الجنوب ليظهروا أنهم كل اليمن أمام فئة قليلة جدا منقسمة على نفسها بين ولاء سياسي لإيران بحجة التشيع وولاء مذهبي زيدي يعادي المذهب والانتقال الجديد حتى تكون لهم حصة تناسب حجمهم الحقيقي ويكون التفاوض على هذا الأساس بدل أن يأخذوا حصة كبيرة. وأمريكا تدرك هذا الأمر لكنها تريد حاليا إدخالهم في الحكم لذا كانت مهمة المجلس الدخول في مفاوضات مع الحوثيين، حيث نص الإعلان الرئاسي على أن يتولى مجلس القيادة الرئاسي إدارة الدولة سياسيا وعسكريا وأمنيا واستكمال تنفيذ مهام المرحلة الانتقالية، بالإضافة إلى قيادة المفاوضات مع الحوثيين بشأن وقف إطلاق النار ووافقت بريطانيا على هذا الأمر نظرا للظرف الدولي وقوة الجوار الأمريكي الإقليمي وإطالة أمد الصراع حيث قالت بريطانيا، يوم الخميس، إنها تتوقع من مجلس القيادة الرئاسي في اليمن العمل بجدية وسرعة نحو المفاوضات السياسية مع الحوثيين.

وفي الختام، فإن الصراع لن يتوقف في اليمن طالما استطاعت أمريكا إدخال الحوثيين في الحكم لتبدأ بعدها في صراع آخر بين طرفي الحكم والحدود والصلاحيات والثلث المعطل ومن خلال وجودهم في الحكم ستعمل أمريكا على زيادة مساحة حصتها في صراع سياسي مستغلة ضعف الإنجليز وقوة وجودها وأدواتها في الإقليم، ومعنى هذا أن الصراع لن ينتهي بتشكيل المجلس من خلال وجود طرفين في الحكم بل ستزداد الأمور شدة لتسير الأمور على أحد أمرين ولو طال الصراع؛ إما أن يتغلب أحدهما على الآخر فتخلص له الأمور، أو أن تتغير الأمور دوليا فيقضي الله أمراً كان مفعولا بإقامة دولة الإسلام وما ذلك على الله بعزيز فتعود اليمن كما كانت الإيمان يمان، أحفاد أويس القرني.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست